اردو زبان و ادب کا تحریری ذخیرہ1800 سے 2017: شمس الرحمن فاروقی

ترجمہ: جاوید احمد خورشید

کلچر اور تاریخ کے بارے میں اکثر یہ کہا گیا ہے کہ یہ دونوں اس طرح آپس میں خلط ملط ہیں کہ کسی ایک کو سمجھنا اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک دوسرے پر غور نہ کیا جائے۔ان دونوں اصطلاحوں کے بارے میں ابہام پھر بھی دور نہیں ہوتا لیکن اس طرح ہمیں ایک نقطۂ آغاز بہر حال میسر آجاتا ہے ۔ قوم کی اصطلاح قدرے نئی ہے جس کی وجہ سے اس پر [معنی اورتناظر]کی مختلف تہیں چڑھ نہیں سکی ہیں۔اس کے برعکس تاریخ کی اصطلاح ایسی ہے جس پروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف معنی کے خول چڑھ گئے ہیں۔جو چیز قوم کی اصطلا ح کو سمجھنے میں زیادہ پُرپیچ بناتی ہے وہ اس کی موجودہ تاریخ ہے۔اس اصطلاح سے جومعنی اور سیاق وابستہ ہے وہ مغربی روشن خیالی (European Enlightenment) کا نتیجہ ہے۔مغربی روشن خیالی بھی وہ جو نوآبادیات (Colonialism) سے منسلک ہے۔ اس سے گویا مفر محال ہے۔قوم(Nation) اور قومیت (Nationalism)کی جدید اصطلاحیں نو آبادیاتی معاشروں سے اس وقت وابستہ ہوئی ہیں جب وہ نوآبادیات کا حصہ بھی نہ تھیں۔نوآبادیات کار(colonizer)نے قوم اور قوم پرستی کے تصورات کو ان معاشروں میں اُس وقت متعارف کرایاجس وقت اُن کی عمل داری یہاں موجود تھی۔
قوم کے بارے میں آغاز ایک عملی تعریف سے کرتے ہیں۔آکسفرڈ انگلش ڈکشنری کو اس تعلق سے اچھی رہنمائی کرنا چاہیے۔یہاں اس تعریف کورقم کیاجاتا ہے جو اس لغت کا ۲۰۰۹ء کا الیکٹرونک ایڈیشن بتاتا ہے:
ا افراد کی ایسی بڑی تعداد جو نسل، زبان اور تاریخ میں مشترک ہواور ایک علیحدہ قوم یانسل کے طورپراپنی شناخت بھی رکھتی ہو۔ایک علیحدہ قومی ریاست کے طور پر جمع ہو، اورعلیحدہ علاقے میں بستی بھی ہو۔موجودہ تناظر میں سیاسی اتحاد اور آزاد ہونے کا تصور زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
اس کے بعد سے ’جدید قومی ریاست‘ کے تصور میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ نہ صرف خود مختار ہوگی بلکہ کسی بھی طاقت ور ملک کو انکار کرنے کا حق بھی اُسے حاصل ہوگا لیکن یہ بات یاد رہے ماضی میں بھی قومی ریاستوں کا وجود تھا اور ان کے پاس خودمختاری اور برتری کا تصور بھی موجود تھا۔ماقبل جدیدیت چین کو ’مڈل کنگ ڈم‘(Middle Kindom) ہونے پر فخر تھا اور اسے باقی دنیا پر برتری بھی حاصل تھی۔ایک طویل عرصے تک یہ غیر قانونی سمجھا جاتا رہا کہ کوئی چین سے کسی اور ملک ہجرت کرجائے۔چین کے افراد اور وہاں کی حکومت کنفیوشس کے اخلاقی معیارات کو تسلیم کرتی تھی۔ یہ تصور کہ ایک قوم کسی دوسری جگہ اپنی حکومت قائم کرے اور وہاں کے وسائل کو اپنے لیے استعمال کرے، یہ خالص روشن خیالی (Enlightenment)کا تصور ہے۔ اس تصور کو مشہور عقلیت پسندلوک(Locke)،ہیوم(Hume) اورایڈمنڈ برک(Edmund Burke) کی تائید بھی حاصل ہے۔
مشرق aکے لوگ مجموعی طو رپر قوم اور قوم پرستی کے تصورات کو پروان نہیں چڑھا سکے۔وہ تاریخ اور ثقافتی طور پر فتح اور دوسرے ملکوں کو اپنی حدود میں شامل کرنے سے آگاہ توتھے لیکن مفتوح ملکوں کو ایک حدود میں قوم کے طور پر ڈھالا جائے ، اور اگر ممکن ہوتو اُن کی زبان بھی تبدیل کر دی جائے اور ان کو ثقافتی طو رپرقریب بھی لایا جائے، یہ ایسے تصورات تھے جو ان کے تصورِ دنیا میں شامل نہ تھے۔ انڈیا میں واراناس(varanas) کا نظام اس وقت سے بھی پہلے موجود تھا جب مسلمانوں کو اور انڈیا کے افراد کو وارانا(varana) کے رکن کے طورپر شناخت کیا گیا تھا۔کافی عرصے بعد تجارت یا فوجی مہمات کی غرض سے مسلمان یہاں آئے۔اُن کے پاس ذات پات کا کوئی تصور نہ تھا لیکن انھوں نے اُن امتیازی رویوں کو فوری طورپر اختیار کرلیاجویہاں کے لوگوں میں عام تھے جن میں ذات یا حادثہ پیدائش کا تصور۔اس کے ساتھ ساتھ وہ شناخت جس کا تعلق ارضی سے تھا، عام ہواجیسے ایرانی، تُرک، افغان، آرمینائی وغیرہ۔انڈیا کے وہ لوگ جنھوں نے اسلام قبول کیاانھیں عام طور پر ’شیخ‘ کے شناخت کیا جاتا تھا لیکن انھوں نے اپنی ثقافتی اور علامتی سرگرمیوں کو اپنے اصل سماجی ماحول میں برقرار رکھا۔تمام مسلمانوں نے جن کاتعلق مقامی ہو یا غیر مقامی ہو انھوں نے اُن ثقافتی اور علامتی سرگرمیوں کو اختیار کیا جن کا تعلق مقامی افراد سے تھا۔

متعدد ملتی جلتی سماجی اور مذہبی رسومات کے باوجود، انڈیا کے ان دو بالکل مختلف عقائد کے حامل افراد خود کو ہندو کے طور پر شناخت کرتے تھے۔ہندو کی اصطلا ح اکثر اوقات لفظ ہندی سے تبدیل ہوجاتی تھی لیکن غیر مذہبی ، قومیت کے تصور سے عاری اور تنگ نظری سے دور تھی۔یہ سلسلہ اٹھارویں صدی کے وسط تک جاری رہا۔ٹیک چند بہار نے اپنی غیر معمولی فارسی لغت (۱۷۶۵ء) میں لفظ ہندو کی صراحت کی ہے:
ہندو: ۔۔۔ساکن ہند۔خان آرزو می فرمایند کہ ہندو قوم مخصوص [است]، و لہٰذا ہر مسلمانے کہ ساکن ایں ملک اند، اطلاق آن نمی تواں کرد۔(بہار عجم،ص۷۷۰)

ترجمہ: ہندو ، ہند کے مقامی افراد ہیں۔خانِ آرزو لکھتے ہیں کہ ہندو ایک خاص قوم ہے۔اس اصطلاح کو مقامی یا شہری مسلمانوں کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ بہار مزید کہتے ہیں کہ خانِ آرزو کے مطابق تغلیب کے باعث لفظ ہندو، انڈین کے لیے عام ہوچکا ہے۔قواعدِ زبان کی رو سے تغلیب کی اصطلاح ایک ایسی حالت کو بیان کرتی ہے جس میں طاقت ور کمزورپر غالب آجاتا ہے۔

یہ طویل اور پیچیدہ کہانی ہے کہ کس طرح ’ہندو‘ کی اصطلاح صرف ہندؤں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے لیکن ایک چیز یقینی ہے کہ خانِ آرزو اٹھارویں صدی کے وسط میں جب اس بحث میں شامل ہوتے ہیں تو یہ دور وہ ہے جب انگریزوں کی سرگرمیاں اور خیالات خاص طور پر وہ خیالات جن کا تعلق قوم او ر مذہب سے ہے ، انڈیا میں عام ہورہے تھے۔ پہلے انگریزوں نے ’جینٹو‘(Gentoo) کا لفظ اپنی زبان میں داخل کیاجس کا مطلب ہندو یا غیر مسلم تھا۔یہودی کلچر ’یہودی‘ اسے تسلیم کرتا ہے جس کا ہبریو(Hebrew)سے تعلق ہواور اس کا مذہب یہودی ہو۔ جین ٹائل(Gentile) وہ قومیں ہیں جو یہودیوں کے علاوہ ہیں۔ابتدائی مغربی تاجر ہمیشہ افرادکے مذہب سے دل چسپی رکھتے تھے اور جب انھیں یہ پتا چلا کہ ہندو ، غیر یہودی (جین ٹائل) ہیں تو انھوں نے لفظ ’ہندو‘ اور جین ٹائل کو ملاکرایک نیا لفظ ’جینٹو‘ وضع کرلیا۔ لفظ ’جینٹو ‘ کے بارے میں آکسفرڈ انگلش ڈکشنری کیا کہتی ہے :

Gentoo: A non-Muslim inhabitant of Hindustan; a Hindu; in South India, one speaking Telugu…
Three hundred slaves, whom the Persians brought in India; Parsees, jentews…and others (1638).
The inhabitants of the Island…were all Gentows, or Gentiles (1727).
یہ وہ بنیادیں ہیں جن کے تحت انڈیا کے افراد کی درجہ بندی کی گئی تھی۔ ان میں کچھ مسلمان اور ان کے علاوہ جینٹو ہیں۔ آکسفرڈ انگلش ڈکشنری میں درج لفظ ہندو کی تعریف یہاں پیش کی جاتی ہے:

Hindu: An Aryan of Northern India (Hindustan) who retains the native religion (Hinduism)…Hence, anyone who professes Hinduism.
The king of Cambaya, who was a hindoo, or Indian, that is , pagan (1663)

اس طرح انڈیا کے مقامی افراد کا مذہب ہندو ازم قرار پاتا ہے۔ خانِ آرزو ایک غیر معمولی محتاط ماہرِ لسان اور لغت نویس تھے۔ اُن کی اُن تبدیلیوں پر بھی نظر تھی جو ہندوستانی کلچر میں انگریزی کے اثرات سے وقوع پذیر ہورہی تھیں۔ٹیک چند بہار تنہا نہ تھے جو ان تبدیلیوں کو محسوس نہ کررہے ہوں بلکہ ان تبدیلیوں کا ادراک اردو شاعروں کو بھی تھا۔ مغرب کے افراد یا ان کے کسی طبقے کے بارے میں اٹھارویں صدی کے اردو ادب میں کچھ نہیں ملتا سوائے اظہار کے کچھ متنازعہ انداز کے ،وہ بھی ان کی غیر دل کش رنگت اور طور طریقوں کی وجہ سے۔ اٹھارویں صدی کے معروف اردو شاعر، دہلی میں سودا،جرأت اور میر لکھنو میں، ان کے یہاں مغرب کے افراد کے بارے میں کچھ نہیں ملتا ۔ جرأت کی ایک مشہور رُباعی ملتی ہے جو انھوں نے لکھنؤ کے نوابوں اور امراء کے بارے میں کہی تھی جنھیں جرأت کٹھ پتلی یا انگریزوں کی پنچروں میں قید بولتے پرندوں کی طرح دیکھتا ہے:

سمجھے نہ امیر ان کو کوئی نہ وزیر

انگریز کے ہاتھ اک قفس میں ہیں اسیر

جو کچھ وہ پڑھائیں سو یہ منھ سے بولیں

بنگالے کی مینا ہیں یہ پورب کے امیر

Let none imagine them to be Emirs or Vaziers
They are in a cage, put there by the English
They talk what the English teach them to utter
These Emirs of the East are indeed mynas of Bangal

جس لفظ کا ترجمہ میں نے’East‘ کیا ہے وہ در اصل پورب ہے۔یہ لفظ ان شاعروں کے لیے مشرق کے معنی میں استعمال ہوتا تھا جو دہلی سے لکھنؤ کی جانب آئے تھے۔جیسا کہ ظاہر ہے کہ یہ اشعار اودھ کی اشرافیہ کی کمزور ی پر ایک الزام ہیں۔ممکن ہے یہ شعر ۱۷۹۷ ء کے بعد کسی وقت کہا گیا ہو جب آصف الدولہ کا انتقال ہوگیا تھا اور انگریزوں نے اس کے بیٹے اور جانشین وزیر علی خان کو نوابی کے منصب سے بے دخل کر کے آصف الدولہ کے سوتیلے بھائی سعادت علی خان کو اس کی جگہ منصب دیاتھا۔
کبھی کبھارانشا انگریزوں پر طنز یہ شعربھی کہتے تھے لیکن اس کے علاوہ ہمیں کہیں ان حالات میں ایسا کوئی احساس نہیں ملتا جو مٹھی بھر غیر مہذب حکومت کرنے والے انگریزوں کے بارے میں ہو ۔ مثال کے طو ر پر:
غلام میں تو ہوں ان صاحبوں کی کھڑ پچ کا
سڑی تو صاحبی اس پر چبوترا گچ کا

I am really slave to the cantankerousness and ill temper of these sahibs
Their sahibi is rotten, of no good, and they lord it over from their raised platform of mixed morter

یخ غلام مصحفی(۱۷۵۰۔۱۸۲۴) وہ واحد شاعر تھے جو ان تبدیلیوں سے باخبر تھے کیوں کہ وطن کے لیے یہ تبدیلیاں کسی بھی طرح مثبت نہ تھیں۔انھوں نے ان تبدیلیوں کا تین طرح سے اظہار کیا:
۱۔ انگریزوں کی لالچ اور منظم لوٹ مار ملک کوواضح طو ر پر معاشی بدحالی کی جانب لے جارہی تھی؛
۲۔ انڈین سے برتاؤ پر انگریزوں کا سخت اور تنگ نظری کا رویہ؛
۳۔ مشین نمااور احساسات سے عاری انگریز حکومت اور دہلی سے کلکتا کی جانب اقتدار کی منتقلی؛
۴۔ انگریزوں کے وہ بڑھتے ہوئے عسکری اور سماجی اثرات جو انڈیا کی شناخت اور رویوں کو نقصان پہنچارہے تھے۔
جدید زمانے میں اس قسم کے رد عمل کو قوم پرستی یا امپیریل مخالف رویہ شمار کیا جاتا ہے۔ مصحفی کے زمانے میں قوم پرستی نام کی کوئی چیز نہ تھی لیکن اس قسم کا تناؤ موجود تھا جو غیر ملکیوں کی موجودگی اور ان کی رسم و رواج کی وجہ سے سامنے آتا تھا۔تقریباً ۱۷۹۶ء کے بعد سے معاشی اور سماجی سطح پر لوٹ مار کے جو واضح شواہدسامنے آئے وہ مصحفی کی شاعری میں بعد کے تین عشروں میں موضوع بنے:
ہندوستان میں دولت و حشمت جو کچھ کہ تھی
ظالم فرنگیوں نے بہ تدبیر کھینچ لی
(دیوان(سوم)، دراطراف۱۷۹۶ء)

Whatever wealth, whatever pomp there was in India,

The tyrannous Firangi pulled it out by stratagem
کلکتے سے خفا تھا دل مصحفی کا یارو

جب تو چلا گیا وہ دکھن بغیر پوچھے

(دیوان(سوم)، دراطراف1796ء)

Mus’hafi’s heart was aggrieved with Calcutta, dear friends
Is that not why he went off to the Deccan without being asked

مصحفی کے کلکتے یا دکن کا سفرا ختیار کرنے کے بارے میں کوئی شہادت نہیں ملتی لیکن شعر میں کلکتا میں موجودانگریز سرکار سے نفرت کا اظہار ہوتا ہے اور شاعر امید کرتا ہے کہ دکن میں حالات مختلف ہوں گے۔قوی امکان اس بات کا ہے کہ دکن سے یہاں مرادٹیپو سلطان کے میسور کی ہوسکتی ہے جن کی ریاست کو انگریزوں نے۱۷۹۹ء میں نہ صرف ختم کردیا تھا بلکہ وسائل کو بھی ہڑپ کرلیا تھا۔ یہ ہمیں بہادر شاہ ظفر کے اس کرب کی بھی یاد دلا تا ہے جس کا کافی دیر بعد انھوں نے تجربہ کیا :
اعتبار صبرو طاقت خاک میں رکھوں ظفر
فوج ہندوستان نے کب ساتھ ٹیپو کا دیا

Precious little trust can I have, oh Zafar, in my fortitude and strength
Did the armies of Hindustan ever stand by the side of Tipu

مصحفی کے کلکتے یا دکن کا سفرا ختیار کرنے کے بارے میں کوئی شہادت نہیں ملتی لیکن شعر میں کلکتا میں موجودانگریز سرکار سے نفرت کا اظہار ہوتا ہے اور شاعر امید کرتا ہے کہ دکن میں حالات مختلف ہوں گے۔قوی امکان اس بات کا ہے کہ دکن سے یہاں مرادٹیپو سلطان کے میسور کی ہوسکتی ہے جن کی ریاست کو انگریزوں نے1799ء میں نہ صرف ختم کردیا تھا بلکہ وسائل کو بھی ہڑپ کرلیا تھا۔ یہ ہمیں بہادر شاہ ظفر کے اس کرب کی بھی یاد دلا تا ہے جس کا کافی دیر بعد انھوں نے تجربہ کیا : اعتبار صبرو طاقت خاک میں رکھوں ظفر فوج ہندوستان نے کب ساتھ ٹیپو کا دیا

How can the Indians ever save their lives from the grasp of the white man?
They don’t do a thing without convening their Council

انگریزوں کے حوالے سے ایک دل چسپ ثقافتی انداز اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ اُ ن کی عورتیں بے پردہ اور خوب زینت کیے باہر نکلتی تھیں اور وہ نیلامی میں جس عامیانہ انداز میں حصہ لیتی تھیں اُسے بے ہودہ نہیں کہا جاسکتا ۔ انگریز خواتین ہلکے رنگو ں میں ملبوس ہوتی تھیں لیکن ان رنگوں میں دل کشی نہ ہوتی تھی۔وہ خود کو سائنسی مزاج کے حامل افراد ظاہر کرتے تھے اور انھیں یقین تھا کہ ان کاطریقۂ علاج اور دیکھ بھال کے انداز دوسروں سے کہیں بہتر تھے۔ میں کچھ اور شعر یہاں پیش کرتاہوں:
میاں مصحفی نیلام میں کل ہم بھی گئے تھے
کر آئے ہیں اک طرفہ فرنگن کا نظارہ
(دیوان(چہارم)، دراطراف۱۷۹۶ء

Hey friend Mushafi, I too went to see the auction yesterday
Well, I certainly observed to the full the delightful sight of a firangi woman

ہے یہ فلک سفلہ وہ پھیکا سا فرنگی رکھتا ہے

مہ وخور سے جو پاس اپنے د و بسکٹ

(دیوان(ہفتم)، دراطراف1820ء)

The mean tempered heaven is that light coloured, vapid firangi
Who has nothing but two biscuits–the sun and the moon

زخم شمشیر نگہ حیف کہ اچھا نہ ہوا

کرنے کو اس کی دوا ڈاکٹر انگریز آیا

(دیوان(ہفتم)، دراطراف1820ء)

How sad, the poor fellow who was wounded by the sword of the beloved’s glance never recovered
An Enlish doctor was broght to treat him

اس میں کئی کنائے ہیں:یہ جس کی نگاہ سے زخمی ہوئے اب اچھے نہیں ہوسکتے؛یہاں تک کہ انگریزی ڈاکٹر بھی کچھ نہیں کرسکتا؛انگریز علاج و معالجے میں ماہر ہونے کا دعویٰ کرتے؛لیکن وہ اچھا نہیں ہوا؛شاید انگریز ڈاکٹر کی توجہ ہی نے اسے مارا!
اب ہم دو اشعار پر نظر ڈالتے ہیں جن میں انگریزوں کی عسکری اور سیاسی حکمتِ عملیوں پرتنقید کی گئی ہے:
مالک الملک نصارا ہوئے کلکتہ لے
یہ تو نکلی عجب اک وضع کے جنجال کی کھال
(دیوان(ہشتم)، ۱۸۲۰ء۔۱۸۲۴ء)

The Christians became God, almighty, masters of all land from Calcutta

Indeed, that turned out to be a strange kind of deep trench–messy and unfortunate

توڑ جوڑ آوے ہے کیا خوب نصارا کے تئیں

فوج دشمن سے وہیں لیتے ہیں سردار کو توڑ

(دیوان(ہشتم)، 1820ء۔1824ء)

How nicely have the Christians mastered the art of breaking and patching!

Right there in trouble, they bribe and win over the enemy’s commander

سراج الدولہ کے عہد میں میر جعفر،ٹیپو سلطان کے عہد میں میر صادق اور کچھ دوسروں کی جنھیں تاریخ نے فراموش کردیا ہے ،ان کے بارے میں گونج یہاں پُر زور انداز میں سنائی دے گی۔
انگریزوں کے بارے میں مصحفی کے خیالات واضح طور پر اس احساس کو ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی حیثیت یہاں اجنبی افراد کی ہے۔جتنے بھی اشعار میں نے پیش کیے ہیں وہ سب ہندوستان اور مسلمانوں کی شناخت کو بیرونی افراد کی جانب سے در پیش مشکلات کے حوالے سے ایک بھر پور احساس کے حامل ہیں۔در اصل یہاں وہ طاقت کے حصول میں کام یاب ہوگئے تھے۔ مصحفی کے خیالات صرف سیاسی نہ تھے بلکہ ان کی شاعری میں اس وقت کے ثقافتی مظاہر کا اچھوتا احساس بھی ملتا ہے۔
یہ لازمی طور پر یاد رہنا چاہیے کہ آج جو ہم ’کلچر ‘ کے بارے میں جانتے ہیں وہ بھی ایک مابعد جدیدیت (post-enlightenment) کا تصور ہے۔اس لفظ کے اصل معنی یعنی’زمین کو پیداوار کے لیے تیار کرنا‘سے جدیدیت کے تصورات تک،ایک فیشن آمیز رویہ ہے لیکن اس کے بارے میں یہ خیال کہ لوگ جن صلاحیتوں کے حامل ہیں انھیں پروان چڑھانا، ایک بہت بعید رویہ ہے۔ثقافت اور تہذیب جیسے الفاظ جو ہم آج کلچر کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ اردو میں جدیدیت سے پہلے استعما ل نہیں ہوتے تھے۔جو اس وقت شناخت یا پسند کیا جاتا تھاوہ ’طرز حیات‘ تھا۔ہر آدمی کا اپنا طرزِ حیات تھا۔نظام الدین اولیاکے مشہور مصرعہ کو جس طرح خسرو نے پیش کیا ہے اس وقت ذہن میںآتا ہے:
ہرقوم راست راہے دینے وہ قبلہ گاہے
ماقبلہ راست کردیم بر طرف کج کلاہے

Each community has a way, a path of life, and a direction in which to pray
‘I chose my right direction facing which I pray–it’s one who wears his cap askew

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پہلامصرعہ نظام الدین اولیا صاحب نے کہا تھااور دوسرا مصرعہ خسرو نے فوری طور پر کہہ دیا تھا۔یہ دونوں مصرعے واضح طور پر اس کی صراحت کرتے ہیں کہ جدیدیت سے پہلے ہندوستان میں اگر کلچر کا لفظ ان کے ذخیرۂ الفاظ میں کہیں ہوتا تو اسی طرح اس کی وضاحت ہوتی ۔جدیدیت سے پہلے اردو لکھنے والوں نے کلچر پر کچھ نہیں لکھا کیوں کہ وہ اس میں جیتے تھے۔یہ ایک ایسا عقائدی نظام تھا جس نے مذہب کو پیچھے چھوڑدیا تھا(خسرو کہتے ہیں کہوہ عبادت قبلہ رو ہوکر نہیں کرتے بلکہ اس رُخ پر کرتے ہیں جہاں نظام الدین اولیا صاحب کرتے ہیں)؛نظام اولیا کو ہر ’راہ‘(دھرم) کے لوگ پسند کرتے ہیں۔
ہندوستان میں جدیدیت سے پہلے اور کئی حوالوں سے آج بھی کلچر ایک علامتوں کاایسا نظام ہے جو آخرت، خدا ، موت اور یومِ جزا کے تصورات سے عاری ہے۔کلچر ایک ایسی چیز نہیں جو عقلی ہویا جسے عقلی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔شیخ باجن،فخرالدین نظامی، شیخ خوب محمد چشتی، محمد قلی قطب شاہ اور پندرہویں صدی کی ابتدا کے اردو شاعر لفظ ہندو استعمال کرتے تھے ۔اسلامی شاعری اور نثر میں وہ اپنی اپنی مذہبی اور روحانی روایات کے حامل تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اردو ادب نے ادبی اور سماجی علامتوں کو اپنے اندرآزادی سے جذب یا اختیار کیا۔مثال کے طور پر ہمارا عقیدہ ہے کہ سری کرشن کا گہرا رنگ تھا۔ اسی لیے ان کے چہرے اور بدن کو نیلے رنگ میں پیش کیا جا تاہے۔ہمارے پاس جمنا ہے جس کا ہلکا سبز مائل نیلا رنگ جو گنگا سے باوجودملے ہونے کے جدا ہے۔ناسخ ان دونوں کو ملا کر ایک نئی تصویر پیش کرتے ہیں:
اشنان کشن جی نے کیا ہے جو مدتوں
اب تک اسی اثر سے ہے رنگ جمن کبود
(دیوان دوم)

Krishna ji has bathed in its waters for ages
And that’s why the waters of the Jamna still are blue in tint

اب دیکھتے ہیں کہ ناسخ دوبارہ گنگا کی علامتوں کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں:
ہوئے ہیں عکس فگن میرے داغ گنگا میں
کہاں بہاتے ہیں ہندو چراغ گنگا میں
ادھر بہاتے ہیں گل اور ادھر نہاتے ہیں گل
ہرایک صبح شگفتہ ہے باغ گنگا میں
کمند موج جو مانند زلف ہے دلکش
ہوا اسیری غم سے فراغ گنگا میں
(دیوان اول)

The red scars my heart are reflected in the Ganga
It is not that the Hindus float lamps in the Ganga
On one side, they float flowers, roses bath on the other
Every morning, a garden blossoms in the Ganga
The waves tug at my heart with their lassoes, beautiful like her tresses
I found release from the chains of sorrow in the Ganga

اردو جیسی زبانوں کے لکھنے والوں کے لیے ضروری نہیں کہ وہ کلچر کو بیان کریں۔ان کی شاعری ہی کلچر کا بیانیہ ہے۔یہ سچ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کے باعث کلچر کے معنی اور اس کی تعریفا ت بہت ہوگئی ہیں۔مثال کے طور پر یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے کہ کلچر کسی تہذیب کی دانش ورانہ جہت ہے۔یہ شائستگی کے امکانات کو وا کرتا ہے۔مثال کے طور پر سائنس موضوعات کے مصنف جیسے سی پی اسنو(C. P. Snow) کہتا ہے کہ روایتی کلچر عام طور پر ادب پر محیط ہوتا ہے اور اس میں تبدیلی کے امکانات زیادہ نہیں ہوتے جب کہ سائنٹیفک کلچر وہ ہوتا ہے جو دانش کی سطح پر ہر نئے اضافے کو قبول کرتا ہے، اس میں مزیداضافہ ہوتا رہتا ہے اور یہ مقید نہیں ہوتا۔یہ اضافے ، مفرضوں کی طرح ہوتے ہیں اور ان میں کچھ عمومی بھی ہوتے ہیں۔جو اضافے ہمارے وطن میں اس وقت تجویز کیے جارہے ہیں،فلسفیانہ ہونے کے بجائے متعصبانہ ہیں۔در اصل زندگی کے لیے یہ کوئی ایسا پیچیدہ یا مصنوعی تاریخی رویہ نہیں جو کلچر یا کلچر کی کسی قسم کی تشکیل میں معاون ہو ۔یہ افراد کا ایسا ماضی اور مستقبل ہے جس میں سماج،سیاست اور روایت شامل ہے جو کلچر کی صورت گری میں معاون ہے۔کلچر علامتوں کے ذریعے پھلتا پھولتا ہے اور اردو ادب نے اپنے علامتی انداز کے ذریعے ہند مسلم کلچر کی تمام جہتوں کو بیان کیا ہے۔
اریخ ایک عملی موضوع ہے اسی لیے فارسی اور کبھی کبھار عربی میں ماقبل جدیدیت معلومات کی فراہمی کا عام ذریعہ یہی تھا۔اس لیے اردو کے ابتدائی دور میں تاریخی ادب کم ملتا ہے۔تاریخ کی مختصر کتابیں شمال میں۱۷۷۰ء کے بعد سے سامنے آنا شروع ہوئیں لیکن انیسویں صدی سے پہلے اردو میں تاریخ ایک علیحدہ موضوع نہ تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اردو میں تاریخ نویسی انگریزوں کی امپریل دانش و رانہ پالیسوں کے حوالے سے خاصی جانب دارانہ ہے۔ہمار ا ابتدائی ادب واضح کرتا ہے کہ اردو ادب ، کچھ استثنیات کے،مکمل طور پر بُرا تھا۔اس نے ’حیات‘ اور ’فطرت‘ کو اس طرح پیش نہیں کیا جس طرح وہ تھے۔اس کا الزام، شاید غیر شعوری طو ر پر،ہندوستان کی اُن تاریخیکتابوں سے ظاہر ہوتا ہے جو اٹھارویں صدی میں نوآبادیات کے موقف کو پیش کرتی ہیں۔ نوآبادیات کے موقف کے مطابق اٹھارویں صدی کے پورے ہندوستان میں زوال کی کیفیت ہے؛قانون اور عمل داری کے حوالے سے ایک خلا ہے جسے پُر کرنے کے لیے انگریز آگے بڑھے ۔ مولوی ذکاء اللہ کی تاریخ ہندوستان میں اور کسی درجے میں نول کشور کی تاریخِ اودھ اسی تاریخ کی مثالیں ہیں۔ان میں اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ انگریزوں کی آمد قانونِ فطرت کے مطابق تھی۔ یہاں تک کہ سر سید احمد خاں بہادر کی فہرستِ سلاطینِ دہلی میں جارج سوم اور اس کے پیش رو شاہ عالم بہادر شاہ دوم کو شامل کرنے کی زحمت اُٹھائی ۔یہ ایسا ہی تھا کہ جیسے مغل موجود ہی نہیں یا اُن کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔یہ امر دلچسپ ہے کہ جارج سوم نے۱۷۶۰ء تا۱۸۲۰ء تک حکومت کی لیکن سر سید نے اس کے دورِ حکومت کو ۱۷ سال طویل لکھا ہے ۔ اس میں یہ مضمر تھا کہ اُسے ۱۸۰۳ء میں دہلی کااس وقت حکمران بنایا گیا جب انگریزوں نے سندھیا اور مغل فوج کودہلی کے مقام پرشکست دی تھی اور ریزیڈنٹ کو لابٹھایا تھا۔شاید یہ وہی وقت تھا جب عام معافی کا اعلان بھی ہواتھا:
ملک خدا کا سلطنت بادشاہ کی حکم کمپنی کا

The land belongs to God, the rule is of the King, the command is by the Company Bahadur

ہندوستان میں اور بیرونِ ہندوستان ،تاریخ نویسی کا مرکزی دھاراہمارے بارے میں اٹھارویں صدی کی تاریخ کی کتابوں میں درج ان غلط فہمیوں کو بڑھاوا دیتا رہا ہے جنھیں انگریزوں نے لکھا تھا۔ ہماری ادبی تاریخ بھی ان ہی راگوں کو الاپتی رہتی ہے۔دہلی کو افغان اور دیگر نے لوٹا جس کی وجہ سے وہاں انتشار کا ماحول رہا؛ادبی کلچر کمزور تھا،زبان کی اصلاح ہونی چاہیے تھی؛ شاعرایہام گوئی کے تحت جو شاعری کررہے تھے اس نے کچھ نہیں دیا؛ان کی شاعری فطری نہ تھی، وہ فطرت کے بارے میں کچھ نہ جانتے تھے،وغیرہ۔
ہمارے ادبی مورخین ہمیں یہ بتاتے ہیں اردو کا مطلب فوج ہے۔اسے اردو اسی لیے کہتے تھے کہ حملہ آور فوجوں کی یہ دَین تھی۔یہ حملہ آور فوجیں مقامی لوگوں سے میل جول بڑھانا چاہتی تھیں۔اس طرح اردو زبان پیدا ہوئی اور اس کا نام اردو رکھا گیا۔ہمارے مورخین نے شاعری کے دو دبستان تخلیق کیے ہیں۔ایک کا تعلق دہلی اور دوسرے کا لکھنؤ سے ہے۔ دہلوی اندازِ شاعری پیچیدہ اوردوربین ہے اور محبت کے جسمانی تصور سے عاری ہے۔لکھنوی اندازِشاعری دہلوی اندازسے کم و بیش برعکس ہے۔ان دونوں دبستانوں نے فکشن بھی کثرت سے تخلیق کیا ہے لیکن اب بھی ہم شاعری میں دہلویت اور لکھنویت کی بات کرتے ہیں۔

ان دبستانوں کے بارے میں آج بھی ہم ان ہی باتوں پریقین رکھتے ہیں جو ان کے بارے میں انیسویں صدی کے ہمارے بزرگ کہتے تھے ۔یا ایسی باتیں جو ہم کالج کے ابتدائی دنوں میں کرتے ہیں: ’شاعری طاقت وردلی جذبات کا ایک فوری اظہار ہے۔‘ہم بڑی آسانی سے جدیدیت سے پہلے کی شاعری اور تخلیقی نثرکوغیر حقیقی اور غیر اہم کہہ کر نظر انداز کردیتے ہیں کیوں کہ وہ ورڈز ورتھ(Wordsworth) کے کلیے پر پورا نہیں اترتیں ۔ ورڈزورتھ کا یہ کلیہ مغرب میں رد کیا جاچکا تھا لیکن وکٹورین دور کے ہمارے بزرگوں نے نہ صرف بڑے احترام و عقیدت سے اُسے اختیار کیا بلکہ ہم تک بھی اسے منتقل کیا۔
اکیڈمی اور مقبولیت کی سطح پر ، اور شاید دانش ورانہ معیار پربھی،ہماری ادبی تاریخ نویسی اور ادب کے بارے میں ہماری تفہیم انیسویں صدی کے انگریزی تصورات تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ خوش قسمتی سے ہمارا ثقافتی شعور اورشناخت بہ حیثیت مسلمانانِ ہند آج بھی بڑی حد تک محفوظ ہے۔ لیکن کب تک؟ کیاہم اس کا الزام غیر ملکیوں کو دیں؟آج ہمارے درمیان کوئی غیر ملکی نہیں؛اگر کوئی ہے تو ہم خود ہیں۔
~~~~~
[انجمن ترقی اردو (ہند) کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے چار روزہ (15 تا 18 مارچ 2018) بین الاقوامی سمینار بہ عنوان ’اردو ادب کی دو صدیاں: تاریخ، تہذیب اور ادب‘ کے افتتاحی اجلاس میں یہ مضمون کلیدی خطبے کے طور پر پیش کیا گیا۔]

بشکریہ: سہ ماہی “اردو ادب”جولائی تا ستمبر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: