یہ شہر چائے نہیں پینے دیتا :حسنین جمال

جب میں یہاں آیا تھا تو میرے پاس بہت سا وقت تھا۔ میں کسی بھی درخت کے نیچے گھنٹوں بیٹھ سکتا تھا۔ میں دور دور تک پھیلا آسمان محسوس کر سکتا تھا، مجھے ہوا کی سرسراہٹ اپنے کانوں کو تھپکتی محسوس ہوتی تھی۔ دھوپ اچھی لگتی تھی۔ گرمیوں کی دھوپ بھی مجھے باغوں سے دور نہیں بھگاتی تھی۔ میں حبس میں سانس لے سکتا تھا۔ میں گھاس سے اٹھنے والی مہک سونگھ سکتا تھا۔ میں سبزے کے چھ شیڈز گنوا سکتا تھا، ان کے نام بتا سکتا تھا۔ مجھے بارش میں نہانا پسند تھا۔ جتنی مرضی تیز بارش ہو جاتی میں نہاتا رہتا۔ مجھے بارش میں چلنے والی ہوا سے ٹھنڈ نہیں لگتی تھی۔ میں ننگے پاؤں پینتیس گلیوں میں بھاگتے بھاگتے پورے شہر پہ بارش کے گندے پانی کی چھینٹیں اڑ سکتا تھا۔ جراثیم میرے دوست تھے۔ مجھے پرنالوں کے نیچے کھڑے ہو کے ان کا پریشر اپنے سر پہ محسوس کرنے میں مزا آتا تھا۔ بارش کے بعد دھلا آسمان، چمکتی دھوپ اور گہرے سبز درخت کسی تصویر کی طرح میرے دماغ میں ہیں۔

وہ ادھر، اس گلی کے آخری کونے سے ایک گاڑی نمودار ہوئی تھی۔ وہ گاڑی ایک مہربان چہرہ چلا رہا تھا۔ وہ میرے باپ کا دوست تھا۔ اس نے مجھے پلاسٹک کی ایک گیند تحفے میں دی۔ اس گیند کے اندر نامعلوم کیا چیز بھری تھی۔ اسے جتنا زور سے زمین پہ مارا جاتا وہ اتنی ہی تیزی سے واپس آتی اور اندر موجود لیکوئیڈ میں ستارے جھلملانے لگتے۔ وہ گیند میں نے کبھی پہلے نہیں دیکھی تھی۔ وہ ٹھپا کھا کے اس تیزی سے نکلتی کہ اس کے پیچھے آنکھیں دوڑانا مشکل ہو جاتا۔ ایک دفعہ اسے کھینچ کے زمین پر جو مارا تو وہ واپس نہیں آئی۔ کسی چیز کے واپس نہ آنے سے یہ میرا پہلا تعارف تھا۔

موت سے میرا دوسرا تعارف اس وقت ہوا جب میں گلابی قمیص اور نیلی پتلون پہن کر سکول جاتا تھا۔ سردیاں آ چکی تھیں۔ موٹی سی ایک جیکٹ پہنے ہوئے میں سکول گیا تھا۔ وہاں کلاس کے بیچ میں آ کر کسی نے بتایا تھا کہ اس کو چھٹی دے دی جائے، اس کے دادا کی وفات ہو چکی ہے۔

وفات؟ اچھلتے کودتے گھر واپس آیا تو صحن میں ایک چارپائی تھی اور اس پہ دادا سفید چادر اوڑھے لیٹے تھے۔ وہ ہلتے جلتے بھی نہیں تھے اور ان کی آنکھیں بھی بند تھیں اور وہ سو بھی نہیں رہے تھے۔ کہیں کچھ غلط تھا۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ اسے وفات کہتے تھے۔ یہ موت تھی۔ تو میری گیند بھی شاید وفات پا گئی تھی۔ یہ میں نے اس وقت سوچا تھا لیکن تب ہر شخص غمزدہ تھا، میں کسی سے غیر ضروری سوالات پوچھنے میں بے چینی محسوس کر رہا تھا۔ اس کے بعد میرے باپ کو ایک لمبی سی چادر، جو سفید رنگ کی تھی، وہ سر پہ باندھی گئی۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہ اب ان کی جگہ پر خاندان کے سردار ہیں۔ لیکن ان سے بڑی دادا کی ایک بیٹی تھیں۔ انہیں کیوں نہیں باندھی گئی۔ یہ بھی میں اس وقت نہیں پوچھ سکا۔ گیند کی وفات اور مرد کی سرداری اس دن میرے دماغ میں جا کے ٹھپے کھاتے اچھلتے رہے تھے۔

دو تین دن بعد جب دادا زمین میں دفن ہو چکے تھے اور ان کی آرام گاہ سیمینٹ سے پکی کی جا چکی تھی اور ایک پتھر کے ٹکڑے پر ان کا نام لکھوا کر ان کے سرہانے لگایا گیا تو مجھے موت سے مکمل تعارف حاصل ہوا۔ میری گیند مری نہیں تھی۔ اس سوال کا جواب مجھے مل گیا۔ پگڑی کیوں باندھی گئی اس کا جواب بعد میں وقت نے دیا۔

تو اس وقت میں یہ سب کچھ سوچتا تھا۔ مجھے وہ گلیاں بہت طویل لگتی تھیں جہاں میں کھیلتا تھا۔ وہاں کی ایک ایک اینٹ میں پڑا ہر گڑھا مجھے یاد تھا۔ کس مکان کے دروازے کا رنگ کیسا ہے، کس دیوار پہ کس رنگ کا چونا ہے، کس کے یہاں ڈور بیل ہے، کہاں کنڈی کھڑکانی ہے، مجھے سب معلوم تھا۔ مجھے یہ تک یاد ہے کہ میں اپنی سکول کی رف کاپی میں کس رنگ کے سٹیکر لگانا پسند کرتا تھا۔ میرے پاس اتنا وقت تھا جیسے ہر نیا دن سو گھنٹوں کا ہو اور ہر اگلی رات پچھلی سے دو گھنٹے زیادہ طویل ہو۔ مجھے خوراک کے ذائقے ناک اور زبان دونوں سے محسوس ہوتے تھے۔ میں صرف ہری مرچوں یا دہی کے زور پہ روٹی نہیں کھاتا تھا۔ ہر چیز کا الگ الگ ذائقہ، الگ الگ خوشبو، سب کچھ میرے دماغ پر نقش تھا۔ میری دنیا میں ابھی سوڈے کی بوتلوں کا اضافہ نہیں ہوا تھا۔ چائے لیکن مجھے پسند تھی۔ چائے بڑوں کا مشروب تھا مگر میں ضد کرتا تو مل جاتی تھی۔
ایک کپ چائے کتنے مزے سے اور کتنی دیر تک میں پیتا رہتا، یہ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ پہلے میں اس کے اوپر پلیٹ رکھ کے بھاپ سے جو پانی بنتا ہے، وہ سونگھتا تھا، اسے ایک ایک قطرہ پیتا تھا۔ پھر چائے کے اوپر بن جانے والی جھلی چمچ سے اٹھا کے دور کہیں پھینک دیتا تھا۔ چائے والا کپ ناک کے پاس کرتا تو اس میں ایک جانی پہچانی سی خوشبو آتی تھی۔ دودھ ابالتے ہوئے گھر کی عورتیں اس میں الائچی ضرور ڈالتی تھیں۔ تو وہی خوشبو چائے میں موجود ہوتی تھی۔ وہ اتنی دبی ہوئی خوشبو ہوتی کہ اب شاید اسے سونگھنے کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔ پھر میں پہلا گھونٹ بھرتا تھا۔ ڈرتے ڈرتے گھونٹ لینے کے دوران جس ہاتھ سے کپ تھاما ہوتا اس کی تیسری انگلی خواہ مخواہ کھڑی ہو جاتی۔ یہ آج بھی ہوتا ہے۔ تو پہلے گھونٹ سے جیسے اندر تک چائے اترتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ دوسرا گھونٹ میں تب لیتا جب مجھے اچھی طرح معلوم ہو جاتا کہ اب انگلی کھڑی کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ مجھے اپنی اس عادت سے چڑ تھی لیکن وہ ہوتا تھا اور مجھے بعد میں انگلی اٹھنے پر ہمیشہ یاد آتا تھا۔ جب تک نیچے پتی نظر نہیں آتی تھی تب تک میں چائے پیتا رہتا تھا۔ آخری گھونٹ آدھا تھوکنا پڑتا کیوں کہ اس میں ہمیشہ پتی آ جاتی تھی۔

ابھی دیکھو میں تمہیں کتنی تفصیل سے یہ سب کچھ بتا رہا ہوں۔ اب بھی یہ سب کچھ میرے پاس ہے۔ میں یہ سب کام کر سکتا ہوں۔ میں شاور کے نیچے وہ سب مزے لے سکتا ہوں جو بارش میں لیا کرتا تھا۔ میں گھر کے لان میں لوٹیاں لگا سکتا ہوں۔ میں ٹیرس پہ دھوپ سینکنے جا سکتا ہوں۔ میں اس گیند جیسی ہزاروں گیندوں سے اپنا گھر بھر سکتا ہوں۔ وہ ٹھپے کھاتی میرے اردگرد اچھلتی رہیں اور میں ان کو پکڑتا رہوں یہ سب کچھ ہو سکتا ہے۔ میں سالم درخت خرید کے سامنے سڑک میں گڑوا سکتا ہوں لیکن اب ۔۔۔ اب وقت میرے پاس نہیں ہے۔ اب تو چائے بھی میں اپنے اندر اس وقت انڈیلتا ہوں جب وہ یخ ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ شہر مجھے پیسے دے کر مجھ سے وقت خرید چکا ہے۔ میرا آسمان اب سفید چھت ہے، میری گھاس اب بوٹی سینا ماربل ہے، میری بارش ۔۔۔ سنو اصلی بارش میں اب مجھے ٹھنڈ لگتی ہے، اب وہ مجھے پسند بھی نہیں رہی۔ اب میں ننگے پاؤں گھومتا ہوں تو گھر والے سمجھتے ہیں بوڑھا پاگل ہو گیا ہے۔ اب مجھے یہ شہر چائے بھی نہیں پینے دیتا۔ میں نہیں جانتا اب چائے سے کوئی خوشبو آتی بھی ہے یا نہیں، وہ جھلی اب چائے پر کیوں نہیں بنتی۔ گھاس اب ایک ہی رنگ کی باقی رہ گئی ہے یا واقعی کوئی ہو گا جو اس کے شیڈز گنوا سکے۔

جب میرا تعارف موت سے ہوا تھا شاید وہی وقت تھا جس کے بعد آہستہ آہستہ دن اور رات بھی مختصر ہونے لگے تھے۔ اب میری گھڑی صبح دس بجے شام کے پانچ بجا دیتی ہے۔ تمہارے ساتھ ایسا ہوتا ہے؟ شہر تمہیں چائے پینے دیتا ہے؟ دل بھر کے پی لو، کچھ ہی وقت ہے، تمہیں اندازہ ہو گا کہ بوڑھا پاگل نہیں تھا!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: