اخترالایمان سے بات چیت/ اطہر فاروقی

اخترالایمان سے بات چیت/ اطہر فاروقی
س : ہندستان اور پاکستان کی موجودہ شاعری کے بارے میں آپ کی راے کیا ہے؟
ج : اچھی شاعری کے لیے پہلی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ روایتوں کی حدود سے انحراف تو کرتی ہو مگر شاعر روایتوں سے کما حقہ، واقف بھی ہو۔ اچھی شاعری کی دوسری شرط شاعری کا نیاپن ہے۔ کوئی شاعر اس وقت تک نئی شاعری نہیں کرسکتا جب تک کہ اس کے ذہن میں نئی شاعری کا مفہوم واضح نہ ہو اور اس نے دنیا کے عظیم شعری سرمایے کا مطالعہ نہ کیا ہو۔ اردو میں لیک سے ہٹی ہوئی شاعری کرنے کے لیے شاعر کا سخت جان ہونا بھی بے حد ضروری ہے کیوں کہ اردو غزل کی سیکڑوں سالہ مستحکم اور مفروضات کے حصاروں میں مقیّد روایت کے مقابلے میں نئی شاعری کو آسانی سے استناد حاصل نہیں ہوسکتا۔ شاعری یوں بھی تو پیغمبرانہ کام ہے جو ہر ایک کے بس میں نہیں اور جو ستائش و صلے کی تمنّا سے بے نیاز ہوکر ہی کیا جاسکتا ہے مگر شاعری اور کلامِ موزوں دو مختلف چیزیں ہیں۔
آج ہندستان اور پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر اس خطے میں جہاں جہاں اردو داں عوام آباد ہیں وہاں وہاں غزل کے اثرات اور باز گوئی کی اجارہ داری ہے۔ ان دونوں ممالک میں تو خصوصاً رسمی شاعری کا غلبہ ہے۔ پاکستان کی نئی نسل پر فیض کی گہری چھاپ ہے اور فیض غزل کے اسیرِ محض ہیں۔ غزل کی روایت کو فیض سے منہا کرنے کے بعد فیض معدوم ہوجاتے ہیں۔ فیض کی تقلید نے پاکستان کی نئی شاعری کے بڑے حصّے کی باڑھ مار دی ہے۔ اس کے برعکس ہندستان کے بعض شاعر innovation کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ عظمت اللہ اور عبدالرحمن بجنوری کے بعد اردو شاعری میں جو نیا رجحان پیدا ہوا تھا ، ن. م. راشد، میر اجی اور خود میں اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں اور ہندستانی شعرا کی نئی نسل ہم سب سے اکتساب کر رہی ہے۔
س : اردو شاعری کے سیاق و سباق میں آپ کی بوطیقا پہلی نظر میں بہت نرالی معلوم ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہندستان میں اردو شاعروں کی نئی نسل آپ کا احترام تو کرتی ہے مگر آپ کے دفاع کی کوئی عملی کوشش ہمیں جدید اردوشاعروں کے درمیان نظر نہیں آتی۔ اگر یہ صورتِ حال برقرار رہی تو کیا آپ کی شاعری کا حلقۂ قارئین روز بہ روز محدو دنہیں ہوتا جائے گا؟
ج : مستقبل میں کیا ہوگا ، یہ سوچنا میرا کام نہیں۔ میں جو صحیح سمجھتا ہوں وہی کرتا ہوں۔ میرے شعری نظریے میں کوئی نرالا پن نہیں ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ اردو شاعری کا قاری اور تخلیق کار دونوں ہی سہل پسند واقع ہوئے ہیں۔ انھیں زندگی کی پیچیدگیوں کا عرفان ہے ہی نہیں، جب کہ میرا نظریہ یہ ہے کہ زندگی کی پیچیدگیوں سے ان کی تمام تر وسعتوں کے ساتھ لطف اندوز نہ ہونا، انھیں ممیز نہ کرپانا اور مواد کو پُرانے ڈھنگ سے پیش کرنا کلامِ موزوں تو ہوسکتا ہے ، اسے شاعری کسی طرح نہیں کہا جاسکتا۔
میں شاعری کو مذہب کی طرح مقدّس اور مکمل انہماک سے کرنے کی شے سمجھتا ہوں۔ ہماری نسل کے لوگوں سے پہلے شاعری خارجی اور داخلی خانوں میں تقسیم تھی۔ داخلی شاعری میں تو غزل آجاتی ہے اور خارجی شاعری میں نیچر وغیرہ کا بیان شامل ہوتا تھا لیکن جہاں تک میری شاعری کا تعلق ہے وہ خارجی اور داخلی دونوں دائروں سے باہر ہے۔
I DO WANT AND TRY TO DISCOVER THE MAN INSIDE
AND OUT SIDE WITH ALL THE COMPLEXITIES.
ٰٓاور یہیں سے میرا شعری رویہ تمام پیش رو اور ہم عصر شعرا سے مختلف ہوجاتا ہے۔ میرے ہم عصر شعرا میں راشد اور میرا جی شاعری کے قدیم ڈھرے سے بالکل ہٹے ہوئے لوگ ہیں۔ ہمارے بعد جو لوگ آئیں گے انھیں ہم سے آگے جانا ہوگا۔ جب لوگ سامنے آئیں گے تو وہ چلیں گے بھی کیوں کہ آخری آدمی تو کوئی نہیں ہوتا۔
س : ہندستان اور پاکستان کی شاعری کے درمیان آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟
ج : میں سمجھتا ہوں کہ ہندستان میں بہتر کہنے والے لوگ ہیں اور یہاں اچھی شاعری کی پذیرائی کا بہتر اسکوپ موجود ہے۔ پاکستان کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ وہاں لکھنے اور پڑھنے والے سب آسودگی کے اسیر ہیں۔ آج ہندستانی معاشرہ مکمل طور پر کمپیوٹر ایج میں داخل ہوچکا ہے جب کہ پاکستانی سماجی ڈھانچہ پوری طرح جاگیر دارانہ نظام اور اس کی اقدار کے تابع ہے۔ عام ہندستانی شہری کی زندگی پاکستانی شہری سے بہت مختلف اور پیچیدہ ہے اور زندگی کی پیچیدگیوں کا بیان ہندستان کی ہر زبان کی شاعری میں موجود ہے۔
س : پاکستان اور ہندستان کے درمیان نفرت کی جو سیاسی کھیتی پھل پھول رہی ہے، اس کا اثر ادب پر بھی پڑا ہے۔ ہمارے کئی بلند پایہ شعرا کے تئیں پاکستانی ناقدین جانب دارانہ رویہ رکھتے ہیں۔ فیض کو واحد عہد ساز شاعر ثابت کرنے کی بیماری تو اب مضحکہ خیز حدود میں داخل ہوچکی ہے۔ کیا آپ کے خیال میں اس کے سدِّ باب کی کوئی راہ ہے؟
ج : پاکستانی معاشرے کے مزاج میں عدمِ تحمّل اور عدمِ رواداری کا دخل بہت گہرا
ہے، جب کہ ہندستان میں معاشرتی صورتِ حال بہت مختلف ہے۔ ویسے بھی پنجاب کے لوگوں کا خاصّہ ہے کہ وہ اپنے آدمی کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ خوش حال صوبہ ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں اور پاکستانی سیاست پر پنجاب کی اجارہ داری رہی ہے اور فیض کے حوالے سے وہی اجارہ داری پنجابی پاکستان کے تمام اردو داں عوام پر قائم کرنا چاہتے ہیں۔ پنجابیوں کی یہ پرانی عادت ہے۔ سر عبد القادر ایسے تعلیم یافتہ شخص کے یہاں اقربا پروری یعنی سخن فہمی سے زیادہ طرف داری کا رجحان نظر آتا ہے۔ تاثیرؔ ، فیضؔ ، حفیظ ؔ جالندھری وغیرہ تمام لوگ ان کے فدویِ محض تھے۔ ہندستان کا موجودہ معاشرہ بہ حیثیتِ مجموعی اپنے ماضی سے بالکل مختلف ہے۔ معاشرے میں ہر سطح پر شکست و ریخت کا عمل جاری ہے جو بالکل فطری ہے، اسی لیے، ہندستانی ادب میں آپ کو کہیں بھی باسی پن نظر نہیں آئے گا۔
س : آپ کا مجموعہ ’’زمین زمین‘‘ آپ کے شعری سفر کا اہم سنگِ میل ہے۔ اس کے پیش لفظ میں آپ نے لکھا ہے کہ پہلے ہم یہ طے کریں کہ کلاسیکی ادب کی تعریف کیا ہے۔ ایک عہد گزر نے کے بعد آپ اپنے عہد کے کن لوگوں کو روایت Legendمیں شمار کرتے ہیں؟
ج : یہ بڑا مشکل سوال ہے۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ ہمارے ذہن میں بھی نہیں آتے، آخر میں ان ہی کے نام محفوظ رہ جاتے ہیں۔ کئی لوگوں کی مکمل تخلیقات یا ان کے نام کا کوئی ایک حصّہ باقی رہ جاتا ہے۔ فیض ہمارے عہد کے ایک قابلِ ذکر شاعر ہیں لیکن ان کی پریشانی یہ ہے کہ وہ کسی بھی عنوان سے اور کسی بھی موضوع پر شاعری کریں، غزل کے حصاروں سے نکل ہی نہیں پاتے۔ ان کے یہاں Superficiality ہے اور Deep penetrationنہیں کے برابر ہے۔
س : آپ کا نظرےۂ شعر کیا ہے؟ بڑی شاعری کیسے وجود میں آتی ہے یا آسکتی ہے؟
ج : شاعری میں شاعر کی نفسیات کار فرما ہوتی ہے اور اس شخصیت کی تشکیل و ترتیب میں شاعر کے اپنے ماحول کا گہرا اثر ہوتا ہے جو محرک کے طور پر جاری وساری رہتا ہے۔ شاعر اپنے ماحول سے جو اثرات قبول کرتا ہے ان کے مرکّب میں اس کے تعصبات و توہمّات بھی شامل ہوتے ہیں اور مثبت اقدار بھی مگر اچھی شاعری کا ایسا کوئی پیمانہ مقرر کرنا ممکن نہیں جس کی تشہیر اردو ناقدین کرتے رہتے ہیں۔ اگر شاعر کا مزاج سطحی ہے تو شاعری بھی سطحی ہوگی اور اس میں زندگی کے مسائل کا بیان بھی سطحی ہی ہوگا۔ اردو غزل کی زلف کے اسیر تمام اساتذہ کے یہاں زندگی کے مسائل کے بیان میں تہ داری نام کی شے سرے سے مفقود ہے اور اردو تنقید کا لہجہ بھی جاگیر داری دور کی غزل کا لہجہ ہے۔
س : آپ کے بعض ہم عصر جو ابتدا میں نئی شاعری کے نقیب تصوّر کیے جاتے تھے اور ایک زمانے میں ان کا بڑا نام تھا مگر آہستہ آہستہ ان کا اثر معدوم ہو رہا ہے۔ مثلاً علی سردار جعفری اور کیفی اعظمی وغیرہ،اس کی کیا وجہ ہے؟
ج : نئی شاعری اور نعرے بازی میں بڑا فرق ہے۔ خطابت بھی نئی شاعری میں شمار نہیں ہوسکتی۔ موٹی موٹی ادق کتابوں اور تنقیدی اصطلاحات کو حفظ کرنے اور انھیں شاعری میں کھپادینے کا نام بھی شاعری نہیں ہے۔ شاعری نام ہے پورے فہم و ادراک کے ساتھ زندگی کے مسائل کے بیان کا اور اس کے لیے بڑی ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے۔ دراصل یہ لوگ انقلابی کبھی تھے بھی نہیں۔ یہ مارکسسٹ بھی نہیں تھے، بلکہ صرف سوویت یونین کے مدح خواں تھے۔ اشتراکیت کو مذہب سے متصادم کرانے میں ایسے نام نہاد انقلابیوں اور سوویت یونین کے مدح خوانوں کا بڑا اہم رول رہا ہے۔
س : ترقی پسند تحریک کے عروج کے بعد اس کا ردِّعمل ’’جدیدیت‘‘ کے نام سے ادب میں ظہور پذیر ہوا۔اس تحریک کو رجحان کا نام دیا گیا۔ البتّہ اس سے وابستہ اہلِ قلم کے یہاں کافی توانائی تھی جو آہستہ آہستہ ختم ہوتی گئی اور ایسے تمام لوگ جن سے بڑی توقعات وابستہ تھیں، آہستہ آہستہ پس منظر میں چلے گئے۔ جدیدیت کی عمر اور سرمایہ ترقی پسندوں کے مقابلے کہیں نہیں ٹھہرتا۔ آپ ان دونوں تحریکوں کا موازنہ کس طرح کرتے ہیں؟
ج : جدیدیت اور ترقی پسند تحریک دو مختلف سیاسی و نظریاتی ممالک کے تابع تھیں۔ دونوں ہی اپنے آقاؤں کے سامنے اپنی افادیت دیر تک قائم نہ رکھ سکیں۔ میرے خیال میں نئے ادب اور نئی شاعری کا مستقبل اس نسل اور لکھنے والوں کے اس گروہ سے وابستہ ہے جو کسی تحریک سے وابستہ نہیں۔ یہ نئی نسل تبدیلی چاہتی ہے لیکن اس کے سامنے تبدیلی کا واضح تصوّر موجود نہیں ہے۔ نئی شاعری کی راہِ پُر خار پر چلنا ہر ایک کے بس کا کام نہیں اور اس کا حوصلہ مجھے موجودہ زمانے میں کسی کے یہاں نظر نہیں آتا ۔ لیکن نئی نسل چھان پھٹک کے معاملے میں پُرانی نسل سے کافی مختلف ہے۔ یہ نئی نسل شاعری کر بھلے ہی نہ سکے مگر اس سے محظوظ ضرور ہوسکتی ہے۔ پُرانی نسل میں تو یہ وصف تھا ہی نہیں۔
جہاں تک مارکسی نظرےۂ ادب کا سوال ہے تو اردو ادب پر اس کی گرفت کبھی مضبوط نہیں ہوسکی اور ہوبھی نہیں سکتی تھی۔ اس کا سبب یہ قطعاً نہیں کہ مارکسی نظریہ کوئی کمزور ادبی نظریہ ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندستان کے سکّہ بند اشتراکی اہلِ قلم کو نہ تو ادب کی صحیح فہم تھی، نہ ہی اشتراکی فلسفے کی۔ پھر آخر نعرے کے سہارے گاڑی کتنے دن چل سکتی تھی؟آج سوویت یونین چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔ ہندستان میں کچھ مفاد پرست ابھی بھی ترقی پسندی کے نام پر اشتراکیت کا کفن فروخت کرنے پر پوری تن دہی سے کمر بستہ نظر آتے ہیں۔ ان بے وقوفوں کو ادب کی فہم تو کبھی بھی نہیں رہی۔ میں سوویت ادب کی عظمت اور اس کی تاثر انگیزی کا تہِ دل سے معترف ہوں مگر یہ ادب انقلابِ روس سے پہلے کا ادب ہے۔
جہاں تک عالمی سطح پر ادب کے نئے منظر نامے کا تعلق ہے تو مجھے امید ہے کہ مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ کی نئی ریاستوں میں ادبی احیا ضرور ہوگا جو عالمی ادب کو نئی سمت عطا کرے گا۔ لیکن میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ادب کا مجموعی مزاج کچھ ایسا ہے جس پر نہ تو ماضی میں سوویت ادب گہرے اثرات مرتب کرپایا اور نہ ہی مستقبل میں اس کے امکانات ہیں؟
س : کیا آپ اپنے علاوہ بھی کسی ہم عصر شاعر کو اس پایے کا تخلیق کار تصوّر کرتے ہیں جس کے بارے میں یہ کہا جاسکے کہ اس نے اردو ادب میں کوئی اضافہ کیا ہے؟
ج : میرے خیال میں ادب میں اضافے کا معاملہ کافی پیچیدہ ہے۔ اضافہ ہوتا ہے ، خیالات کا، رجحانات کا، زبان کے دروبست کا، اس میں وسعت اور اس کے استعمال کا 151 میں باربار زبان کو وسعت دینے کی بات اس لیے کرتا ہوں تاکہ جتنے موضوعات و مضامین زندگی کا حصہ ہے، ان سب کو نظم کیا جاسکے۔ ہمارے سماج میں ریل گاڑی بھی ہے، موٹر بھی ہے، جہاز بھی ہے اور یہ سب کسی نہ کسی طرح ہمارے معاشرے کا حصّہ ہیں۔ میں نے اپنی شاعری میں ایسے تمام لفظوں کو علامت کے طور پر وسیع تر مفہوم کے ساتھ استعمال کیا ہے۔زندگی کی پیچیدگیوں کا اظہار غزل کے ذریعے بہت سطحی انداز میں کیا جاسکتا ہے۔ میں غالبؔ کو غزل کا نقطۂ عروج مانتا ہوں اور غالب کے بعد کی منزل کو صرف اور صرف باز گوئی سے تعبیر کرتا ہوں۔
س : اقبال کی غزلیہ شاعری کو آپ کس زاویے سے دیکھتے ہیں؟
ج : غزل اقبال کے مضامین کی متحمّل ہو ہی نہیں سکتی۔ اقبال نے صرف غزل کی ہےئت کو استعمال کیا ہے، ان کے مضامین تو نظم کے مضامین ہیں۔ خودی کا سرِ نہاں، لاالہ الا اللہ ان کی غزل ہے۔ غزل ایسی کہاں ہوتی ہے؟ اقبال سے پہلے یا ان کے بعد کسی نے ایسی غزل کہی ہے، ذرا اس نوعیت کے اشعار تو دیکھیے:
میں کہاں ہوں تو کہاں ہے یہ مکاں کہ لا مکاں ہے
یہ جہاں مرا جہاں ہے کہ تری کرشمہ سازی
اسلوب و لفظیات سے لے کر موضوعات تک اقبال کی شاعری کا ڈھرا روایتی اردو شاعری سے بالکل مختلف ہے۔ انھوں نے کہیں کہیں نظم کو غزل کے سانچے میں ڈھال کر بات کرنے کی کوشش کی ضرور ہے مگر صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے کیوں کہ ان کی شاعری کا مزاج اردو غزل کے مزاج سے بالکل مختلف ہے۔
س : بہت زمانے تک آپ کو نظر انداز کیا گیا اور آپ ستائش و صلے کی ہر تمنّا سے بے نیاز ہوکر پورے انہماک سے اپنا کام کرتے رہے۔ اسی زمانے میں آپ نے جو کچھ لکھا، آج دنیا بھر میں اس کی پذیرائی ہورہی ہے لیکن اِدھر کچھ برسوں میں اچانک یہ تبدیلی رونما ہوئی کہ آپ کو بہت سے انعامات ملنا شروع ہوگئے ہیں جب کہ ساہتیہ اکادمی اوارڈ ملنے کے بعد تقریباً 25سال تک آپ کو کوئی بھی قابلِ ذکر انعام نہیں ملا۔ آپ کو انعام دینے والے ادارے وہ ہیں جن کے یہاں انعام کی بنیادmerit پر نہیں بلکہ پیروی اور گروہ بندی پر ہوتی ہے۔ تماشہ تو یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں اردو کے یہ ادارے آپ کو بھی انعام دیتے ہیں اور ساتھ ہی کسی نہایت گھٹیا شاعر کو بھی۔ آپ ہنسی خوشی ایسے تمام انعامات قبول کر رہے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ نے اچانک بلا تخصیص انعامات قبول کرنا شروع کردیے؟
ج : آپ کا سوال کافی پیچیدہ اور الجھن میں ڈالنے والا ہے۔ آپ کی یہ بات بالکل صحیح ہے کہ انعامات کا فیصلہ meritکے مطابق نہیں بلکہ پیروی اور گروہ بندی کے سہارے ہوتا ہے۔ میرا مزاج ہمیشہ سے یہ ہے کہ میں چیزوں کو وقت پر چھوڑ دیتا ہوں اور اپنے لیے کسی سے لڑتا نہیں۔ لڑنے کے بجاے خاموشی سے اپنا کام کرتارہتا ہوں۔ گیان پیٹھ کے لیے اب سے پہلے تین بار میرے نام پر غور کیا جاچکا ہے مگر مجھے معلوم ہے کہ یہ انعام مجھے کبھی نہیں ملے گا کیوں کہ گیان پیٹھ دینے والوں کا معیار ہے ہندوتو (Hindutva) ہے یعنی تخلیقات میں ہندو تہذیبی احیا culturalکہیں نہ کہیں نظر آنا چاہیے جب کہ میں احیاپرستی کے نظریے ہی کے خلاف ہوں۔ میں تو یہ مانتا ہوں کہ وقت آگے کی طرف جارہا ہے اور ہمیں وقت کی رفتار کے مطابق اپنی رفتار کو تیز کرتے رہنا چاہیے۔ آج جب کہ تمام دنیا ایک خاندان بن چکی ہے، کوئی ذی شعور لکھنے والاہندو احیا پرستی کے فروغ کی مجرمانہ کوشش نہیں کرے گا۔ مراٹھی ، گجراتی اور اڑیا وغیرہ زبانوں کے ادیبوں کو یہ انعام اس لیے ملتا ہے کیوں کہ ان کی ساری علامتیں مہا بھارت سے آتی ہیں، گیتا سے آتی ہیں یا پھر رامائن سے آتی ہیں۔قرۃ العین کو انعام ملنے کا سبب بھی یہی تھا۔ مجھے اگر یہ انعام ملا بھی تو اسی وقت ملے گا جب انعام دینے والی کمیٹی کے اراکین کے سامنے کوئی دوسرا نام نہ ہوگا۔ اگر ایسا بھی ہوا تو میں انعام قبول کرلوں گا کیوں کہ میں نے انعام کے حصول کے لیے نہ تو نظریاتی مفاہمت کی اور نہ ہی کمیٹی کے اراکین کی خوشامد۔ پھر بھی اگر مجھے انعام ملتا ہے تو میرے خیال میں مجھے اسے قبول کر لینا چاہیے کیوں کہ یہ میرا حق ہے۔ مجھے اکثر انعام اسی طرح جھک مار کر دیے گئے ہیں۔ میرا رویہ یہ ہے کہ اگر آپ انعام نہیں دیتے تو اپنے گھر جائیے اور اگر انعام دیتے ہیں تو مجھ پر کوئی احسان نہیں کرتے۔ اسی لیے میں انعام قبول کرنے کے بعد بھی اکثر اسے لینے نہیں جاتا۔ دلی اردو اکادمی نے مجھے کئی برس پہلے بہادر شاہ ظفر انعام دیا تھا۔ مجھ سے پہلے دہلی اردو اکادمی ان تمام لوگوں کو یہ انعام دے چکی تھی جو مجھ سے کمتر ہیں۔ جب یہ انعام لینے والا کوئی نہیں رہ گیا تو پھر مجھے یہ انعام دیا گیا۔ اگر کوئی انعام مجھے دیا جاتا تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرا حق تھا اور اگر آپ نے نہیں دیا تو پھر یہ آپ کی بد دیانتی اور زیادتی ہے۔
س : فلم جیسے طاقت ور میڈیا سے ایک کامیاب مکالمہ نگار کی حیثیت سے آپ کی طویل وابستگی رہی ہے۔ اپنے تجربات کی روشنی میں آپ کا ہندستان میں اردو کے مستقبل کے بارے میں کیا تجزیہ ہے؟
ج : میرا اپنا ماحول کم و بیش اردو کا ہے۔ میں مہاراشٹر میں رہتا ہوں جہاں کچھ برس تک یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ اردو کمزور ہو رہی ہے یا ختم ہونے کے قریب ہے۔ گزشتہ چھے سات برسوں میں میں نے اپنی فلمی مصروفیات کو کافی کم کیا ہے اور اس زمانے میں ہندستان کے اردو عوام سے میرا کافی رابطہ رہا۔اپنے گذشتہ چھے سات برسوں کے تجربات کی روشنی میں مجھے یہ کہنے میں کوئی تکلّف نہیں کہ ہندستان میں اب اردو صرف مسلمانوں کی زبان بن کر رہ گئی ہے اور تیزی سے روبہ زوال ہے۔ آج نہ تعلیم یافتہ مسلمان اپنے بچوں کو اردو پڑھا رہا ہے اور نہ مسلم لیڈر شپ کو اردو کے مسائل سے کوئی دل چسپی ہے۔ تقسیمِ ہندستان کے نتیجے میں ہندستانی تہذیب کی پوری عمارت ہی زمین بوس ہوگئی تھی۔ اگر اردو کے خلاف حکومت کی منظم سازشوں کا تسلسل برقرار رہا تو ہندستان کا سیکولر کردار بھی ختم ہوجائے گا اور اگر سیکولر کردار ختم ہوگیا تو پھر ہندستان کی سالمیت بھی کہاں باقی رہے گی؟
س : ایک طویل عرصے سے خود اردو داں حضرات کا ایک طبقہ اس امر پر زور دیتا رہا ہے کہ اگر اردو کا رسمِ خط تبدیل کردیا جائے تو اس کا تحفّظ ممکن ہوسکتا ہے کیوں کہ نئی نسل اسے فارسی رسمِ خط میں نہیں پڑھ سکے گی۔ ان کا ایک استدلال یہ بھی ہوتا ہے کہ دیوناگری لپی کے ذریعے غیر مسلم حضرات بھی اردو کا مطالعہ کرسکیں گے اور اس سے اردو کی ترویج و توسیع کے امکانات روشن ہوں گے۔ آپ کے خیال میں اردو رسمِ خط کو تبدیل کرنے کی تجویز کے دلائل کس حد تک قابلِ قبول اور منطقی اعتبار سے درست ہیں؟
ج : اردو کا موجودہ رسمِ خط تبدیل کرنے کی کوئی معقول وجہ میری سمجھ میں نہیں آتی۔ ہر زبان کا اپنا مزاج ہوتا ہے۔ جو زبان کے مخصوص لسانی رویوں اور سماجی تناظر میں صدیوں کے بعد تشکیل پاتا ہے۔ ہندستان میں اردو کو زبردستی جب مسلمانوں سے وابستہ کر ہی دیا گیا ہے تو پھر اس کے رسمِ خط کی تبدیلی صرف مسلمانوں کے سیاسی اورسماجی حالات کے تناظر میں ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ آج اردو کا معاشی پہلو معدوم ہوچکا ہے اور اگر مسلمان پھر بھی اسے پڑھتا ہے توکسی کو یہ کہنے کا حق نہیں کہ اس کا رسمِ خط تبدیل کردیا جائے۔ اگر آپ اردو کا رسمِ خط بدل دیں گے تو اس کا مخصوص مزاج ہی ختم ہوجائے گا۔ اب رہا سوال ہندو اکثریت کے خوف کا جس کا ذکر بالعموم دبی زبان میں یا اشاروں کنایوں میں کیا جاتا ہے تو اگر ہر بات کا فیصلہ ہندو اکثریت کی خواہشات کے مطابق ہی ہونا ہے تو پھر اس میں کوئی کیا کر سکتا ہے۔ ہندو اس ملک میں اکثریت میں ہیں اور اگر اکثریت کے زعم میں وہ اقلیتوں کی تہذیب و ثقافت کو ختم کرنے کا فیصلہ کر ہی چکے ہیں تو پھر اس ملک کا اللہ ہی مالک ہے۔ میرا خیال تو یہ ہے کہ اردو والوں کو اب تبدیلیِ رسمِ خط کے سوال پر سوچنا ہی نہیں چاہیے۔
تبدیلیِ رسمِ خط کا مطالبہ تقسیمِ ہند کے فوراً بعد فرقہ پرست ہندوؤں کی طرف سے پوری شدّ و مد کے ساتھ کیا جانے لگا تھا۔ اس مطالبے اور اردو کی تباہی کے پسِ پشت نہرو خاندان کے سیاسی عزائم کار فرما تھے جنھیں ہندو سرمایہ داروں کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔ اردو کو تباہ کرنے کی سازش کا مقصد ہندستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کی تہذیب کو نیست و نابود کرنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ اردو کا رسمِ خط اردو تہذیب کی بنیاد ہے جسے تبدیل کر دینے کے بعد اردو تہذیب سے ہندی اور ہندو تہذیب کو کوئی خطرہ باقی نہیں رہ جائے گا۔ اگر اردو تہذیب اور اردو زبان ہندستان میں زندہ رہتی ہیں تو پھر کسی دوسری تہذیب اور ہندی زبان کا چراغ جلنا نا ممکن ہے۔ اگر آج بھی اردو تعلیم کی سہولتیں مہیا کردی جائیں تو دس سال کے بعد ہندوؤں کی نئی نسل تک ہندی کو خیر باد کہہ کر اردو کو اختیار کر لے گی کیوں کہ ہندی تو کوئی زبان ہی نہیں ہے۔ فسطائی ہندوؤں کی سازش صرف اردو رسمِ خط تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ وہ کسی بھی طرح ہندستان میں مسلم تہذیب کے تمام عناصر کو ختم کرکے ہندو راشٹر کے نام پر نراج کا خواب دیکھتے ہیں۔ ایک زمانے میں اردو کو رومن اسکرپٹ میں لکھنے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی۔ اس تحریک کے حامیوں میں پنڈت نہرو اور ان کے کچھ مسلمان دوست مثلاً پروفیسر عبد العلیم وغیرہ پیش پیش تھے۔ اپنی اس تجویز کی حمایت کے لیے ان اردو دشمنوں کو کرایے کے کچھ اور مسلمان بھی مل گئے تھے مگر اردو عوام نے پوری قوت سے اس تحریک کو مستر د کردیا۔ اگر مسلمانوں کو ہندستان میں رہنا ہے اور اردو زبان نیز اپنی ثقافت و تہذیب کا تحفّظ کرنا ہے تو اس کے لیے انھیں ایسا لائحۂ عمل مرتب کرنا ہوگا جس میں حکومت کا تعاون کہیں شامل نہ ہو، کیوں کہ حکومت کے تعاون کے ساتھ سازشوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ حکومت اردو کو جتنی مراعات دیتی جارہی ہے، اردو اتنی ہی تیزی سے رو بہ زوال ہو رہی ہے۔
اردو رسمِ خط کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے سنسکرت کو تھوپنے کی غرض سے ایک احمقانہ جواز یہاں کی پرمپرا یا روایت کا حوالہ دے کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ جواز بھی انتہائی جاہلانہ ہے۔ اوّل تو سنسکرت خود غیر ملکی زبان ہے جو آریوں کے ساتھ یہاں آئی تھی اور عوامی زبان بننے کی صلاحیت سے بالکل محروم تھی۔ ہندستان کی پرمپرا ئیں مختلف ادوار میں مختلف رہی ہیں۔ آریوں کے آنے سے پہلے ہندستان کی پرمپرا کچھ اور تھی۔ آریوں کے آنے کے بعد بھی یہاں اکثریت کی زبان سنسکرت نہیں تھی بلکہ ایک بہت چھوٹا طبقہ سنسکرت بولتا تھا۔ ہندستانی تاریخ کے کسی بھی دور میں سنسکرت یہاں کی زبان نہیں رہی۔ یہاں آنے والے ہر حکمراں نے یہاں بولی جانے والی زبانوں کو اختیار کرلیا۔ پھر ہندستان کی پرمپرا سنسکرت کی پرمپرا کہاں ہوئی؟ جو لوگ اردو رسمِ خط کو غیر ملکی قرار دے کر تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں انھیں یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ آریہ بھی غیر ملکی تھے اور سنسکرت انھیں کے ساتھ یہاں آئی تھی۔ اس طرح ہندی کا رسمِ خط بھی غیر ملکی ہے۔ اس طرح کی باتیں کرنے سے صرف اور صرف ملک کے لیے خطرات بڑھیں گے جو مبارک بات نہیں۔
بشکریہ:سہ ماہی رسالہ “اردو ادب”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: