کنور نارائن کی نظمیں۔

دیواریں
اب میں ایک چھوٹے سے گھر
اور بہت بڑی دنیا میں رہتا ہوں
کبھی میں ایک بہت بڑے گھر
اور چھوٹی سی دنیا میں رہتا تھا
کم دیواروں سے
بڑا فرق پڑتا ہے
دیواریں نہ ہوں
تو دنیا سے بھی بڑا ہو جاتا ہے گھر۔

                   اتنا کچھ تھا

 

اتنا کچھ تھا دنیا میں

لڑنے جھگڑنے کو

پر ایسا من ملا

کہ ذرا سے پیار میں ڈوبا رہا

اور جیون بیت گیا

٭٭٭

                   معمولی زندگی جیتے ہوئے

 

جانتا ہوں کہ میں

دنیا کو بدل نہیں سکتا،

نہ لڑ کر

اس سے جیت ہی سکتا ہوں

ہاں لڑتے لڑتے شہید ہو سکتا ہوں

اور اس سے آگے

ایک شہید کا مقبرہ

یا ایک اداکار کی طرح مشہور ۔۔۔

لیکن شہید ہونا

ایک بالکل مختلف طرح کا معاملہ ہے

بالکل معمولی زندگی جیتے ہوئے بھی

لوگ چپ چاپ شہید ہوتے دیکھے گئے ہیں

٭٭٭

اعجاز عبید کے شکریے کے ساتھ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: