میرؔ کے کلام میں عشق کا تہذیبی تصوّر:احمد محفوظ

 


موضوعات و مضامین کے تنوع کے لحاظ سے غزل اگرچہ بے انتہا وسعت رکھتی ہے،اور اس میں ہر طرح کے خیالات نظم ہوتے رہے ہیں،تاہم اس بات سے انکار نہیں ہو سکتا کہ غزل کا بنیادی اور مرکزی موضوع عام  طور سے عشق وعاشقی ہی قرار پایاہے۔اسی بنا پر مشرقی ادبی تہذیب کی رو سے غزل کو بجا طورپر عشقیہ شاعری کا نمایاں ترین اظہار تسلیم کیاگیاہے۔چوں کہ بطور عشقیہ شاعری غزل کی باقاعدہ ابتدا ایران سے ہوئی، اس لیے فارسی میں غزل کی طویل روایت نے جو عروج حاصل کیا وہ آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔علامہ شبلی’’ شعرالعجم‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’عشق ومحبت انسان کا خمیر ہے،اس لیے جہاں انسان ہے عشق بھی ہے،اور چونکہ کوئی قوم شاعری سے خالی نہیں،اس لیے کوئی قوم عشقیہ شاعری سے بھی خالی نہیں ہو سکتی۔لیکن ایران اس خصوصیت میں اور تمام ملکوں سے بڑھا ہوا ہے۔یہاں مدت دراز کے تمدن نے انسانی جذبات کو نہایت لطیف اور زود اشتعال بنا دیا تھا،اس لیے ذرا سی تحریک سے یہ شعلہ بھڑک اٹھتا تھا،اور دل ودماغ کو آتش فشاں بنا دیتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ایران میں جس قدر عشقیہ شاعری کو ترقی ہوئی اور اصناف سخن کو نہیں ہوئی‘‘۔۱؂
اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ دنیا کی کوئی ادبی تہذیب غالباً ایسی نہ ہوگی جس میں عشقیہ شاعری کا وجود نہ ہوگا۔پھر یہاں یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ عشقیہ شاعری کے دیگر نمونوں کے مقابلے میں کیا غزل کچھ امتیازات رکھتی ہے، یا عشقیہ خیالات کے اعتبار سے اس کی کیفیت کم وبیش یکساں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عشقیہ خیالات کے اعتبار سے غزل بڑی حد تک اپنی الگ اور بالکل منفرد شناخت رکھتی ہے۔یہاں عشق و عاشقی سے متعلق جو باتیں بیان ہوتی ہیں، ان کا بہت بڑا حصہ تصوراتی اور رسومیاتی ہے۔
عشق کی تصوراتی اور رسومیاتی باتوں سے مراد یہ ہے کہ غزل کی دنیا میں عام طور پر عشق سے متعلق جو باتیں بیان ہوتی ہیں، وہ پہلے سے طے شدہ تصور کی پابند ہیں۔مثلاً جہاں عشقیہ خیال بیان ہوگا، وہاں عاشق و معشوق اور ان کے متعلقات کا ذکر براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ضرور آئے گا۔اب اگر غزل میں اس کو بیان کیا جائے گا تو عاشق کو ناکام،نامراد اور شکست خوردہ وغیرہ کہنا ہوگا اور اس کے برعکس معشوق کو ظالم وجفاکار، سنگ دل، وفاناآشنااور شوخ وشنگ وغیرہ کہا جائے گا، یعنی عین ممکن ہے کہ حقیقی دنیا کا کوئی معشوق ان صفات کا حامل نہ ہو،لیکن غزل میں معشوق کا بیان انھیں مذکورہ صفات کے ساتھ کیا جائے گا۔اسی طرح لازمی نہیں کہ دنیا کے تمام عشاق انھیں صفات کے حامل ہوں جن کا اوپر ذکر ہوا،لیکن غزل کی دنیا کے عاشق کا کردار انھیں خصوصیات کے ساتھ بیان ہوگا جو اس سے رسومیاتی طور پر وابستہ ہیں۔یہ بھی خیال رہے کہ غزل کی عشقیہ دنیا میں عاشق ومعشوق کے علاوہ اور بہت سے کردار ہیں(مثلاً واعظ وناصح،رقیب وغیرہ) جن کی حیثیت تصوراتی و رسومیاتی ہے۔
ظاہر ہے، غزل کے عشقیہ پہلو سے متعلق یہ تصورات ہماری تہذیب کے پیدا کردہ ہیں۔اور چوں کہ فارسی اور اردو کی تمام غزل میں یہ تصورات شروع ہی سے کارفرما چلے آرہے ہیں، لہٰذا کم و بیش ہر شاعر کے یہاں ان کے استعمال کی نوعیت عام طور سے یکساں ہے۔یعنی ان تصوراتی باتوں کو مسلمہ اصول کی حیثیت سے تمام شعرا نے اپنے پیشِ نظر رکھا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کچھ شعرا غزل کی دنیا کے مسلمہ حقائق کے دائرے میں رہتے ہوئے اکثروبیشتر اپنے مزاج اور افتاد طبع کے زیر اثر کچھ ایسے پہلو اور ایسی صورتِ حال بھی خلق کرتے ہیں جنھیں ہم ان شعرا سے مخصوص قرار دے سکتے ہیں۔مثال کے طور پر میرؔ اور غالبؔ دونوں کے یہاں معشوق کا وہی رسومیاتی کردار لایا گیا ہے جو غزل کی دنیا سے مخصوص ہے، لیکن میرؔ کا بیان کردہ معشوق غالبؔ کے معشوق سے الگ پہچانا جا سکتا ہے۔درجِ ذیل اشعار سے بات شاید واضح ہو جائے گی:
غالب:
کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ

کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی

مشکل کہ تجھ سے راہ سخن وا کرے کوئی
میر :
وقت قتل آرزوے دل جو لگے پوچھنے لوگ

میں اشارت کی ادھر ان نے کہا مت پوچھو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یوں ہی کب تک لوہو پیتے ہاتھ اٹھا کر جان سے

وہ کمر کولی میں بھر لی ہم نے کل خنجر سمیت
میر کے درج بالا دوسرے شعر کے سامنے غالب کا حسب ذیل شعر رکھ کر دیکھئے تو ان دو بڑے شعرا کے یہاں غزل کے معشوق کے روایتی کردار کا فرق مزید واضح ہو جائے گا:
اس نزاکت کا برا ہو وہ بھلے ہیں تو کیا
ہاتھ آئیں تو انھیں ہاتھ لگائے نہ بنے
ان اشعار سے میر اور غالب کے افتاد مزاج کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح میر کی غزلوں اور عشقیہ مثنویوں کو جب ہم دیکھتے ہیں تو عشق کی ایک خاص صورت حال نظر آتی ہے، جسے میر کے عشقیہ کلام کی ایک امتیازی صفت قرار دیا جا سکتا ہے۔یہاں دیوان دوم کی ایک غزل کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق
جان کا روگ ہے بلا ہے عشق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو
سارے عالم میں بھر رہا ہے عشق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشق ہے طرزوطور عشق کے تیں
کہیں بندہ کہیں خدا ہے عشق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشق معشوق عشق عاشق ہے
یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلکش ایسا کہاں ہے دشمن جاں

مدعی ہے پہ مدعا ہے عشق


خیال رہے کہ اس غزل میں کل نو شعر ہیں جس میں سے صرف پانچ شعر یہاں نقل کیے گئے۔یہ بھی ظاہر ہے کہ چونکہ اس غزل کی ردیف میں ’عشق‘ شامل ہے ،اس لیے پوری غزل میں جو مضامین بیان ہوئے ہیں وہ کسی نہ کسی صورت میں عشق پر مبنی یا اس سے متعلق ہیں۔ اس کے مطلعے کے مضمون میں کوئی خاص نہیں ہے، اور یہ مضمون اس قدر عام ہے کہ اسے شعرا اکثر باندھتے رہے ہیں۔ تاہم اس کے باقی اشعار جس نوع کے ہیں، وہ ہمیں عشق کے ایک مخصوص تہذیبی مظہر کی صورت سے آشنا کرتے ہیں۔اس تہذیبی مظہر کی تہ میں عارفانہ کیفیت اور متصوفانہ فکر کا وہ پہلو کارفرما دکھائی دیتا ہے، جس کی رو سے عشق کو تمام کائنات کا مرکز فرض کیا گیا ہے۔یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ درج بالا دوسرے شعر کے بارے میں شمس الرحمن فاروقی کے خیالات پیش کر دیے جائیں جو انھوں نے اس کی شرح کرتے ہوئے ظاہر کیے ہیں۔فاروقی صاحب لکھتے ہیں:
’’یہ شعر کئی مفہوم رکھتا ہے۔قرآن میں مذکور ہے کہ تمام چیزیں اﷲ کی تسبیح کرتی ہیں۔اس پس منظر میں دیکھیے تو یہ شعر عارفانہ اور تحمیدی ہے۔اگر’ عشق‘ کو صوفیانہ اصطلاح کے پس منظر میں رکھیں تو یہ شعر صوفیانہ اور درویشانہ ہو جاتاہے۔صوفیانہ اصطلاح سے میری مراد ’عشق‘ کا وہ تصور ہے جس کی رو سے تمام چیزوں کی حرکت اور ان کے وجود کا باعث عشق ہے۔جیسا کہ غالب نے کہا ہے:
ہے کائنات کو حرکت تیرے ذوق سے
پرتو سے آفتاب کے ذرے میں جان ہے
تیسرا مفہوم یہ ہے کہ اس شعر کا متکلم کوئی عارف یا خدارسیدہ شخص نہیں بلکہ ایک عام عاشق ہے۔عشق کے غلبے کے باعث اسے دنیا کی ہر چیز میں عشق ہی عشق نظر آتا ہے، یا اسے محسوس ہوتا ہے کہ کائنات کے جو بھی مظاہر ہیں وہ سب کسی نہ کسی کے عاشق یا معشوق ہیں۔ ایوتشنکو (Evtushenko) نے ایک جگہ لکھا ہے کہ جب مجھے کوئی ایسا شخص ملتا ہے جسے میں نا پسند کرتا ہوں،یعنی جب میری ملاقات کسی ایسے شخص سے ہوتی ہے جو مجھے پسند نہیں آتا،تو اپنی ناپسندیدگی کو روکنے کے لیے میں فوراً یہ خیال کرتا ہوں کہ ممکن ہے یہ شخص بھی کسی کا محبوب ہو۔اور اگر وہ کسی کا محبوب ہوگاتو اس کے محب کو اس شخص میں کچھ خوبیاں تو نظر آتی ہوں گی ۔میر کے شعر میں عاشق/متکلم کو بھی ہر جگہ،ہر چیز عشق کے جذبے سے متاثر نظر آئے تو کیا عجب ہے۔ سادہ بیانی اور اس قدر معنوی امکانات کے ساتھ، یہ میر کا خاص رنگ ہے‘‘۔۲؂
شعرِ زیرِ بحث کے بارے میں شاید اس سے بہتر گفتگو نہیں کی جا سکتی۔ فاروقی صاحب بجا طور پر شعر کی سادگی بیان کے ساتھ اس میں پنہاں کثیر معنوی امکانات کا ذکر کرکے اسے میر کے مخصوص رنگ سے تعبیر کرتے ہیں۔اسی کے ساتھ اگر اس شعر میں بیان کردہ عشق کے مخصوص تہذیبی پہلو کو سامنے رکھا جائے تو شعر کی معنویت مزید بڑھ جاتی ہے۔اس شعر کے ساتھ میر کے دیوان پنجم کی ایک غزل کے حسبِ ذیل اشعار رکھ کر دیکھئے تو صورتِ حال مزید واضح ہو جاتی ہے۔اس غزل کی ردیف میں بھی ’عشق‘ شامل ہے:
ارض وسما میں عشق ہے ساری چاروں اور بھرا ہے عشق
ہم ہیں جناب عشق کے بندے نزدیک اپنے خدا ہے عشق
ظاہر وباطن اول وآخر پائیں بالا عشق ہے سب
نور وظلمت معنی وصورت سب کچھ آپھی ہوا ہے عشق
ایک طرف جبریل آتا ہے ایک طرف لاتا ہے کتاب
ایک طرف پنہاں ہے دلوں میں ایک طرف پیدا ہے عشق
یہاں دیوان دوم کے درج بالا دوسرے شعر کے فنی پہلو سردست میرے پیش نظر نہیں ہیں، بلکہ صرف یہ دیکھنا مقصود ہے کہ میر نے عشق کو جس تہذیبی تناظر میں رکھ کر بیان کیا ہے ،وہ میر کا ایسا امتیازی وصف ہے جو ہمیں اور کہیں مشکل سے نظر آئے گا۔
میر کے یہاں دس مثنویاں ایسی ہیں جن میں عاشقانہ قصے بیان ہوئے ہیں۔عشق وعاشقی پر مبنی قصوں کو مثنوی میں بیان کرنے کی روایت بہت پرانی ہے۔چناں چہ خاصی تعداد میں نہایت مشہور داستانیں فارسی اور اردو میں بصورت مثنوی قدیم زمانے سے ہماری روایت کا حصہ ہیں۔ میر کے عہد میں مثنوی لکھنے کا رواج زیادہ تھا، اس لیے بھی بہت سے عشقیہ قصے نظم کیے گئے۔میر کی ان مثنویوں میں دو مثنویاں خاص طور سے قابل ذکر ہیں؛’ شعلۂ عشق‘ اور ’مور نامہ‘۔ان دونوں مثنویوں میں عشق کی جو صورت نظر آتی ہے، اسے ایسی غیرمعمولی قوت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے جو ساری کائنات میں ہر چیز پر متصرف ہے۔وہ ایسی طاقت ہے جو خود کو اس لیے ظاہر کرتی ہے کہ دنیا پر اپنے جبر واقتدار کا عالم دکھا سکے۔یہ عشق خود ہی عاشق اور معشوق کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے یعنی انھیں پیدا کرتا ہے،پھر خود ہی انھیں جلا کر خاک کر دیتا ہے۔
’’شعلۂ عشق‘‘ کے قصے میں آخر کار عاشق اور معشوق دونوں دریا میں ڈوب کرموت سے دوچار ہو تے ہیں، اور آخر میں صرف ایک شعلے کی صورت نظر آتی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ وہی عشق کا شعلہ تھا جس نے معشوق اور عاشق دونوں کو جلا کر ختم کر دیا۔اس مثنوی میں آغاز قصہ سے پہلے میر نے بتیس اشعار میں عشق ومحبت کے تعلق سے کچھ تمہیدی باتیں بیان کی ہیں،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عشق ایسا کائناتی مظہر ہے،جس کی قوت کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔اس عالم میں جو کچھ ہے سب عشق ہی کی کارفرمائی سے ہے۔عشق سے کچھ بھی خالی نہیں۔ تمہیدی اشعار سے کچھ مثالیں ملاحظہ کیجیے:
محبت نے ظلمت سے کاڑھا ہے نور

نہ ہوتی محبت نہ ہوتا ظہور
محبت مسبب محبت سبب

محبت سے آتے ہیں کار عجب
محبت بن اس جا نہ آیا کوئی

محبت سے خالی نہ پایا کوئی
محبت ہی اس کارخانے میں ہے

محبت سے سب کچھ زمانے میں ہے
محبت سے کس کو ہوا ہے فراغ

محبت نے کیا کیا دکھائے ہیں داغ
محبت لگاتی ہے پانی میں آگ

محبت سے ہے تیغ وگردن میں لاگ
محبت سے ہے انتظام جہاں

محبت سے گردش میں ہے آسماں
محبت سے روتے گئے یار خوں

محبت سے ہو ہو گیا ہے جنوں
گیا قیس ناشاد اس عشق میں

کھپی جان فرہاد اس عشق میں
ہوئی اس سے شیریں کی حالت تباہ

کیا اس سے لیلیٰ نے خیمہ سیاہ
کوئی شہر ایسا نہ دیکھا کہ واں

نہ ہو اس سے آشوب محشر عیاں
کب اس عشق نے تازہ کاری نہ کی

کہاں خون سے غازہ کاری نہ کی
ان تمہیدی اشعار میں عشق کی جو تصویر پیش کی گئی ہے اس کے مخصوص رنگوں کو اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔دنیا کی کوئی قوم اور تہذیب عشق سے خالی نہیں،لیکن ہماری مشرقی تہذیب میں عشق کا تصور جس رنگ روپ میں ظاہر ہوا ہے، اس کی ایک مخصوص صورت اوپر کے اشعار میں دیکھی جا سکتی ہے۔اس مثنوی کا اختتام درجِ ذیل اشعار پر ہوتا ہے:
اگر ہے یہ قصہ بھی حیرت فزا

ولے میر یہ عشق ہے بد بلا
بہت جی جلائے ہیں اس عشق نے

بہت گھر لٹائے ہیں اس عشق نے
فسانوں سے اس کے لبالب ہے دہر

جلائے ہیں اس تند آتش نے شہر
محبت نہ ہو کاش مخلوق کو

نہ چھوڑے یہ عاشق نہ معشوق کو
’’مورنامہ‘‘ اس لحاظ سے نہایت دلچسپ اور اپنے انداز کی منفرد مثنوی ہے کہ اس میں بھی اگرچہ عشقیہ قصہ بیان ہوا ہے، لیکن اس میں عشق کی نوعیت مختلف بلکہ بڑی حد تک خلاف معمول صورتِ حال کی حامل ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں ایک مور کو رانی سے عشق ہو جاتا ہے،لیکن اس عشق کی جو کیفیت بیان کی گئی ہے وہ کم و بیش انسانوں سے مخصوص کیفیت ہے۔جب راجا کو اس عشق کی خبر لگتی ہے تو وہ مور کو عبرت ناک سزا دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔آخر کار وہ مور راجا کے خوف سے بستی سے نکل کر سانپوں کے جنگل میں جا چھپتا ہے۔لیکن راجاکو جب اس کا پتا چلتا ہے تو وہ ایک لشکر بھیج کر اس جنگل میں آگ لگوا دیتا ہے تاکہ مور اس میں جل کر خاک ہو جائے۔پھر پایان کار یہی آگ جنگل سے پھیلتی ہوئی بستی میں آ لگتی ہے اور اس آگ سے رانی بھی جل کر ختم ہو جاتی ہے۔302 اشعار پر مشتمل یہ طویل مثنوی درج ذیل اشعار پر ختم ہوتی ہے:
کیا لگی تھی دل کو رانی جل گئی

خاک ہو کر خاک ہی میں رل گئی
عشق ہی کی ہیں یہ تازہ کاریاں

عشق نے پردے میں جانیں ماریاں
مور کے بدلے جلایا دشت مار

مار و اژدر جل گئے چندیں ہزار
جل کے لشکر ہو گیا تھا بے چراغ

یہ خبر سن ہو گیا راجا بھی داغ
عشق سے کیا میر اتنی گف وگو

خاک اڑا دی عشق نے ہر چار سو
درمیاں نے کوہ نے انبوہ ہے

رانی کا راجا کا اب اندوہ ہے
طائر وطاؤس و حیواں اژ دہے

سب کھپے کیا عشق کی کوئی کہے
یہ فسانہ رہ گیا عالم کے بیچ

بازماندہ ان کے ہیں سب غم کے بیچ
محبت ایسا جذبہ ہے جو صرف انسانوں سے مخصوص نہیں ہے،بلکہ جانوروں میں بھی اس کی کارفرمائی قدرت کی طرف سے ودیعت ہوئی ہے۔اسی کے ساتھ انسان اور جانور کے بیچ چاہت اور محبت کا تعلق ہماری دنیا کے معمولات میں ہے۔لیکن جانور اور انسان کے بیچ اگر عشق کی صورتِ حال کا بیان ہو تو اسے ضرور غیر معمولی کہا جائے گا۔اس لحاظ سے میر کی یہ مثنوی قابلِ ذکر انفرادیت کی حامل قرار پاتی ہے۔ ’’مور نامہ‘‘ کے بارے میں شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں :
’’میر کا کلام اس قدر متنوع ہے کہ اس میں’’مورنامہ‘‘ کوئی انوکھی مثنوی نہیں ہے۔لیکن اس کی شاعرانہ نزاکتوں سے قطع نظر بھی کیجئے(کیونکہ وہ میر کے تمام کلام میں موجود ہیں) تو دو بنیادی باتیں نظر آتی ہیں۔ایک کا ذکر میں پہلے ہی کر چکا ہوں،یعنی تمام طرح کے جانوروں اور عام اشیا سے میر کی غیرمعمولی دلچسپی،اور دوسری بات یہ کہ میر کی نظر میں جانور بھی انسانوں کی کئی صفات سے متصف ہیں۔یعنی جانوروں میں نزاکت طبع، شائستگی اور جرأت کردار بھی ہے،اور وہ جذبہ اور احساس کی دولت سے بھی مالا مال ہیں‘‘۔۳؂
’’مورنامہ‘‘ میں عاشق یعنی مور کو جن صفات کا حامل دکھایا گیا ہے،وہ وہی ہیں جو انسانوں سے مخصوص ہیں۔یہاں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مور رانی کے عشق میں انھیں کیفیات سے دوچار ہوتا ہے جو کسی معمولی عاشق پر گذرتی ہیں۔عشق کے انسانی تجربے کو ایک جانور سے وابستہ کرکے اس طرح بیان کرنا کہ وہ جانور انسانی صفات کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے،میر کے خلاقانہ کمال کی نہایت عمدہ مثال ہے۔جہاں تک اس مثنوی میں عشق کی تہذیبی صورت کا تعلق ہے، تو یہاں بھی کم وبیش وہی صورت حال دکھائی دیتی ہے جس کا نمونہ اوپر ’’شعلۂ عشق‘‘ کے بیان میں آپ نے دیکھا۔’’مورنامہ‘‘ اور ’’شعلۂ عشق‘‘ کے منقولہ اختتامی اشعار عشق کی ایک ہی تہذیبی صورت کی نشان دہی کرتے ہیں،اور یہ صورت میر کے یہاں جس رنگ میں جلوہ گر ہوئی ہے ،اس کی کوئی دوسری مثال نہیں نظر آتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی:
۱؂ شعرالعجم، حصہ پنجم: علامہ شبلی نعمانی،دارالمصنّفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ(یوپی)،ایڈیشن اپریل 2014، ص 32
۲؂ شعر شور انگیز،جلد دوم: شمس الرحمن فاروقی، قومی کونسل براے فروغ اردو زبان ،نئی دہلی،تیسرا ایڈیشن 2007،ص 310-11۳؂ میرصاحب کا زندہ عجائب گھر:کچھ تعجب نہیں خدائی ہے:شمس الرحمن فاروقی مشمولہ کلیات میر، جلد دوم مرتبہ احمد محفوظ،قومی کونسل براے فروغ اردو زبان ،نئی دہلی،دوسری طباعت 2013،ص 55-56

بشکریہ:رسالہ “اردو ادب”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: