فہمیدہ ریاض کی نظمیں۔

تم بالکل ہم جیسے نکلے

–فہمیدہ ریاض

تم بالکل ہم جیسے نکلے ،
اب تک کہاں چھپے تھے بھائی
وہ مورکھتا وہ گھامڑ پن
جس میں ہم نے صدی گنوائی
آخر پہنچی دوار توہارے ،
ارے بدھائی بہت بدھائی
پریت دھرم کا ناچ رہا ہے
قائم ہندو راج کرو گے ؟
سارے الٹے کاج کرو گے ؟
اپنا چمن تاراج کرو گے ؟
تم بھی بیٹھے کرو گے سوچا ،
پوری ہے ویسی تیاری
کون ہے ہندو کون نہیں ہے ،
تم بھی کرو گے فتویٰ جاری ؟
ہوگا کٹھن یہاں بھی جینا ،
دانتوں آجائے گا پسینہ
جیسی تیسی کٹا کرے گی ،
یہاں بھی سب کی سانس گھٹے گی
بھاڑ میں جائے شکشا وکشا ،
اب جاہل پن کے گن گانا
آگے گڑھا ہے یہ مت دیکھو ،
واپس لاؤ گیا زمانہ
مشق کرو تم آجائے گا ،
الٹے پاؤں چلتے جانا
دھیان نہ دوجا من میں آئے ،
بس پیچھے ہی نظر جمانا
ایک جاپ سا کرتے جاؤ ،
بارم بار یہی دہراؤ
کیسا ویر مہان تھا بھارت ،
کتنا عالی شان تھا بھارت
پھر تم لوگ پہنچ جاؤ گے ،
بس پرلوک پہنچ جاؤ گے
ہم تو ہیں پہلے سے وہاں پر ،
تم بھی سمے نکالتے رہنا
اب جس نرک میں جاؤ وہاں سے
چٹھی وٹھی ڈالتے رہنا

………..

عالم برزخ

یہ تو برزخ ہے یہاں وقت کی ایجاد کہاں

اک برس تھا کہ مہینہ ہمیں اب یاد کہاں

وہی تپتا ہوا گردوں وہی انگارا زمیں

جا بہ جا تشنہ و آشفتہ وہی خاک نشیں

شب گراں زیست گراں تر ہی تو کر جاتی تھی

سود خوروں کی طرح در پہ سحر آتی تھی

زیست کرنے کی مشقت ہی ہمیں کیا کم تھی

مستزاد اس پہ پروہت کا جنون تازہ

سب کو مل جائے گناہوں کا یہیں خمیازہ

ناروا دار فضاؤں کی جھلستی ہوئی لو!

محتسب کتنے نکل آئے گھروں سے ہر سو

تاڑتے ہیں کسی چہرہ پہ طراوت تو نہیں

کوئی لب نم تو نہیں بشرے پہ فرحت تو نہیں

کوچہ کوچہ میں نکالے ہوئے خونی دیدے

گرز اٹھائے ہوئے دھمکاتے پھرا کرتے ہیں

نوع آدم سے بہر طور ریا کے طالب

روح بے زار ہے کیوں چھوڑ نہ جائے قالب

زندگی اپنی اسی طور جو گزری غالبؔ

ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک لڑکی سے

سنگ دل رواجوں کی

یہ عمارت کہنہ

اپنے آپ پر نادم

اپنے بوجھ سے لرزاں

جس کا ذرہ ذرہ ہے

خود شکستگی ساماں

سب خمیدہ دیواریں

سب جھکی ہوئی گڑیاں

سنگ دل رواجوں کے

خستہ حال زنداں میں

اک صدائے مستانہ

ایک رقص رندانہ

یہ عمارت کہنہ ٹوٹ بھی تو سکتی ہے

یہ اسیر شہزادی چھوٹ بھی تو سکتی ہے

یہ اسیر شہزادی 

۔۔۔۔۔۔۔۔

اس گلی کے موڑ پر

اس گلی کے موڑ پر اک عزیز دوست نے

میرے اشک پونچھ کر

آج مجھ سے یہ کہا

یوں نہ دل جلاؤ تم

لوٹ مار کا ہے راج

جل رہا ہے کل سماج

یہ فضول راگنی

مجھ کو مت سناؤ تم

بورژوا سماج ہے

لوٹ مار چوریاں اس کا وصف خاص ہے

اس کو مت بھلاؤ تم

انقلاب آئے گا

اس سے لو لگاؤ تم

ہو سکے تو آج کل مال کچھ بناؤ تم

کھائی سے نکلنے کی آرزو سے پیشتر

دیکھ لو ذرا جو ہے دوسری طرف ہے گڑھا ہے

آج ہیں جو حکمراں ان سے بڑھ کے خوفناک ان کے سب رقیب ہیں

دندنا رہے ہیں جو لے کے ہاتھ میں چھرا

شکر کا مقام ہے

میری مسخ لاش آپ کو کہیں ملی نہیں

اک گلی کے موڑ پر

میں نے پوچھا واقعی

سن کے مسکرا دیا کتنی دیر ہو گئی

لیجئے میں اب چلا اس کے بعد اب کیا ہوا

کھڑکھڑائیں ہڈیاں

اس گلی کے موڑ سے وہ کہیں چلا گیا

 آرٹ کارڈ بشکریہ خواب تنہا آرٹ کلیکٹو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: