میری تحریریں میرا آئینہ ہیں : خوشونت سنگھ

خوشونت سنگھ 1915ء میں ہڈالی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ لاہور گورنمنٹ کالچ، کنگز کالچ اور انرٹمپل لندن سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے کئی سال تک وکالت کی، پ1951ء میں آل انڈیا ریڈیو میں صحافی کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ انہوں نے سکھوں کی تاریخ کو دو جلدوں میں مرتب کیاہے۔ کئی ناول لکھے جس میں “ٹرین ٹو پاکستان” اتنا مشہور ہواکہ 1954ء کا گروو پریس ایوارڈ دیا گیا۔ خوشونت سنگھ 1980ء-86ء تک ممبر پارلیمنٹ رہے۔ 1974ء میں انہیں پدم بھوشن انعام دیا گیا، جو انہوں نے 1984ء میں سکھوں کے قتلِ عام کے باعث واپس کردیا تھا۔ خوشونت سنگھ کا انتقال 20 مارچ، 2014ء کو 99 سال کی عمر میں ہوا۔ ٭

“میں کوئی اچھا آدمی نہیں ہوں۔ مجھے عورتیں، خاص کر خوبصورت عورتیں اچھی لگتی ہیں۔ مجھے سکھوں کے مذاق پسند ہیں۔ میں نے ریڈیو اور سٹیج دونوں کے لیے ڈرامے لکھے۔ مجھے نہیں معلوم مجھے لوگ سچائی کی وجہ سے پسند کرتے ہیں۔ میرے پاس سیاست دانوں سے لیکر فلمی شخصیات اور توپ لکھنے والے آتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے ان کی خواہش ہوتی تھی کہ میں ان کا نام لے کرکچھ لکھوں۔ سچ بتاؤں، میرے پاس آنے والی خواتین بھی ایسی ہی خواہش میں بھیگی ہوتی تھیں۔ گپ اور مزاق، میری تحریر اور میری زندگی کا لازمہ ہیں۔ میرے اردگرد اور میرے پاس بہت گنہگار شخصیتیں آتی ہیں۔ اپنی ذات کا ایک اور رُخ دکھانے کو۔ میں نے اپنی گزشتہ زندگی میں ایک دھیلا بھی اپنے سفر یا کھانے پر ضائع نہیں کیا۔ سب دوستوں کی محبتوں کے باعث ہوا۔ مجھے کبھی بھی افسوس نہیں ہوا جبکہ میں نے کسی کی موت کے حوالے سے کالم لکھا ہو اور اس میں بھی چٹکلے اور چبھتے ہوئے فقرے نہ ہوں۔ اس کے باوجود، میں نے کبھی کسی کی بے عزتی نہیں کی ہے۔ میں نے ایسے کردار تخلیق کیے ہیں کہ ان پر اصل کا گمان ہوتا ہے۔ مجھے بہت اچھا لگا جب میں نے علامہ اقبال کا “شکوہ” اور باباگورونانک کی “بارہ ماہ” انگریزی زبان میں ترجمہ کی تھیں۔ میں نے بہت پیار اور دُکھ کے ساتھ “مدرٹریسا” پر کالم لکھا تھا۔ ٹوکیو شہر مجھے دنیا بھر میں زیادہ دلفریب لگا۔ جو لطیفوں کی کتاب میں نے مرتب کی اس کا شکار بھی میں خود ہوں اور حوالہ بھی ہوں۔ میں جب “ہندوستان ٹائمز” کا ایڈیٹر تھا تو کئی دفعہ پان میں لتھڑا ہوا، پٹھانی سوٹ پہن کر آجاتا تھا۔ گاڑی بھی میری پھٹیچر تھی۔ ایک دن میں دفتر سے واپس آرہا تھا تو کناٹ پیلس کے قریب دو امریکی عورتوں نے مجھے ٹھر جانے کو کہا۔ میں بڑا خوش ہواکہ اب تو امریکی بھی مجھے پہچانتے ہیں۔ وہ دونوں قریب آئیں تو بولیں “اے ٹیکسی! تاج ہوٹل۔” یوں میرے سارے تصورات خاک میں مل گئے۔ تب سے مجھے امریکی اچھے نہیں لگتے ہیں۔ ایک بات نہیں بتائی۔ اچھا چلو سن لو، میں نے انہیں تاج ہوٹل پہنچایا، پانچ روپے بل لیا اور دو روپے ٹپ اور یہ سارا قصہ اگلے دن کے اخبار میں لکھ بھی دیا۔ میں اپنے بارے میں لکھتے ہوئے نہ یہ محسوس کررہاہوں کہ جیسے عورتیں میک اپ کرتے ہوئے محسوس کرتی ہیں نہ جیسے مرد شیو کرتے ہوئے خود کو آئینے میں دیکھنے ہیں۔ جب مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں آخر آپ خود کو کیسا مصنف سمجھتے ہیں؟ میں فوراً کہہ دیتا ہوں کہ میں خود کو مصنف سمجھتا ہی نہیں۔ مجھ سے بہتر انگریزی تو نراد چودھری، وی اس نیپال، سلمان رشدی، امیتابھ گھوش اور وکرم سیٹھ لکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں خوبصورت تحریریں تو ملک راج آنند، آر کے نرائن، راج آنند، منوہر ملگونکر، روتھ چھلا بوالا، نیا ترا سہگل یا انیتا ڈیسائی نے پیش کی ہیں۔ کیا مجھے لوگ پسند کرتے ہیں۔ مشکل ہے کہ مجھ میں اچھا دوست بننے کی صلاحیت نہیں ہے کہ میں جانتا ہوں کہ جس قدر وقت دوست اور دوستی چاہتی ہے اتنا وقت میرے پاس نہیں ہے۔ میں لوگوں سے بہت جلد بور ہوجاتا ہوں۔ میں ان سے باتیں کرنے کے بچائے پڑھنا شروع کردیتا ہوں۔ نہ میرے اندر پیار کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ مجھے چاہے جانے کی خواہش ہے۔ نفرت میرے اندر پیر جمائے بیٹھی ہوئی ہے مگر یہ کسی طبقے کے خلاف نہیں، افراد کے خلاف ہوتی ہے۔ میرے دشمن کے دوست، میرے بھی دشمن ہوجاتے ہیں مگر اس قابل بہت کم لوگ ہیں، جن سے میں نفرت کرسکوں۔ مجھے زبردستی لوگوں کے نام بیان کرنے کی بھی عادت نہیں، نہ مجھے اپنی تعریف کرتے ہوئے لوگ اچھے لگتے ہیں۔ چونکہ ایسے سارے لوگ سیاستدان، وزیر، کبیر ہوجاتے ہیں۔ میں ان لوگوں کو تحریر میں بھی بُرا بھلا کہہ دیتا ہوں۔ مجھے اپنی تحریروں کے باعث عدالتوں میں بھی گھسیٹا گیا۔ مجھے یہ لوگ کپڑے میں لپٹے ہوئے پتلے لگتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں، سوئیاں چبھوتا ہوں۔”

ترجمہ: کشور ناہید

انتخاب و کمپوزنگ: یاسر حبیب

بشکریہ یاسر حبیب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: