مرزا غالب کے یوم پیدائش پر ان کے کچھ اشعار آپ حضرات کے لیے۔

مرزا غالب کے یوم پیدائش پر ان کے کچھ اشعار آپ حضرات کے لیے۔

وائے دیوانگئی شوق کہ ہر دم مجھ کو
آپ جانا اُدھر اور آپ ہی حیراں ہونا

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں
آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا، جل گیا

عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک

تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسدؔ
سرگشتۂ خمارِ رسوم و قیود تھا

سنبھلنے دے مجھے اے ناامیدی کیا قیامت ہے
کہ دامانِ خیال یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے

شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا
قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی، دردِ لادوا پایا

جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچھا یوں سہی
یہ جنونِ عشق کے انداز چھُٹ جائیں گے کیا؟

ہوئے ہیں پاؤں ہی پہلے نبرد عشق میں زخمی
نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: