ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺷﻦ ﺩﻣﺎﻍ ﺗﮭﺎ ﻧﮧ ﺭﮨﺎ. حامدی کاشمیری صاحب نہیں رہے

ڈاکٹر لیاقت جعفری

افسوس صد افسوس

الطاف حسین حالی نے لکھا تھا

ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺷﻦ ﺩﻣﺎﻍ ﺗﮭﺎ ﻧﮧ ﺭﮨﺎ

ﺷﮩﺮﻣﯿﮟ ﺍِﮎ ﭼﺮﺍﻍ ﺗﮭﺎ ﻧﮧ ﺭﮨﺎ

حامدی کاشمیری صاحب نہیں رہے 
یہ ہم کشمیری ادیبوں کے لئے محض ایک روٹین خبرنہیں ہے، یہ چوپال کے آنگن میں لگے بستی کے سب سے چھتنار پیڑ کا کٹ جانا ہے، قبیلے کے سب سے بڑے بزرگ کے اٹھ جانے کے جیسا ہے یہ.. اردو دنیا کے ایک مجتہد العصرکی وفات ہے یہ..

آج کشمیرمیں اردو ادب کا شیرازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بکھر گیا ہے , یہ خسارہ آئندہ کب پورا ہو گا، کہا نہیں جا سکتا
حامدی کاشمیری اردو دنیا کو کشمیر کا جواب تھا،
تنقید، فکشن، شاعری، نظم، ادبی صحافت، ادارت سب میں ہماری جانب سے ایک ہی نمائندہ اردو دنیا میں چہرہ بن کر ابھرا تھا، حبیب الله بھٹ حامدی کاشمیری
گزری نصف صدی میں اردو دنیا کے لئے “کشمیر میں اردو” کا مطلب صرف حامدی کاشمیری تھا
حامدی سے قبل اگرچہ کرشن چندر،چراغ حسن حسرت، منٹو، شورش کے حوالے سے بھی کشمیراردو حلقوں میں اپنا تعارف پیش کر چکا تھا لیکن تقسیم کے ادھر یہ حامدی ہی تھے جنہوں نے تنقید جیسے خشک اوردقیق سبجیکٹ کو ہتھیار بنا کراردو دنیا میں کشمیرکے فہم وادراک کو اسٹیبلش کیا.. اردو ادب میں کشمیری اردو کا مان بڑھایا..
اردو دنیا میں ہمارے اس ادبی/ثقافتی سفیر کا بدل پیش کیا جانا ناممکنات میں سے ہے اب..
یہ سلسلہ یہیں ختم ہے اب ہمیشہ کے لئے..
معیاراورحجم کے اعتبار سے یہ ایک اکیلا شخص جتنا کام کر گیا ہے.. اس کی چھٹانک کی توقع بھی اب کسی سے نہیں..
حامدی سے پہلے بھی اور اب بعد میں بھی، نا کسی کے پاس اتنا ذھن ہے، نا شعور، نہ خلاقیت نا پوٹینشل.. داستان اپنے اختتام کو پہنچ چکی، ہیرواپنا کام نپٹا کے مر چکا، یہ شخص اب ایک لیجنڈ ہے کسی فوق الفطرت قصّے کا، جس کا ذکر ہوتا رہے گا ہمیشہ..
میں اور میرے عهد کے تمام ادیب شاعراب عمر بھر ڈینگیں ہی ماریں گے کہ ہم نے حامدی کو دیکھا ہے، اس کے ساتھ چاے پی ہے، اس کے ہاتھ کو مس کیا ہے..

کشمیر میں مہجور، غنی کاشمیری،رسول میر، لل عارفہ جیسے لیجینڈس کی فہرست میں ایک اور نام شامل ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پریسروہو گیا، حامدی جیسے لوگوں کا سفر ان کی جسمانی موت کے بعد اور بھی شدّت سے رفتار پکڑتا ہے.. یہ لوگ اگرچہ بظاھر انسانی لبادے میں جی لیتے ہیں، ستر اسی نوے سال.. لیکن بعد ازاں زمانوں تک کے لئے ادارے، رجحان اور تحریک کی شکل اختیار کر لیتے ہیں.. آئندہ اردو ادب میں کشمیری دبستان کے حوالے سے جب بھی تحقیق کا کام ہو گا تو “حامدی سے پہلے اور حامدی کے بعد” کے تناظر میں ہی بات آگے بڑھے گی.. حامدی میل کا پتھر ہے اب.. بعد کے ادیب اس پتھر کے قریب تک بھی پہنچ جاییں تو بڑی بات ہے، اس سے ہو کے گزرنا تو خواب ہی ہے اب..
بقول رحمن فارس

(تماشا) ختم ہوا اور ایسے ختم ہوا
کے لوگ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

غالباً ٢٠٠٣ / ٢٠٠٤ کی بات ہو گی میں پہلی بار اردو ادب کے کسی مقتدر رسالے میں بار بار چھپا، یہ رسالہ حامدی صاحب کا جہات تھا
وہ خوشگوار دن ہے اور آج کل منحوس دن…. حامدی صاحب کے ساتھ جموں اور سرینگر میں سینکڑوں ملاقاتیں ہیں، بے شمار یادیں ہیں
ذرا سا سنبھل لوں تو ضرور ایک تفصیلی تعزیتی پرچہ لکھوں گا
فی الحال مصرہ مریم جی کی تنہائی بدستور ذھن پر حاوی ہے.. یہ دونوں ایک دوسرے کا سایہ تھے.. الله مصرہ جی کو صبر دے کہ انھیں حامدی صاحب کے بغیر جینے کی عادت ڈالنا ہو گی..
اجازت حامدی صاحب کے ہی شعر کے ساتھ
صبح سویرے اتری شام
جانے کیا ہو گا…. انجام

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: