ایاز میلو: وقت سے چرایا ہوا ایک دن .سید کا شف رضا

کراچی کے علاقے ملیر میں ایک علاقے کا نام یار لوگوں نے ”محبت نگر“ رکھ چھوڑا ہے۔ آپ کا دوست وہاں تک تو نہیں جا سکا لیکن اس سے آگے حیدرآباد تک متعدد بار ہو کر آیا ہے اور سمجھتا ہے کہ حیدرآباد میں سندھ میوزیم اور قرب و جوار کے علاقے کا نام ”محبت نگر“ رکھ ہی دینا چاہیے۔ اس بار ہمیں ایاز میلو میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ ہم اپنی ناقابلِ اعتبار گاڑی کو ناقابلِ اعتبار ہی سمجھتے ہوئے چھوڑ کر صبح صبح عزیزم رفاقت حیات کے طے کردہ مقام الآصف اسکوائر پہنچے تو وہاں وہ ایک قابلِ اعتبار گاڑی اور دو مزید مسافروں کے ساتھ موجود تھے۔دورانِ سفر رفاقت حیات نے ادبیات اور فکشن سے متعلق اپنے فکر و فلسفے سے ہمیں کماحقہ آگاہ کیا۔ جس انداز سے وہ سندھ کا ذکر کرتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ کسی پرستان کا ذکر کر رہے ہیں۔ موٹروے کے دونوں طرف نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے پرستان بھی موجود تھے۔ پریوں کی کہانیاں سننے والے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ان سوسائٹیوں کے سپرد کرتے ہیں اور ہاتھ جھاڑ کر گھر آ جاتے ہیں۔ پھر ایک سہانی صبح حکومت یا اس کا کوئی ادارہ انھیں اطلاع دیتا ہے کہ وہ ہاؤسنگ سوسائٹی تو قانونی تھی ہی نہیں۔ اس طرح ریاست نے عام شہریوں کے ضرورت سے زیادہ امیر ہو جانے کی روک تھام کے لیے مناسب انتظام کر رکھا ہے۔حیدرآباد میں مطلوبہ مقام پر ہم اس قدر جلد پہنچ گئے کہ وہاں تنبو اور قناتیں لگتے اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور انھیں کراچی کے تنبو قناتوں کے جیسا پا کر اطمینان کا اظہار کیا۔ رفاقت حیات نے اس دوران علی زاہد کو طلب کر لیا جو سندھی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی نظمیں کہتے ہیں۔ علی زاہد ہمیں ایک اخبار کے دفتر لائے جس کے وہ ایڈیٹر ہیں۔ اس دفتر میں دو اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے اشتہار دیکھے اور معلوم ہوا کہ علی زاہد کا اخبار بھی ہاؤسنگ سوسائٹی والے چلا رہے ہیں۔ ہم نے عن قریب ٹھٹھہ یا تھر میں کوئی فارم ہاؤس خرید کر وہاں زیبروں کی افزائشِ نسل کا پروگرام سوچا تاہم اپنے پاس مناسب مقدار میں روپیہ نہ ہونے کے سبب فی الحال اسے ٹال کر ساگ روٹی کھانے لگے جو علی زاہد نے منگوائی تھی۔دوبارہ خانہ بدوش پہنچے تو وہاں منتظمین کو اپنا منتظر پایا۔ حسین مسرّت نام کی ایک دھان پان سی خاتون نے ہمیں مزید کھانا کھلانے کی کوشش کی۔ اسی دوران وہاں عرفانہ ملّاح تشریف لے آئیں جو ہمارے سیشن کی میزبان تھیں۔ وہ سیشن کے متوقع سوالوں سے ہمیں آگاہ کر کے پرچہ آوٹ کرنے لگیں۔ زندگی بھر ساری گپ شپ اپنے آپ ہی سے کرتے رہنے کے باعث جب کسی بھی اجنبی سے بات چیت کی نوبت آتی ہے تو ہم کم ہی بول پاتے ہیں۔ سو بولنے کا کام رفاقت نے اور سننے کا ہم نے کیا۔ ویسے بھی عرفانہ ایسی خوش گفتار ہیں کہ ان کے ہر سوال کا جواب صرف ہاں یا نہیں میں دینا چاہیے تا کہ وہ اپنا اگلا سوال شروع کر سکیں۔

اسی دوران علی آکاش وہاں تشریف لے آئے اور ایک تازہ ناول کا ذکر کرنے لگے جس کی واحد کاپی ان کے بعد اب ان کے دوستوں میں گردش کر رہی ہے۔ انھوں نے ناول کا ذکر ایسے انداز میں کیا کہ حیا سے ہمارے کانوں کی لویں سرخ ہو گئیں۔ اب عرفانہ ملاح بھی متوجہ ہوئیں تو ہم نے اپنی تھیلی سے اس ناول کی ایک کاپی نکال کر انھیں پیش کر دی۔

باہر نکلے تو امر سندھو سے ملاقات ہوئی۔ اس کے بعد وہ ایاز میلے کے پنڈال میں یہاں سے وہاں گھومتی ہوئی نظر آئیں۔ حتیٰ کہ مقررّین کے مائیک درست کرانے یا میزبان کے کان میں کوئی بات ڈالنے کے لیے خود اسٹیج پر پہنچ جاتی تھیں۔ کچھ دیر بعد ہمیں لال بینڈ کے تیمور رحمان نظر آئے تو ہم پھر سے مہمانوں کے کمرے میں آ گئے۔ تیمور رحمان اردو میں ولاگ کرتے ہیں اور ہمیں کبھی کسی سیاسی فلسفے کے در و بست اور کبھی اٹلی کے در و دیوار کی سیر کراتے ہیں۔ کچھ دیر میں بخشن مہرانوی تشریف لے آئے۔ وہ سراپا محبت ہیں۔ ان کے چہرے پر ایک ایسی مُسکراہٹ سجی ہوتی ہے جیسے ہر وقت وہ اپنے محبوب کے رُوبرُو ہوں۔

کچھ دیر بعد ہمارا سیشن شروع ہو گیا۔ موضوع تھا ”شیخ ایاز کے ہم عصر شعراء“۔ رفاقت شیخ ایاز کی کتابیں ساتھ لائے تھے تاکہ کوئی سوال ان میں سے پوچھا جائے تو حوالے کے ساتھ جواب دے سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شیخ ایاز کے ہم عصر اردو شعراء عملی میدان میں مادری زبانوں کے شعراء سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ ہم نے عرض کی کہ اردو ترقی پسند شعراء دلی و لکھنؤ کے زوال پذیر جاگیردارانہ سماج کی مخصوص زبان سے خود کو الگ نہیں کر سکے۔ تیمور رحمان نے اس سے اختلاف کیا اور حبیب جالب کے کچھ اشعار سنائے جو بالکل عوامی زبان میں تھے۔ ہم نے جواب میں فیض کا ایک شعر پڑھا جس میں اکٹھی چار اضافتیں تھیں :

گر فکرِ زخم کی تو خطاکار ہیں کہ ہم
کیوں محوِ مدحِ خوبیٗ تیغِ ادا نہ تھے

پھر حاضرین سے پوچھا کہ چار اضافتوں والا یہ مصرع کیا کسی کی سمجھ میں آیا؟ ہم نے بتایا کہ یہاں مقصد صرف ایک چیز کی نشان دہی کرنا ہے تاکہ سندھی شاعری کی عوامی مقبولیت اور اردو شاعری کی نسبتاً کم عوامی مقبولیت کی وجہ تلاش کی جا سکے۔ ورنہ اردو شاعری کی تفہیم کی صورتِ حال بہتر کرنے میں تو ہم خود بھی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں اور ہم خود بھی جب غزل کہتے ہیں تو ایسی ہی مفرّس تراکیب استعمال کرتے ہیں، بلکہ اسے کافی نہ سمجھتے ہوئے مبہم و مغلّق نثری نظمیں بھی کہتے ہیں۔یہ غزلیں اور نظمیں ہم نے جن محبوباوں کے لیے لکھی تھیں ان کی سات پُشتیں بھی ان کی تفہیم سے قاصر رہیں گی۔ سچ پوچھیے تو ایسی شاعری سے ہمارا مقصد بھی یہی تھا کہ ہمارے عزائم پردہ ء اخفاء میں ہی رہیں اور کوئی فادر آوٹ لاء ہماری گردن ناپ سکے نہ ہم فرشتوں کے لکھے پر ہی پکڑے جا سکیں۔ اس لیے ہماری گزارشات کو اگر کسی کی مخالفت پر محمول کیا جائے تو یہ دراصل خود اپنی ہی مخالفت ہے۔ تیمور رحمان نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔سیشن ختم ہونے کے بعد ہم تو واپس مہمانوں کے کمرے میں آ گئے مگر کچھ دیر بعد باہر ہال میں کسی کے دھاڑنے کی آواز سنائی دی۔ ہم باہر گئے تو امر سندھو کی آواز سارے میں گونج رہی تھی۔ روشن خیال فکر اور ایک ترقی پسند سندھ کے حق میں ان کی جوشیلی تقریر پر مجمع مبہوت تھا۔ تقریر سندھی میں تھی لیکن اس کا ایک ایک لفظ دل میں اُتر رہا تھا۔ کسی اگر مگر، چونکہ یا چنانچہ کے بغیر یہ اس مقصد کا واضح اور دوٹوک اظہار تھا جسے سننے کو کان ترس گئے تھے۔ سندھ کے صوفی ازم اور مزاحمت کی توانا روایتیں باشعور اور خودآگاہ نسائیتکی مغربی روایت سے جڑ رہی تھیں۔میں، رفاقت اور بخشن ایک کونے میں راز و نیاز کی باتیں کر رہے تھے کہ لال بینڈ کے تیمور رحمان نے اپنا گٹار سنبھالا۔ دو تین انقلابی گیتوں کے بعد انھوں نے ”رنگ“ کے نام سے اپنا نیا رومانی گیت بھی سنایا۔ ان کی اہلیہ بھی ہم آواز تھیں اور خوب سماں بندھ گیا تھا۔ بخشن نے ہمیں بتایا کہ وہاب شاہ نامی ایک ماہرِ رقص کچھ دیر میں اس ہال کے پچھلی جانب رقص کرنے والا ہے سو وہ ہمیں وہاں لے گئے۔ وہاب شاہ کے والدین کا تعلق پنجاب سے ہے مگر انھوں نے زندگی کا کافی عرصہ آسٹریلیا میں گزارا۔ ان کے رقص کے پروگرام کی میزبانی عطیہ داود اور ذکیہ ملاح نے سنبھالی۔ بخشن نے بتایا کہ ذکیہ، عرفانہ ملاح کی بہن ہیں۔ ابتداء میں جب بے قابو مجمع کو سنبھالنا ان دو نرم خُو خواتین سے ممکن نہ ہوا تو بخشن نے خود مائیک سنبھالا اور مجمع کو قابو کر کے ہمارے ساتھ بیٹھ رہے۔وہاب شاہ اور ان کے ساتھیوں نے پہلی پرفارمنس عابدہ پروین کے گانے ”گھم چرخڑا“ پر دی اور اس کے بعد باقی گانوں پر۔ اس دوران رفاقت حیات کو حال آنا شروع ہو گیا تھا جب کہ ہمارا یہ حال ہے کہ ہم کسی رقّاص کے سر کے علاوہ اس کے جسم کے کسی اور حصّے پر کوئی بال دیکھ لیں تو ہماری طبیعت مالش کرنے لگتی ہے۔ جب کہ یہاں تو رقّاص حضرات نے باقاعدہ داڑھیاں رکھّی ہوئی تھیں۔ محفل گرم ہوئی تو رفاقت حیات نے جوشِ مسرّت سے اپنے آگے بیٹھے ایک شخص کے کاندھے پر ڈھول بجانا شروع کر دیا۔ وہ شخص اُن سے بھی زیادہ کُشتہ ء تیغِ ستم نکلا اور رفاقت کے ڈھول کی تھاپ کے ساتھ ساتھ اپنا سر بھی دُھننے لگا۔ہم وہاب شاہ اور ان کی ٹیم کو داد دے کر، ان کے ساتھ سیلفیاں بنا کر باہر نکلے اور بخشن مہرانوی کی گاڑی میں بیٹھ گئے جنھوں نے ہمیں واپس کراچی لے جانے کی پیش کش کر رکھّی تھی۔ تب ہمیں یاد آیا کہ سب کے ساتھ تصویریں بن گئیں مگر امر سندھو اور عرفانہ ملّاح جیسی تاریخی شخصیات کے ساتھ تو تصویر بنی ہی نہیں۔ ہم نے بخشن سے عرض گزاری اور وہ ہم دونوں کو لیے لیے ایک بار پھر مہمانوں کے کمرے کی طرف گئے۔ سب نے بہ خوشی تصویر بنوائی۔ کاتبِ وقت سے مسرّت کے چند لمحے چرا لینے کی اس کام یاب واردات پر تصاویر میں سب ہنستے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ بخشن مہرانوی کی گاڑی میں کراچی واپسی کے وقت یہ مسرّت قائم تھی جو کراچی میں ایک سیاسی قتل کی خبر سن کر کافور ہو گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: