بلراج مین را اور خالدہ حسین کی یاد میں:ڈاکٹر سرورالہدیٰ

 

14

یا 15 جنوری کو میں عموماً پٹنہ سے دہلی کے لئے روانہ ہوتا ہوں۔ چھٹیوں کے دو ہفتے وطن میں گزارنے بعد یوں بھی وطن کی مٹی پکڑنے لگتی ہے لیکن اس خاک کو دیر تک سنبھالنا دشوار ہوجاتا ہے۔
عزیز کیوں نہ ہو خاک رہ وطن مجھ کو
یہ میرے ساتھ مرے پیرہن میں آئی ہے
کلیم عاجز
ایسی ہی ایک چھٹی وطن میں گزار کر دہلی روانہ ہوا تھا کہ راستے میں مین را کے بیٹے مشکن نے فون پر بتایا کہ پاپا نہیں رہے۔ جنوری کی 15 تاریخ جیسے جیسے قریب آتی ہے دل دھڑکنے لگتا ہے۔ کل پندرہ جنوری کو پٹنہ سے دہلی روانہ ہونا ہے۔ بلراج مین راکی ایک نہایت ہی پسندیدہ فکشن نگار خالدہ اصغر ابھی چند دنوں قبل رخصت ہوگئیں۔ ان کے انتقال کی خبر پروفیسر شمیم حنفی سے ملی۔ کافی دیر تک شمیم حنفی خالدہ حسین کا ذکر کرتے رہے۔ ان کا خیال ہے کہ اردو میں ایسی باصلاحیت لکھنے والی ایک دو ہی پیدا ہوئیں۔ دنیا کے تمام بڑے ادیبوں کا خالدہ نے مطالعہ کیا تھا اور ان سب کا اثر ان کی تحریروں پر ہوا۔ پھر مجھے ’’معیار‘‘ کے پہلے شمارے کا خیال آیاجس میں بلراج مین را نے خالدہ حسین کی پانچ کہانیوں کو شمیم حنفی کے تعارف کے ساتھ شائع کیا تھا۔ یہ واقعہ’’شعور‘‘ کی اشاعت سے پہلے کا ہے۔ ’’معیار‘‘ کا پہلا شمارہ اتنا اہم ہے کہ اسے محفوظ کرلینا چاہئے۔ بلراج مین را ایسے پہلے ادیب اور ادبی صحافی ہیں جنہوں نے کم سے کم ہندوستان میں پہلی مرتبہ اس طرح خالدہ حسین کو متعارف کرایا۔ شمیم حنفی کہتے ہیں کہ مین را نے مجھے خالدہ کی کہانیاں دیں، یہ کہتے ہوئے کہ آپ کو ایک زبردست مضمون خالدہ پر لکھنا ہے۔ چنانچہ شمیم حنفی نے مین را کی تحریک پر مضمون لکھا اور یہ کہانیوں کے ساتھ شائع ہوا۔ بلراج مین را خالدہ حسین کا بہت ذکر کیا کرتے تھے۔ وہ ان کے افسانوں کے سلسلے میں کچھ اور بھی تاریخی نوعیت کا کام کرنا چاہتے ہیں مگر یہ ممکن نہ ہوسکا۔ اصل میں وقت نکلتا جاتا ہے لیکن وقت کے ساتھ مین را کی ترجیحات نہیں بدلیں۔ وہ جن ادیبوں کو پسند کرتے تھے تمام عمر ان کے بارے میں گفتگو کرتے رہے۔ خالدہ حسین پر ’’معیار‘‘ میں شائع ہونے والا گوشہ ہندوستان میں شاید پہلا اور آخری شائع ہونے والا گوشہ تھا۔ بلراج مین را کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان میں خالدہ حسین کو سنجیدہ حلقے میں پڑھا جائے اور ان کے بارے میں سنجیدہ گفتگو کا سلسلہ شروع ہو۔ یہ واقعہ ہے کہ خالدہ حسین کو پڑھنے اور انہیں سمجھنے والوں کی تعداد کم رہی ہے۔ اس سے خالدہ حسین کی اہمیت میں نہ تو کوئی کمی واقع ہوتی ہے اور نہ ہی اہمیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر کسی اہم ادیب کو کم پڑھا گیا اور کم سمجھا گیا تو اس بنیاد پر ادبی معاشرے کی مذمت نہیں کرنی چاہئے۔ خود بلراج مین را کو کتنا پڑھا گیا اور ایک دو لوگوں کے علاوہ جن لوگوں نے پڑھا انہوں نے کیا لکھا اور کیسا لکھا۔ خالدہ حسین کی کوئی کتاب بھی ہندوستان میں شائع نہیں ہوئی۔ بس وہی پانچ کہانیاں خلاصے کے طور پر پیش کی جاسکتی ہیں جو ’’معیار‘‘ میں مین را نے شائع کیں۔ میں نے پہلی مرتبہ ’’معیار‘‘ ہی کے وسیلے سے خالدہ حسین کو پڑھا تھا۔


شمیم حنفی نے کئی مرتبہ خالدہ حسین پر لکھنے کے لئے کہا لیکن میں خالدہ حسین کی زندگی میں ان کے حکم کی تعمیل نہیں کسکا۔ میں یہ سوچتا رہا کہ کچھ اور پڑھ لوں۔ بلراج مین را ہوتے تو خالدہ حسین کی رحلت پر جس طرح دکھ کا اظہار کرتے اب ہم اس کا صرف تصور ہی کرسکتے ہیں۔ یہ قدرت کا ایک فیصلہ تھا کہ خالدہ حسین کا انتقال بھی جنوری کے پہلے ہفتے میں ہوا اور مین را کا دوسرے ہفتے میں۔ اس وقت میں وطن میں ہوں نہ تو ’’معیار‘‘ کا تاریخی شمارہ ہے اور نہ ہی خالدہ حسین کی کوئی تحریر ہے، بس ان کے چند افسانے میرے فکرواحساس کا حصہ ہیں۔ انٹرنیٹ پر ان کے افسانے ، ان کی کتاب، ان کی گفتگو البتہ میں نے ضرور دیکھی، سنی اور پڑھی ہے۔ ان سب کو دیکھتے ہوئے پندرہ جنوری آگئی اور ایسا محسوس ہوا کہ خالدہ حسین اور بلراج مین را کے یہاں فکروخیال کی سطح پر بہت مماثلت نہ ہو مگر اچھا ادب لکھنے اور اچھا ادب پڑھنے کا جذبہ مشترک تھا۔ خالدہ حسین کے مقابلے میں مین را نے کم لکھا بلکہ مین را نے تو ناول لکھا ہی نہیں۔ ہندوستان میں خالدہ حسین کا افسانہ ’’سواری‘‘ اور غیاث احمد گدی کا افسانہ’’ پرندہ پکڑنے والی گاڑی‘‘ کی مماثلتوں کا ذکر بہت ہوتا رہا ہے۔ کچھ لوگ اس مسئلے کو حل کرنے میں لگے رہے کہ کس نے کس سے تحریک پاکر افسانہ لکھا۔ میں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ اب دونوں افسانے دو افسانہ نگاروں کے نام سے منسوب ہیں، انہیں الگ الگ پڑھا جائے اور قرأت کے بعد اگر ایک ساتھ رکھ کر دیکھنے کی داخلی ضرورت محسوس ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ بڑی بات یہ ہے کہ کسی موضوع یا مسئلہ کو تخلیق کار اس طرح تخلیقیت میں تبدیل کرے کہ وہ اس کا اپنا ہوجائے۔ اس اعتبار سے خالدہ حسین اور غیاث احمد گدی دونوں کا اپنا اپنا افسانہ ہے۔۔ بلراج مین را نے خالدہ کے ذکر میں کبھی ان مسائل کو چھیڑا نہیں۔ ان کا زور اس بات پر تھا کہ خالدہ کے افسانے گہری سطح تک جاتے ہیں اور وہ چالاکیوں کے بغیر اس گہری سطح کو چھوتے ہیں۔ اب سوچتا ہوں کہ کاش بلراج مین را سے خالدہ حسین کے سلسلے میں کچھ بات چیت ریکارڈ کرلیتا۔ مین را نے خالدہ حسین کے افسانے اور شمیم حنفی کے مضمون کو شائع کرکے یہ بھی بتانے کی کوشش کی تھی کہ اچھے ادیب کی پہچان ادبی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ اگر حل ہوجائے تو ایسا ادیب خراب لکھنے والوں کے لئے مسئلہ بن جاتا ہے۔ لہٰذا کسی اچھے ادیب کا رخصت ہوجانا ہمیں افسردہ تو کرتا ہے لیکن تحریریں حوصلہ دیتی ہیں۔ اس لحاظ سے مین را اور خالدہ حسین سے ہمارا لازمانی رشتہ قائم رہے گا۔

 


ڈاکٹر سرورالہدیٰ
شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: