جعفر زٹّلی، ایک سنجیدہ مہمل گو

انتظار حسین

جعفر مہمل گو، یعنی جعفر زٹّلی بہت دل چسپ کردار تھا۔ اس زمانے کے شرفا نے اسے یہ کہہ کرمسترد کر دیا تھا کہ وہ بے معنی اور فحش، گھٹیا باتیں کرتا ہے۔ جعفر نے مہمل گوئی کے الزام سے انکار نہیں کیا۔ اس کے برخلاف وہ اس پر اصرار کرتا رہا اور اپنی تحریروں کو، جن میں نثر بھی شامل ہے اور نظم بھی، زٹّل نامہ کے عنوان سے جمع کیا۔ اس لیے وہ جعفر زٹّلی کہلانے پر بُرا نہیں مانتا تھا۔

مہمل گوئی کو جس طرح عام طور پر لوگ دیکھتے آئے ہیں، وہ جعفر کے لیے انسانی زندگی کے معاملات کو دیکھنے اور سمجھنے کا ایک سنجیدہ طریقہ تھا۔ اس زمانے کے صاحب الرائے لوگ اور اس کے بعد کے زمانوں میں بھی اس کے منفرد نقطۂ نظر سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتے تھے۔اس لیے اس کی شاعری کو کبھی سنجیدہ مطالعے کے لائق نہیں سمجھا گیا۔ ادبی مورّخین نے بھی اسے غیر سنجیدہ سمجھ کر مُسترد کر دیا۔

ہمیں یہ اندازہ لگانے میں تقریباً دو سو برس لگے کہ جعفر کی زٹل معنی سے عاری نہیں تھی اور یہ کہ اس شاعری میں اس زمانے کی سماجی صورت حال اور انسانی معاملات پر بالعموم تبصرہ شامل ہے۔ چناں چہ ڈاکٹر جمیل جالبی جیسے نئے ادبی مورخ جعفر کی زٹل کی اہمیت کے قائل نظر آتے ہیں۔ اس ضمن میں تازہ ترین کام ہندوستان کے معروف محقق رشید حسین خاں کا ہے، جنہوں نے بڑی جستجو کے بعد جعفر زٹلی کے کلیات مرتب کیے ہیں اور ان کو زٹل نامہ کے نام سے شائع کر دیا ہے۔

 

یہ کتاب مجھ تک نیویارک میں مقیم ایک دوست کے قیمتی تحفے کے طور پر پہنچی ہے۔ یہ دوست ہیں عبدالوہاب خان سلیم۔ ادبی حلقوں میں ان کے بہت دوست ہیں۔ وہ دوستوں کو تحفے دینے کے قائل ہیں اور یہ تحفہ ہمیشہ کسی نہ کسی قیمتی کتاب کی صورت میں ہوتا ہے۔ درحقیقت وہ اپنے دوستوں کی فکری ضروریات کا حساب رکھتے ہیں۔ انہوں نے میری فکری ضروریات کا دُرست حساب لگایا ہے اور مجھے زٹل نامہ بھجوا دیا ہے۔

رشید حسن خاں، علی سردار جعفری کے ممنونِ احسان ہیں جو جعفر زٹّلی کے اس طرح نظر انداز کیے جانے پر ناخوش تھے اور ان کو تحریک فراہم کی کہ اس شاعر پر مزید کام کریں۔ جس عالم نے سب سے پہلے جعفر زٹّلی کی شاعری کی معنویت کی نشان دہی کی، وہ محمود شیرانی تھے۔

میر جعفر علی جو جعفر زٹّلی کے نام سے معروف ہوئے، اورنگ زیب کے دور حکومت میں پلے بڑھے اور بادشاہ فرّخ سیر کے دور حکومت میں اس کے حکم پر قتل کر دیے گئے۔ رشید حسن خان ان کو تلخ گو شاعر قرار دیتے ہیں، ایسا شاعر کہ جو کچھ دیکھتا ہے صاف اور تلخ لہجے میں بیان کر دیتا ہے۔ اس کی قیمت اس نے اپنی جان سے چُکائی۔ اس طرح، رشید حسن خاں کے بقول وہ آج کل کے نام نہاد انقلابی شاعروں سے بہتر قرار پاتا ہے۔

 

جعفر کی شاعری کے مطالعے کی بنیاد پررشید حسن خاں نے کچھ ایسے مفروضوں کا قلع قمع کر دیا ہے جو اردو زبان اور اردو شاعری کے بارے میں حقیقت کا درجہ اختیار کر گئے تھے۔ ایک مفروضہ یہ تھا کہ غزل دہلی میں اردو شاعری کا نقطۂ آغاز ہے اور اس کا آغاز اس دن ہوا جب ولی دکّنی کا دیوان اس شہر تک پہنچا۔ دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ اردو شاعری کی روایت فی الاصل غزل کی روایت ہے۔ ایک اور مفروضہ یہ ہے کہ اردو شاعری کم و بیش گل و بلبل کی داستان ہے جو عشق کے گرد گھومتی رہتی ہے اور کسی قسم کی سماجی تنقید سے عاری ہے۔

رشید حسن خاں کا اصرار ہے کہ جعفر زٹّلی پہلی صف میں موجود تھا جب اردو شاعری کا دہلی میں آغاز ہوا اور جعفر غزل گو نہیں تھا۔ ولی دکنی کا مجموعۂ غزلیات دہلی میں پہنچا تو اس سے پہلے غزل کے بغیر اردو شاعری کا آغاز ہو چکا تھا۔

رشید حسن خاں کے خیال کے مطابق، جعفر زٹّلی کی شاعری کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شمالی ہند میں اردو شاعری کا آغاز عشقیہ جذبات سے نہیں بلکہ سماجی تنقید سے ہوا تھا۔ جعفر زٹّلی کی شاعری سماجی تنقید کی بہترین شکل تھی۔

زٹّلی فی الاصل طنز نگار تھا۔ ہمیں اس کے طنز میں ارفع اور مُہمل کا امتزاج ملتا ہے۔ وہ اپنے اردگرد تیزی سے ابتر ہونے والی سماجی صورتحال سے بخوبی واقف تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس میں اتنی دیانت اور جرأت تھی کہ جو دیکھے سو کہہ دے۔ اس نے معاشرے میں پھیلی بدعنوانی کے بیان میں بادشاہوں اور شہزادوں کو بھی نہیں بخشا۔ وہ اورنگ زیب کے بیٹے شہزادہ کام بخش کا ملازم تھا جب اس کے خلاف طنزیہ ہجو لکھ ڈالی۔ اس کے نتیجے میں ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔ مگر جب اس نے بادشاہ فرخ سیر کے طرز حکومت پر بڑی صاف گوئی سے طنز کیا تو اس کی قیمت اپنی جان سے چُکانی پڑی۔

زٹّلی کی طنزیہ شاعری نے ایک نئے طرز اظہار کو جنم کیا جو جلد ہی ترقی پا کر ایک نئی صنف میں ڈھل گیا جسے شہر آشوب کا نام دیا گیا۔

رشید حسن خاں نے اپنے مقدمے میں اردو زبان کے ارتقاء میں جعفر زٹّلی کے کردار کو بھی متعّین کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس دور میں اردو ابتدائی صورت میں تھی۔ زٹّلی کی لسانی جدّت نے اس سلسلے کو تیز کر دیا۔ جس طرح وہ فارسی کے محاورے اور الفاظ اردو کے اشعار میں اور نئے ڈھالے جانے والے اردو الفاظ اور محاورات فارسی اشعار میں شامل کر دیتا تھا اور پھر طریقے سے نئے الفاظ اور محاورات گھڑتا تھا، وہ بہت عجیب معلوم ہوتا ہے۔

لیکن اس کے عجیب و غریب لسانی اظہار نے اردو کے لسانی ارتقاء میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ اس کی شاعری میں اردو بڑی تیزی کے ساتھ ایک ترقی یافتہ زبان کی طرف سفر کرتی نظر آتی ہے۔

(ترجمہ: آصف فرّخی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: