خالدہ حسین بھی اگلی منزلوں کو گئیں :محمد حمید شاہد

خالدہ حسین بھی اگلی منزلوں کو گئیں

محمد حمید شاہد

خالدہ حسین نہیں رہیں‘‘، کشور ناہید نے صبح صبح ٹیلی فون پر رندھائی ہوئی آواز میں جب یہ خبر دی تو یقین نہیں آرہا تھا ۔ایسا نہیں ہے کہ اُن کی مسلسل بگڑتی ہوئی صحت سے آگاہ نہیں تھا ،یا موت کی اس خبر نے مجھے اچانک آلیا تھا ۔ واقعہ یوں ہے کہ میں لگ بھگ ڈیڑھ سال سے موت کو ایک سائے کی صورت اُن کی جانب لپکتا دیکھ رہا تھا۔اُن کے گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا ۔ وہ dialysis پر تھیں اور روز بہ روز اُن کا وزن گرتاجارہا تھا ۔ تاہم ایسا بھی ہے کہ اس دوران ، جب جب ہمارا خالدہ حسین کی تیمارداری کی غرض سے ان کے ہاں جانا ہوا ، ان کے سرہانے کوئی نہ کوئی کتاب ضرور دیکھی اور ہر بار لکھنا پڑھنا ہی ہماری گفتگو کا موضوع رہا ۔ انہیں بیماری کے بارے میں بات کرنا اچھا نہیں لگتا تھا۔ تاہم جس تکلیف اور اذیت سے وہ گزر رہی تھیں،اسے ہم صاف محسوس کر سکتے تھے ۔ مجھے یاد ہے کوئی سال بھر پہلے جب میں اور میری اہلیہ،یاسمین ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، تو انہوں نےمیری جانب دیکھتے ہوئے کہا :’’شاہد صاحب، میری خواہش ہے کہ آپ میرےافسانوں کے نئے مجموعے پرلکھیں اور چھپنے کو دے دیں‘‘۔

افسانے جمع ہوگئے۔جو میں نے لکھنا تھا لکھ دیا اور انہیں ایک نظر دیکھنے کو دے آیا ۔اگلی صبح ان کا فون آیا۔ نقاہت بھری آواز میںانہوں نے میرا شکریہ ادا کیا اور پھر ان کے اس مجموعے کے افسانوں کے حوالے سے بات ہوتی رہی ۔ کتاب مرتب ہوگئی تو کشور ناہید کے مشورے سے اس کا نام طے ہوا’’جینے کی پابندی‘‘۔ یہ نام خالدہ حسین کے ایک افسانے کا تھا اور کتاب کے نام کے طور پر انہیں بھی بہت پسند آیا تھا۔ پروف پڑھنے سے لے کر کتاب کی اشاعت تک کشور ناہید نے بہت مدد کی ۔جب کتاب آگئی تو اُن کا فون آیا۔ ’’اپنی کتاب لے جائیں‘‘ ۔میں نے یاسمین کو ساتھ لیا اور گل دستے کے ساتھ ان کے ہاں پہنچ گیا۔ ان پر نقاہت طاری تھی، مگر وہ خوش اور قدرے پرجوش تھیں۔ انہوں نے مجھے کتاب کا جو نسخہ عطاکیامیں نے اسے کھول کر دیکھا تو اس کے پہلے صفحے پر لکھا تھا:’’نہایت ذہین نقاد اور افسانہ نگارحمید شاہد کے لیے ،خلوص کے ساتھ ۔ خالدہ حسین‘‘ ۔یہ الفاظ میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھے۔ان کا خیال تھا کہ وہ اپنی کتاب ’’جینے کی پابندی‘‘ کے موضوعات اور ٹریٹمنٹ میں ایک تنوّع لے کر آئی تھیں اور جاننا چاہتی تھیں کہ اس کے بارے میں ادبی حلقوں میں کیا رد عمل رہا ۔ لہٰذا جب جب ملاقات ہوئی اس پر بات رہی ۔ ایک بار یہ پروگرام بھی بنا کہ اس کتاب کے حوالے سے اکادمی ادبیات یااسلامک یونیورسٹی میں ایک نشست رکھتے ہیں۔ وہ اس پر آمادہ بھی تھیں۔ مگر ہم دیکھ رہے تھے کہ اب ان کے لیے ایسی کسی تقریب کے لیے بیماری کے بستر سے اترنا ممکن نہیں رہا تھا ۔ لہذا ایک روزجب آصف فرخی بھی اسلام آبا د میں تھے، ہم سب ان کے ہاں پھول اورکیک لے کر پہنچ گئے ۔ افتخار عارف، فتح محمد ملک، کشور ناہید ، آصف فرخی اور میری اہلیہ یاسمین کی موجودگی میں انہوں نے کیک کاٹا۔ سب نے انہیں مبارک باد دی اور کتاب کے حوالے سے بات کی۔یہ سب انہیں اچھا لگ رہا تھا ۔ اگر ان کے اعزاز میں کوئی آخری ادبی تقریب تھی تو وہ یہی نشست تھی ۔ اب جی چاہتا ہے کہ اس تحریر سے کچھ آپ کی نذر کروں جو ان کی کتاب ’’جینے کی پابندی‘‘ کے افسانوں کے حوالے سے ہے۔ تاہم یہاں بتاتا چلوں کہ خالدہ حسین ایک زمانے میں خالدہ اصغر کے نام سے بھی لکھتی رہی ہیں ۔ وہ 18 جولائی1938ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ 1954میں افسانہ نگاری کا آغاز کیا اور افسانوں کے مجمو عے ، ’’پہچا ن ‘‘ ، ’’ در وا زہ ‘‘ ،’’مصروف عور ت ‘‘ ، ’’خواب میں ہنوز ‘‘ ، ’’ میں یہاں ہوں‘‘،’’جینے کی پابندی‘‘ اور ناول’’کاغذی گھاٹ‘‘ سے فکشن کی دنیا میں اپنا الگ اور نمایاں مقام بنایا ۔

خالدہ حسین بھی اگلی منزلوں کو گئیں


افتخار عارف،کشور ناہید،حمید الدین شاہد،آصف فرخی وغیرہ کے ساتھ ایک یادگار تصویر
’’میں ایسے عہد میں پیدا ہوئی جس میںبہت بڑے بڑے لکھنے والے،بہت بڑے بڑے مفکر اور اردو ادب میں بہت بڑے لوگ پیدا ہوئے ہیں اور میں بہت چھوٹی چیزوں کے بارے میں لکھتی ہوں ۔ میں طبعاً ایسی ہی ہوں۔ شاید قدرت نے مجھے ایسا ہی پیدا کیا ہے کہ میں اپنے قریب کی چیزیں بہت تفصیل کے ساتھ دیکھتی ہوں اور دیکھنا چاہتی ہوں ۔میری زندگی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے مل کر بنی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ میرے چاروں طرف چھوٹی چھوٹی چیزوں کے پہاڑ ہیں اور میں ان ہی میں سے چیزیں چنتی رہتی ہوں، لیتی رہتی ہوں۔مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں نے کوئی بہت بڑے اور اعلی مقاصد پر نہیں لکھا یا کوئی بہت بڑے آئیڈیلز پیش نہیں کیے ، مگر میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ چھوٹا سوچنے والوں کے لیے اور چھوٹی چیزوں سے محبت کرنے والوں کے لیے بھی ، اس دنیا میں جگہ ہونی چاہیے ۔‘‘

یہ خالدہ حسین کے الفاظ ہیں ، جو میں نے عین مین اُن ہی کے لفظوں میں مقتبس کر دیے ہیں ۔ خالدہ حسین میرے لیے تخلیقی معجزوں کی ایک کائنات کا نام ہے۔ اپنی وضع کا بالکل الگ اور انوکھا فکشن لکھنے والی کا نام ۔ فکریات اور نظریات کے لیے لکھنا اُن کا مسئلہ نہیں رہا ہے ۔اور یہ بھی کہ زندگی اُن کا مسئلہ ہے۔ اس باب میں وہ سمجھتی ہیں کہ یہ زندگی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے مل کر بنی ہے، سوان ہی سے وہ اپنے افسانے کا مواد بھی اخذ کرتی ہیں ۔ اب اگر یہاں آپ کے ذہن میں وہ چھوٹی چیزیں آگئی ہیں جو ذات پات کی جکڑ بندیوں میں جکڑے سماج کے ایک غالب حصے کو ارون دھتی رائے کے ناول’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ میں اتنا چھوٹا بنا رہی ہیں کہ اُن کا خدا بھی الگ سا دِکھنے لگتا ہے، تو یوں ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ جتنی سہولت سے خالدہ حسین نے ایک بات کہہ دی ہے، یہ اتنی سادہ اور سیدھی نہیں ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے اتنے متنوّع تخلیقی تجربے کیے ہیں کہ انہیں محض وجودی افسانہ نگار سمجھنانادانی کے مترادف ہوگا۔

ان کے ایک افسانے ’’دادی آج چھٹی پر ہیں‘‘ کا پہلا جملہ لکھتا ہوں:’’دادی دوزخ میں جائیں گی!‘‘

میں نے پہلی بار اس جملے کو پڑھا تو چونکا تھا اور جب اس افسانے کی آخری سطر پر پہنچا تو میرے جسم میں وہی کپکپی دوڑ رہی تھی، جو کہانی کے آغاز میں ٹیرس کی ریلنگ پر جھکی بچی کے بدن میں دوڑ گئی تھی۔بالکل مختلف اور بے رحم بیانیہ ،میں نے اپنے تئیں تخمینہ لگایاتھا ۔ محض تخمینہ نہیں ،مجھے یقین ہوگیاتھاکہ یہ افسانہ اپنے بیانیے اور اسلوب کے اعتبار سے خالدہ حسین کے معروف افسانوں سے مختلف ہے ۔ لگ بھگ ایسا ہی خیال مجھے ان کا ایک اور افسانہ ’’ابن آدم ‘‘ پڑھ کر آیا تھا ۔ گویا اب میں کہہ سکتا تھا کہ خالدہ حسین محض ایک اسلوب کی اسیر افسانہ نگار نہیں ہیں۔ جس سہولت اور سفاکی سے وہ انسانی وجود کا ماس کاٹ کر اندر اُترتی رہی ہیں اور وہاں کلبلاتی، سرسراتی بھیدوں بھری کائنات کے مقابل ہوتی رہی ہیں، اتنی ہی بے رحمی اور تخلیقی التزام کے ساتھ وجود سے باہر کی ٹھوس اور سفاک حقیقت سے بھی معاملہ کر سکتی ہیں اور کیا ہے ۔

واقعہ یہ ہے کہ خود خالدہ حسین کے ہاں، چھوٹی چھوٹی چیزوں کا بڑااور بڑی چیزوں کا چھوٹا نظر آنا کسی سرجری کا نتیجہ نہیں ہے۔ جس نہج پر اُن کی تخلیقی شخصیت ڈھلی ، ایسا اسی کا شاخسانہ ہے۔ آئی ایل ایف کی ایک نشست میں انہوں نے فرمایاتھا:’’لکھنے والوں کو اپنے آس پاس کچھ ایسی چیزیں نظر آتی ہیں، جو دوسروں کو نظر نہیں آتیں ۔ اس لیے وہ تنہائی کا شکار بھی ہوتا ہے اور دوسروں سے پوچھتا بھی ہے کہ کیا آپ کو بھی ایسا نظر آتا ہے؟یہ جو مفاہمت ہے، ایک دوسرے سے بات کرنے کی کوشش،یہی کہانی لکھواتی ہے۔‘‘

انہوں نے اپنے ’’آس پاس‘‘کی جن نظر آنے والی چیزوں کی بابت بتایاہے اگر وہ آس پاس موجودہوتیں تو’’دوسروں‘‘کو بھی نظر آتیں۔اوراگر ’’دوسرے‘ ‘وہ سب دیکھ پاتے یا دیکھ رہے ہوتے، جو خالدہ حسین کے ہاں وجود کے ایک مسئلے کی صورت کہانی بنتارہا ہے ، تووہ قضیہ کیسے بنتا جو ہماری اس باکمال افسانہ نگارکے ہاں لکھنے کا جوازہواہے ۔ گویا جو وہ دیکھتی رہی ہیں ،وہ آس پاس کہیں نہیں تھا؛ وہ تواُن کے اندرتھا اور وہیں اُتھل پتھل مچاتا ، اُنہیںتنہا کرتااور اُن کے تخلیقی وجود کو انگیخت کرتاآیا تھا۔ یہیں میرا دھیان خالدہ حسین کے ایک ’’اعتراف‘‘ کی طرف چلا گیاہے۔یہ ‘‘اعتراف‘‘ ان کے افسانوں کے مجموعے ’’دروازہ‘‘ کے آغاز میں کچھ یوں ہو رہا ہے:

’’کہانی لکھنے کا عمل میرے لیے اپنے وجود کا رشتہ قائم رکھنے کی کوشش ہے۔ان دو دنیائوں کے ساتھ جو میرے اندر اور باہر بہتی ہیں اوریوں مسلسل بہتی ہیں کہ دونوں کے بہائو ایک دوسرے میں مدغم ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ تو جب مجھے اپنا وجود خطرے میں محسوس ہوتا ہے ،میں اپنے آپ کو لکھنے پر مجبور پاتی ہوں۔‘‘

خالدہ حسین کے الفاظ دہراتا ہوں: ’’جب مجھے اپنا وجود خطرے میں محسوس ہوتا ہے ،میں اپنے آپ کو لکھنے پر مجبور پاتی ہوں‘‘ مگرکیا اب بھی ایسا ہی ہے ؟ جی شاید ایسا ہو، مگرجن دو کہانیوں کا میں اوپر ذکر کر آیا ہوں ،یعنی ’’ابن آدم‘‘ اور ’’دادی آج چھٹی پر ہیں‘‘ اور ان کے علاوہ ’’نوٹس‘‘اور’’مجھے روک لو‘‘اور ان جیسے دوسرے افسا نے ، تو یہ سب ایسے ہیں جن کا بدلا ہوا بیانیہ سجھا رہا ہے کہ اب تخلیق کار کا وجود محض ایک فرد کا وجود نہیں رہا ہے ،اجتماعی زندگی کا استعارہ بھی ہوگیا ہے۔

ان کے فن کا اعجاز یہ ہے کہ وہ ایک ہی متن میں مختلف جہتیں رکھ دیتی ہیں ۔ ان کے افسانوں میں سماجی، سیاسی، مذہبی، زندگی کی حقیقی تصاویر کو بھی دیکھا جاسکتا ہے اور اس کی ذرا گہری تہہ میں انسانی نفسیات کی اکھاڑ پچھاڑ اور اس سے قدرے اور گہری تہہ میں کسی حد تک ہمادی زندگیوں کو ایک بھید بناتی مابعد الطبیعیات کو۔ ان کے کردار ایک بار آپ کی نظر میں آجائیں تو بھلائے نہیں بھولتے ۔ اپنے وجود سے باہر کھڑی ہو جانے والی بُشی خالہ(جو اپنے نام کے خول کے ساتھ ہمیں ہمیشہ یاد رہے گی )کی طرح ’’متبادل راستہ‘‘ کی عورت، اپنے پتلے پتلے لکیر نما ہونٹوں ، چنٹ دار ریشمی کپڑے جیسی جلد والے ہاتھوں اور جبڑوں کے گرد ڈھلکی ہوئی کھال کی وجہ سے نہیں بھول پائے گی۔عمر کے اس مرحلے پر ان کے افسانوں کا کینوس پھیلا اور موضوعات متنوع ہوئے ہیں ۔ انہوں نے روح عصر کو فکشن کے بیانیے کے بدن سے نکلنے نہیں دیا جس کی وجہ سے انہیں پڑھتے ہوئے تازگی کا احساس ہوتا ہے۔

خالدہ حسین کا شمار اُن اَفسانہ نگاروں میںکیا ہی نہیں جاسکتا جو اَپنے اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے مظاہر زندگی کے ملائم اور چکنے حصوں پر پھسلتے اور پھیلتے رہتے ہیںاور نہ ہی وہ اُن لوگوں میں سے ہیں جو تلخ زندگی کے خارجی نوکیلے اور کھردرے حصوں پر ہی سر کو پھوڑلینے کو تخلیقیت گردانتے ہیں۔ خالدہ حسین کا مُعاملہ یہ ہے کہ وہ مادی تفہیم سے آگے نکل جاتی ہیں اور زِندگی کے ہر مظہر کے باطن اور خارج میں جاری واقعے کی ہر لہر کی روح پر دستک دے آتی ہیں ۔ وہ مسلسل اِس کوشش میں رہتی ہیں کہ تہہ میں اُتریںاور نظر آنے یا محسوس ہونے والے کی ماہیت اور اَصل کو پالیں۔ ‘‘

یہ ماہیت اوراصل کو پالینے کی جستجو ہی وہ زرخالص ہےجو خالدہ حسین کے افسانے کو دوسروں کے افسانوں سے جدا اور ممتاز کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: