میں تقسیمِ ہندوستان کے عمومی تصور کو تسلیم نہیں کرتا: شمیم حنفی

(انٹر ویو: زمرد مغل)

زمرد مغل: آپ کی ایک تنقیدی کتاب ہے’’انفرادی شعور اور اجتماعی زندگی‘‘ اس کے پیش لفظ کے پہلے ہی جملے میں آپ نے اپنے تنقیدی سفر کو آپ بیتی سے تعبیر کیاہے۔ اس سے آپ کی کیا مراد ہے؟ ذرا وضاحت فرمائیں۔ گزرتے وقت کے ساتھ آپ کی اس رائے میں کوئی نمایاں تبدیلی واقع ہوئی یانہیں؟
شمیم حنفی:کئی بار ایسا ہوا کہ جب میں بہت پریشان رہا ہوں اس وقت مجھے میر کا کوئی شعر یاد آگیا۔ غالبؔ یااقبالؔ کا کوئی شعر یاد آگیا، کسی دوست مثلاً احمد مشتاق کا کوئی شعر یادآگیا اور طبیعت سنبھل گئی۔ تنقید میرے لیے ذہنی ورزش (Gymnastic)نہیں ہے۔ میں اس سے کچھ ثابت نہیں کرنا چاہتا کسی کو اپنا ہم خیال نہیں بنانا چاہتا مجھ پر جو گزرہی ہے کسی چیز کو پڑھنے کے بعد اس کا اظہار میں مناسب ترین طریقے سے کیسے کرسکوں گا۔میں کوئی مصور نہیں ہوں کہ تصویر بنادوں۔بس لفظوں کا تھوڑا بہت کاروبار میرے حصے میں آیاہے اسی کے ذریعے جو مجھ پر گزررہی ہے اس کا اظہار تنقید ہے۔
زمرد مغل: آپ کے نزدیک انفرادی شعور زندگی کی ضد نہیں ہے۔ لیکن شعور کے تعلق سے یہ کہا جاتا ہے کہ جمِ غفیر کا شعور اپنی سب سے نچلی سطح پر ہوتا ہے اور فرد کا شعور اپنی اعلیٰ ترین بلندیوں پر۔ اس کے تعلق سے آپ کی کیا رائے ہے۔کیاآپ فرد کے شعور کوانفرادی شعور کے معنوں میں ہی لیتے ہیں یاپھر انفرادی شعور فرد کے شعور سے الگ کوئی چیز ہے؟
شمیم حنفی: ہمارے ہاں اول تو زندگی کے دوسرے مسائل اتنے حاوی ہوتے ہیں انسان پر کہ ادب کی طرف اس کا رجحان کم ہوتاہے۔ دوسرے ہمارے یہاں خواندگی کی شرح کم ہے۔ ہمارے یہاں بے جا تعصبات کا چلن عام ہے۔ مذہب کی غلط تعبیر وتشریح ہر قوم میں آپ دیکھتے ہیں۔ ان باتوں کا بوجھ انسان کیحواس پر اتنا زیادہ ہے کہ کھل کر کسی چیز کے بارے میں سوچ نہیں سکتا۔ ادب تو تعصبات کوتوڑنے والی طاقت کا نام ہے۔ جو رکاوٹیں ،مذہب، سیاست کی مداخلت سے کھڑی ہوجایا کرتی ہیں، انہیں گرانے کا جو سب سے موثر وسیلہ ہے، وہ ادب ہے۔اگر ایسامعاشرہ پیدا ہوجائے تو وہاں انفرادی شعور اور اجتماعی شعور میں قربت کے بہت سے بہانے اپنے آپ پیدا ہوجائیں گے۔میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اجتماعی زندگی کے ادراک کے بغیر آپ کے انفرادی شعور کے بھی کوئی معنی نہیں۔میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ انفرادی شعور، اجتماعی زندگی کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔
مجھے کسی بھی قسم کے تعصب کو جانب داری کو کسی مہذب آدمی کے ساتھ وابستہ کرتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ میرے نزدیک تہدیب کی اور شائستگی کی پہچان یہ ہے کہ آدمی جتنا زیادہ اپنے ذہن کو مصلحتوں سے، تعصبات سے اور بہت ہی حقیر قسم کی ترجیحات سے اپنے کو آزاد کرلے،ہر معاملے میں اس کاذہن اتنا ہی تربیت یافتہ ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اپنے ہی بارے میں کوئی بات میں ذمہ داری سے کہہ سکتا ہوں میں نے بھی کسی طرح کی حصار بندی میں ، گروہ بندی میں یقین نہیں رکھا۔ اجتماعی شعور کے معاملے ہوتا یہ ہے کہ ہر اجتماع کو آپ معتبر نہیں کہہ سکتے۔ ایک اجتماع وہ ہوتا ہے کہ جہاں سبھی تعلیم یافتہ ہوں ،روسی انقلاب کے بعد سوویت یونین میں جو معاشرہ پیدا ہواوہاں بڑا ادب تونہیں لکھا گیا انقلاب کے بعد ، بڑا ادب تو وہاں انقلاب سے پہلے لکھا جاچکا تھا لیکن انقلاب کے بعد وہاں بڑا قاری ضرورپیدا ہوا کسی روسی ادیب نے کہا بھی تھا کہ ٹھیک ہے ہم نے بڑا ادب نہیں دیا انقلاب کے بعد لیکن ہم نے بڑا قاری پیدا کیا۔شیکسپیئر جتنا انگلستان میں پڑھا جاتا تھا اس سے زیادہ روس میں بڑھا جاتا تھا۔ انقلاب کے بعد کا زمانہ کا عام آدمی بھی ادب سے دلچسپی رکھتا تھا اور کیفیت یہ رہی ہے وہاں کے شدید موسم میں جس کا آپ تصور نہیں کرسکتے۔مثلاًRussian Winterجوبدنام ہے، اس عالم میں بھی لوگ کتابوں کے لیے قطاروں میں کھڑے رہتے تھے۔ گھنٹوں کھڑے رہتے تھے۔
ہیوم نے کہا تھا کہ کئی بار اکیلے آدمی کی آواز ہجوم کی آواز کے مقابلے میں زیادہ سچی اورطاقتور ہوتی ہے۔ انفرادی شعور کی تربیت کے لیے اجتماعی زندگی اہم کردار کرتی ہے۔ اس لیے اجتماعی زندگی کو ہمیں حقارت کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ عام آدمی کے تجربات نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔منٹو، جمیز جائس کو عام آدمی کے تجربات سے محبت تھی کیونکہ عام آدمی کے تجربات سچے ہوتے ہیں۔ان میں ایک عنصری توانائی ہوتی ہے۔
زمرد مغل:آپ نے اپنے ایک مضمون بعنوان’’تاریخ کا تشدداور ہماری تخلیقی حسیت‘‘ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ: ’’خواجہ سراؤں کو اب مقتدر سیاسی گروہ اپنا مورخ بتاتے ہیں اور ماضی کی من مانی تعبیر کے درپے اس لیے ہیں کہ اپنے (اورہمارے) مستقبل کو تبدیل کرسکیں۔ کیا ماضی کی من مانی تعبیر سے مستقبل کو تبدیل کیاجاسکتا ہے؟ اور پھر یہ بھی ہے کہ ماضی کی تعبیر کرنے والے کو خواہ وہ ماضی کی تعبیر صحیح تناظرمیں کرے یاپھر من مانی، دنیامورخ کی حیثیت سے تسلیم کرے گی۔ماضی قریب میں ایسی کوشش کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکیں، لیکن خدشات سے منھ نہیں موڑا جاسکتا۔آپ کا اس بارے میں کیا کہنا ہے۔ذرا تفصیل سے اس پر روشنی ڈالیں کیونکہ یہ غالباً حساس ترین ایشو ہے؟
شمیم حنفی: اس سوال میں تو آپ کے سوال کا جواب بھی شامل ہے ۔ میرے کہنے کا مطلب جو تھا وہ یہ تھا کہ ہر ایسا معاشرہ جہاں جبر کی کسی شکل میں حکمرانی ہوتو وہ اپنے مورخ خود پیدا کرتا ہے مثال کے طور پر آپ نے دیکھا کہ یہاں ہندوستان میں ایک طبقہ ہے ان لوگوں کا جو تاریخ داں سمجھے جاتے ہیں ہم اور آپ مانیں یانہ مانیں۔مگر کسی بھی معیار سے آپ دیکھیں تو یہ تاریخ داں تو نہیں ہیں جیسے کہ فرقہ پرستی جماعتوں نے ڈھنڈورچی یہ لوگ اسی وہ تاریخ ہندوستان کی لکھنا چاہتے ہیں جو ان کے آقا چاہتے ہیں۔ اسی طرح افراد ہوتے ہیں جوچھوٹے چھوٹے گروہ ایسے پیدا کرلیتے ہیں جو وہ کچھ لکھیں جو وہ لکھوانا چاہتے ہیں۔ ماضی کی تعبیر کبھی کبھی اس قسم کے لوگ ایسی کرتے ہیں کہ مستقبل کو بھی ماضی بنالیتے ہیں۔مثال کے طور پر یہاں پر جس طرح کا ادب پر بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں پڑھایا جاتا ہے آپ نے دیکھا ہوگا کہ اس کے لیے یہاں شور شرابہ ہوا یا اسی طرح کی کتابیں پاکستان میں بھی لکھی گئیں۔ ایک زمانے میں وہاں کسی نے کہا تھا کہ آئن اسٹائن، کارل مارکس ، اور سگمنڈ فرائڈ کے نظریات نہیں پڑھائے جانے چاہیں۔ کیوں نہ پڑھائے جائیں؟ کیا آپ کا ایمان اتنا کمزور ہے کہ آپ ان لوگوں کو پڑھائیں گے تو آپ کا ایمان ٹوٹ جائے گا۔ اسی طرح سے ہمارے یہاں بھی مجھے یاد ہے جب میں الہ آباد میں پڑھتا تھا تو میں نے ہوسٹل کی لائبریری سے نیاز فتح پوری کی کوئی کتاب ایشو کروائی ۔ لائبرین مجھ سے کہنے لگے کہ یہ توبے دین آدمی تھا تم اسے کیوں پڑھتے ہو تمہارے عقائد خراب ہوجائیں گے۔میں نے کہا میرے عقائد اتنے کمزور نہیں ہیں کہ اتنی آسانی سے خراب ہو جائیں۔بس ان کی ایک کتاب پڑھنے سے۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ میری مرضی ہے اور کسی کے مخالف نقطہ نظر سے واقف ہونے کا مطلب یہ بالکل نہیں ہوتا کہ میں اپنا نظریہ بدل دوں گا۔یہاں میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ انسانی تاریخ کے ہردور میں یہ ہوتا چلاآیاہے۔ دربار داری ایک قسم کے درباری مسخرے ایسے لوگوں کی صحبت میں آدمی اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرتا ہے ۔مثلاً کوئی شخص اگر جاہل ہے۔ لیکن دس لوگ اس سے ہمہ وقت یہ کہتے رہیں کہ ماشاء اللہ آپ بہت ذہین اور قابل آدمی ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ جاہل شخص ان کو پسند کرے گا یا ان کو پسند کرے گا کہ جو اس کی جہالت اس پر روشن کرتا رہے؟ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ چاہے اشخاص ہوں چاہے نظریاتی گروہ ہوں ہمیشہ اپنے اردگرد اسی طرح کا مورخ پیدا کرنا چاہتے ہیں جو ان کی پسند کے مطابق عقائد کی تعبیر کرسکے اور ماضی کو اس طریقے سے پیش کرسکے کہ اسی کو مستقبل بنادے۔یہاں ہمارے بھی اور پاکستان میں بھی آپ دیکھ لیجیے کہ ایک گروہ ایسا ہے جس کی وجہ سے دونوں بربادی کے دہانے پر کھڑے ہیں ۔یہ سب اسی لیے ہے کہ Librelismکا زوال ہوا ہے۔ پوری دنیا میں زوال ہوا ہے۔ظاہر ہے کہ ہمارے ملک میں بھی یہی صورت حال ہے اگر کچھ لوگوں کا بس چلے تو یہاں وہ کسی روشن خیال کونہ رہنے دیں خدا کا شکریہ کہ ہمارے یہاں اتنی مضبوط ہیں رواداری کی بنیادیں کہ جہاں ایسے تاریخ داں رہے ہیں جنہوں نے تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا،وہیں دوسری طرف اسی ہندوستان میں رومیلہ تھاپر، عرفان حبیب،ہربنس مکھیا، پروفیسر شرما جیسے لوگ بھی ہیں۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک وقت ایسا ضرور آتاہے جب ایسے لوگوں کا احساس عدم تحفظ اور ان کے اردگرد پھیلا ہوا مسخروں کا ٹولہ یہ سب لوگضرور ہوتے ہیں۔بہرحال یہ ایک خطرناک صورت حال ہے۔
زمرد مغل: تفہیم غالب میںآپ نے اشوک باجپئی اور سچدانندن کی آرا نقل کرکے غالب کی ایک تصویر پیش کی ہے۔ اشوک باجپئی کے مطابق غالب وید سے اب تک پھیلی ہوئی برادری کا حصہ ہیں۔کیا اس سے ان کی مراد غالب کے وحدت الوجودی نظریات سے ہے۔ وحدت الوجودی نظریات نے تو کب کی اپنی کشش کھودی ہے مگر غالب ابھی تک پہلی سی آن بان اور شان کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ کیااس سے یہ ثابت نہیں ہوتاکہ غالب وحدت الوجودی نظریات سے گزرتے وقت کے ساتھ بہت بلند ہوتے چلے جارہے ہیں؟
شمیم حنفی:دیکھئے جناب یہاں آپ سے تھوڑا سا سہو ہوا ہے یہ مضمون جو میری کتاب میں شامل ہے اس کا عنوان ہے۔’’غالب کے مطالعہ کی اہمیت غیر اردوداں حلقوں میں‘‘ سچدا نندن کی مادری زبان ملیالم ہے اور اشوک باجپئی کی مادری زبان ہندی ے۔اشوک باجپئی کا مطلب جو تھا یہ میں ان کےDefenceمیں نہیں کہہ رہا ہوں مگر اشوک باجپئی کاوہ مطلب نہیں تھا جو آپ کہہ رہے ہیں ۔ وحدت الوجود سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے یہ تو تصوف کا مسئلہ ہے اور اشوک باجپئی کو اس سے کوئی شغف نہیں ہے۔اشوک باجپئی کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستان میں جو الوہی کتابوں میں ویدوں کا نام لیاجاتا ہے یاہمارے یہاں عبدالرحمن بجنوری نے کہا تھا کہ ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں ایک وید مقدس اور دوسرے دیوان غالب یعنی کہ ویدوں کے بعد جس شاعری میں عظمت کے آثار انہیں دکھای دےئے وہ دیوان غالب ہے۔سچدا نندن نے اور باتیں بھی کہیں ہیں ۔غالب کے بارے میں گویا کہ جب غالب سے آپ ہم کلام ہوتے ہیں، ان کے شعرآپ پڑھتے ہیں تو آپ اپنے آپ کو سمجھنے میں کچھ حد تک کامیاب ہوتے ہیں اور آپ کے اندر ایک نئی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے، یہ مطلب تھا ان کا۔اور آپ نے یہ فیصلہ کیسے کر لیا کہ وحدت الوجودی نظریہ ختم ہوچکاہے۔ اس کے ماننے والے بڑی تعداد میں پوری دنیامیں آج بھی موجود ہیں۔ میری دلچسپیاں ذرا محدود ہیں لیکن آج کی دنیامیں بہت سے لوگ اس نظریہ کے قائل ہیں۔یہ بات بھی ہے کہتصوف کی اصطلاحوں میں بھی غالب کو سمجھنے کی کوشش بہت کی گئی ہے۔ابھی حال ہی میں انور معظم کی کتاب آئی ہے اس کے علاوہ بھی غالب کے یہاں تصوف کے حوالے سے لکھا گیا کچھ ہے اور میرا خیال ہے کہ غالب کسی کی گرفت میں آسانی سے آنے والا نہیں ہے۔ شاید اسی لیے اشوک باجپئی اکیلے نہیں ہیں۔ ہندی کے ایک بڑے مشہور شاعر تھے۔شمشیر بہادر سنگھ میں ان سے ذاتی طور سے واقف تھا۔ہندی کے جدید شاعروں میں صف اول کے شاعروں میں ان کا شمار ہوتاہے۔انہوں نے کہا تھا کہ غالب کی شاعری ایک طرف اور کھڑی بولی ہندی کی آدھی شاعری ایک طرف پھر بھی غالب کا پلہ بھاری رہے گا۔غالب اپنے زمانے کے لحاظ سے بھی بہت بڑا شاعر تھا اس کے زمانے میں ہندوستان کی کسی زبان میں غالب کے پائے کا کوئی شاعر نہیں تھا۔ اگر آپ غالب کے زمانے کی ساری دنیاپر نظر ڈالیں، میں نے ایک مضمون بھی اس موضوع پر لکھا ہے کہ غالب کے معاصرین کون کون لوگ تھے،مثلاً بودلیر، غالب کا معاصر تھا پوشکن، غالب کے معاصر تھے ایسے بڑے بڑے شعرا غالب کے معاصر تھے ۔غالب کی شاعری کی خوبی ہی یہ ہے کہ وہ آسانی سے کسی کی گرفت میں نہیں آتی۔میرا خیال ہے کہ غالب کے شعور کی کلید تو ان کا وہ شعر ہے کہ:
اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو
آگہی گر نہیں ، غفلت ہی سہی
یعنی ایک پورا وجودیApproachیعنی اپنی ذات کو حوالہ بنائے بغیر اگر آپ کچھ سمجھنے کی کوشش کریں گے تو اس کے کوئی معنی نہیں ہوں گے۔
زمرد مغل: اگر کوئی نہایت ہی معقول سنجیدہ اور بڑا نقاد آپ سے یہ کہہ دے کہ اقبال سہل ممتنع کا شاعر ہے تو آپ کا پہلا ری ایکشن کیاہوگا؟
شمیم حنفی: اقبال نے اتناکہاہے کہ اردو میں بھی ا ن کے چاردیوان ہیں۔ ان کے یہاں ہر طرح کے اشعار آپ کو مل جائیں گے ایسا اشعار بھی جو سہل ممتنع ہیں اور سہل ممتنع کے تعلق سے مغل صاحب بڑی غلط فہمیاں ہیں۔سہل ممتنع کیاہے سہل ممتنع کے معنی یہ ہیں کہ بظاہر آسان ہوتا ہے۔مگرواقعی آسان نہیں ہوتا ۔غالب نے اس کی تعبیریوں کی کہ سہل ممتنع اعلیٰ درجہ کا وہی ہے جو دیکھنے میں آسان لگے لیکن آپ اس طرح کا کہنے لگیں تو دانتوں کو پسینہ آجائے۔اقبال کے یہاں ہر طرح کے شعر ملیں گے ایسے اشعار بھی آپ کو ملیں گے جو عام دوکاندار پڑھتے ہیں یاعام عوام جس طرح کے شعرپر داد دیتے ہیں،لیکن اقبال کے یہاں ایسے شعر بھی ہیں جن میں رمزہے، اسرارہے اور پیچیدگی ہے، یہ ساری چیز یں آپ کو ملیں گی۔سوال یہ ہے کہ آ پ کس اقبال کی بات کرتے ہیں۔
زمرد مغل: آپ کے مطابق پریم چند کی پرچھائیں سے ہمارا مکالمہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ جبکہ اب تنقید نگار کبھی کبھار ان کا نام لیتے نظرآتے ہیں۔ جدید عہد کے ممتاز فکشن رائٹرز مثلاً سریندر پرکاش ،بلراج مین را، انور سجاد، نیر مسعود وغیرہ کے ہاں بھی ان کی پرچھائیں نظرنہیں آتی۔ ایسے میں آپ کا اس قدر پرامید ہوناکن بنیادوں پر ہے؟
شمیم حنفی: دیکھئے پریم چند پر میں نے تین مضمون لکھے ہیں تینوں میں الگ الگ مسائل پر گفتگوکی ہے۔ پہلے مضمون کے بعد دوسرا مضمون میں نے اس لیے لکھا کہ پہلے میں پریم چند کے بارے میں کچھ اور سوچ رہا تھا اور ظاہرہے کہ ان پر لکھنے کے اور سوچنے کے بہت سے بہانے موجود ہیں۔ پرچھائیں سے مکالمے کا مطلب یہ تھا کہ پریم چند کیRelevenceختم نہیں ہوتی ہے۔انتظار حسین کے یہاں یاقرۃ العین حیدر کے یہاں یانیر مسعود یابلراج مین راکے یہاں ان کی پرچھائیں ہے، میں نے ایسا کب کہاکہ مکالمہ ختم نہیں ہوا سے میری مراد یہ ہے کہ آج بھی ہماری زندگی کو کچھ ایسے مسائل درپیش ہیں کہ اس وقت ہمیں پریم چند کی کوئی کہانی یادآجاتی ہے۔
زمرد مغل: علی سردار جعفری کی کارکردگی کو آپ ادب کے لیے کتنا سودمند مانتے ہیں اور کتنا مضر؟ کیا جعفری صاحب کی تحریریں ا ب بھی ادب میں کوئی ہلچل پیدا کرپانے کی پوزیشن میں ہیں؟
شمیم حنفی:جعفری صاحب نے بہت بڑا تاریخی رول ادا کیاہے، وہ ہمارے زمانے کے بہت باخبراور وسیع المطالعہ شخص تھے۔ ترقی پسندوں میں ان جیسا وسیع المطالعہ شخص آپ کو کوئی نہیں ملے گا۔ ان پر ایک مضمون میری کسی کتاب میں شامل ہے۔آپ نے دیکھا ہوگا۔ ان کی موجودگی میں میں نے وہ مضمون پڑھا تھا احمد آباد میں وارث علوی نے جو سمینار کروایا تھا، اسی میں اس مضمون کا خاتمہ اس جملے پر میں نے کیاتھا۔ میں نے جعفری صاحب کی بہت سی باتوں سے اختلاف کیاہے اور سخت اختلاف کیاہے۔میں نے لکھا تھا کہ جعفری صاحب کے بغیر میں تصور نہیں کرپاتا اپنے معاشرے کا۔ اور صرف ہم خیالوں کے ساتھ زندگی نہیں گزاری جاسکتی۔ جب تک اختلاف رائے نہ ہو بحث نہ ہو گفتگو نہ ہو۔ آج ضرورت ہے یانہیں اس کا فیصلہ ہم کیسے کرسکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے آج بھی بہت سے لوگوں کو ان سے روشنی مل جائے۔’پیغمبران سخن‘ میں ان کے میر پرغالب پر کبیر پر بڑے اعلیٰ درجہ کے مضامین ہیں۔البتہ ان کی کتاب ترقی پسندادب میں نہیں سمجھتا کہ اس سے کوئی روشنی مل سکتی ہے۔انہوں نے بڑا تاریخی رول ادا کیاہے اپنے زمانے میں اور میرا خیال ہے کہ اس کا احترام کرنا چاہیے۔
زمرد مغل: اردو ہندی تنازعے نے ایک ڈراؤنی صورت اختیارکررکھی ہے۔آپ نے اس کے تعلق سے ایک نئے مکالمے کی ضرورت پر زور دیاہے۔ لیکن مکالمے خلا میں نہیں ہوسکتے اور زمین کا ماحول مکالمے کے لیے سازگار نہیں ہے۔ ایسے میں آپ کے پاس ماحول کو ساز گار بنانے کے کیا نسخے ہیں؟
شمیم حنفی:دیکھئے ایک تو یہ ہے کہ میرے ذہن میں کسی زبان کے تعلق سے کوئی تعصب نہیں ہے۔ اردو میری مادری زبان ہے، میں نے جو کچھ بھی پڑھا ہے اردو میں پڑھا ہے لیکن ہندی کے بغیر میرے اپنے شعور کی تکمیل نہیں ہوسکتی تھی۔ میں نے جس ذوق وشوق کے ساتھ اردو کا مطالعہ کیاہے اسی ذوق وشوق کے ساتھ ہندی ادیبوں کو بھی پڑھا ہے اور میںیہ سمجھتا ہوں کہ مکالمے کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ وہ جو فاصلہ پیدا ہوگیاہے اردو اور ہندی کے درمیان اس کی وجہ سے ایک طبقہ اردو والوں کا بھی ہے جو ہندی والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ ہندی زبان گنواروزبان ہے۔میرا خیال ہے اب ہمیں اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیں اور اس وقت ایک نئے مقالمے کی ضرورت ہے۔نئے مقالمے کی میں نے بات اس لیے کی ہے کہ اس وقت ہندی ادیبوں میں ایک بڑا حلقہ ایسا ہے جو اردو کی طرف احترام اور محبت کی نظر سے دیکھتا ہے۔
زمرد مغل: اقبال کے شاہکاروں میں شمار کیے جانے والے ’’جاوید نامہ‘‘ کے تعلق سے آپ نے سرخی لگائی ہے کہ ’’ایں کتاب ازآسمانے دیگر است‘‘ اور یہ بھی فرمایاہے کہ تنہائی اور ناصبوری۔تخلیقی توانائی کے ان ہی دوسرچشموں سے جاوید نامہ کا ظہور ہوا ہے۔جبکہ بہت سے لوگ جاوید نامہ کو دانتے کیThe Divine Comedyکا سرقہ بتاتے ہیں۔ایسے میں اقبال کے دفاع میں کیادلائل فراہم کیے جاسکتے ہیں جبکہ مخالفین سطر سطر دونوں کتابوں کو ایک دوسرے کے سامنے رکھ کر جاوید نامہ کو دانتے کی کتاب کا سرقہ بتاتے ہیں؟
شمیم حنفی: فکر کی جس بلندی کا اس کتاب میں اظہار ہوا ہے ظاہرہے کہ وہ کچھ اور ہے۔ اقبال نے خود یہ لکھا تھا کہ ’جاوید نامہ‘ کو مکمل کرنے میں دماغ نچڑ کر کے رہ گیاہے۔جہاں تک سرقہ کا تعلق ہے تو سرقہ یہ نہیں ہوتا سرقے کے معنی کچھ او رہوتے ہیں۔ آپ کسی چیز کو من وعن لے لیں اور حوالہ نہ دیں ۔اس طرح کی مثالیں آپ کو بہت مل جائیں گی۔ جہاں تک اقبال کے ’جاوید نامہ‘ کا تعلق ہے، اشتراک کے تو بہت سے پہلو ہیں۔ شیطان کا کردار ہے اور اقبال نے کب انکار کیاہے۔ اسسے اپنے پیش روؤں سے انہوں نے استفادہ نہیں کیاہے۔
زمرد مغل: آپ نے اپنے ایک مضمون بعنوان’’تقسیم کا ادب اور تشدد کی شعریات‘‘ میں ایک جگہ حسن عسکری کے مضمون’’تقسیم ہند کے بعد‘‘ سے ایک اقتباس پیش کرنے کے بعد تحریر کیاہے کہ۔
’’اور یہ اس لحاظ سے بہت معنی خیز ہے کہ اس سے تقسیم کے بعد ہندی مسلمانوں اور اردو سے ان کے تعلق کی بابت ایک ایسا موقف اختیار کیاگیاہے جو تقسیم کے مجموعی تصور سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ آپ تقسیم کے مجموعی تصور سے کیامرادلیتے ہیں؟
شمیم حنفی: بھائی تقسیم کا مجموعی تصور جیسے دوالگ قومیں ہیں او روہ ساتھ نہیں رہ سکتیں میں اس کو تسلیم نہیں کرتا۔ میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ یہ تقسیم سیاسی تقسیم تھی اور میری جو کتاب کل ہی چھپ کر کے آئی ہے اس میں کئی مضامین میں نے اسی بات پر زور دیاگیاہے یہ ایک قسم کی سیاسی تقسیم ہے ظاہرہے اس تقسیم کے معنی یہ تونہیں کہ ہماری تاریخ بٹ گئی۔ پاکستان میں اور ہندوستان میں،دونوں جگہوں پر اہل قلم ایک بہت بڑا حلقہ ہے جو اس تقسیم کو تسلیم نہیں کرتا۔
زمرد مغل: آرٹ ادب اور پرامن دنیا کے تعلق سے جو آپ نے لکھا ہے وہ آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہے لیکن کیاآپ کونہیں لگتا کہ آپ جیسے اہل علم سے لوگ اس سے زیادہ کی توقع رکھتے ہیں؟
شمیم حنفی: وہ تو ایک چھوٹا سا مضمون تھا ایک سمینار ہوا تھا اس میں پاکستان سے بھی لوگ تشریف لائے تھے اس میں پڑھاگیا تھا۔ میں نے بنیاد بنایا تھا ضمیر نیازی کی کتاب’زمین کا نوحہ‘ وہ تو صرف دس منٹ کیTalkتھی ۔ظاہرہے اس موضوع پر تو بہت کچھ لکھا جانا چاہیے۔ بہت سے کام میں کرنا چاہتا ہوں بہت تفصیل سے کرنا چاہتا ہوں مگر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو سمیٹنا شروع کرتا ہے ۔میں بھی اب اس مرحلے میں داخل ہوگیاہوں۔
زمرد مغل: قاری سے مکالمہ کے پہلے ہی مضمون بعنوان ’’تہذیب اورتنقید کا رشتہ‘‘ میں آپ ادب کے تعلق سے کافی مایوسی کے شکار دکھائی دیتے ہیں۔آپ کی اس رائے کو دنیا نے کافی حد تک سچ ہوتے ہوئے بھی دیکھا لیکن اب ادب کی طرف واپسی کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اس سے آپ کس حد تک پرامیدہیں؟
شمیم حنفی:اگر واپسی واقع ہوجاتی ہے معاشرے میں ادب پڑھنے والوں کی تو اس سے زیادہ نیک شگون اور کیاہوگا۔ایلیٹ نے کہا تھا کہ دنیااس وقت تک نہیں بسے گی جب تک سیاستداں ادب نہیں پڑھیں گے۔آپ سیاستدانوں کی بات چھوڑیں میں تو سمجھتا ہوں کہ بہت سے لوگ جوادب کا ذکرکرتے ہیں وہ ادب نہیں پڑھتے۔ کیونکہ بعض لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ جس طرح وہ زندگی گزارتے ہیں اس میں ادب پڑھنے کا وقت ہی کہاں ملتا ہے۔ بہت سے لوگ ادب میں زبردستی گھس آتے ہیں جو بظاہر تو لگتا ہے کہ ادیب ہیں مگر وہ ادیب نہیں ہوتے ان کا مقصد کچھ اور ہوتا ہے۔ادب بھی ان کے لیے ادب نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک زینہ ہوتاہے جس سے وہ اپنے کسی اور مقصد کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تواب پوری دنیامیں ادب سے دلچسپی کم ہوجانے کے جو نقصانات ہوئے ہیں اس کو لوگوں نے سمجھنا شروع کیاہے اور اب یہ محسوس کیاجارہا ہے کہ یہ جو عدم توازن پیدا ہوا ہے اور کہنا چاہیے کہ تہذیب کے ترازو کا ایک پلّہ جو جھک گیاہے، تناسب کی کمی جو دکھائی دیتی ہے وہ اسی لیے دکھائی دیتی ہے کہ ادب پڑھنا لوگوں نے چھوڑ دیاہے۔اب اگر ادب پڑھنے کی طرف لوگ مائل ہورہے ہیں تو یہ بڑی خوش آئند بات ہے کیوں کہ ادب ہی لوگوں کو حساس بناتا ہے اور ادب کے مطالعے کے بغیر یہ سمجھنا کہ کسی معاشرے میں انسانی عناصر کی بحالی ہوجائے گی بہت مشکل ہے۔ انسانی عناصر کوبحال کرنے کے لیے اپنی انسانیت کو زندہ رکھنے کے لیے، دوسرے کے دکھ درد کو سمجھنے کے لیے، اپنے آپ کو سمجھنے کے لیے ادب کا مطالعہ ضروری ہے۔
زمرد مغل:آپ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ آپ کومنطق سے کوئی خاص شغف نہیں ہے لیکن آپ کے وہ مضامین جن میں منطق کی کارفرمائی ہے مثلاً ’’اہمال کی منطق‘‘ وغیرہ، وہ ماسٹر پسیز میں شمار کیے جانے کے قابل ہیں۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
شمیم حنفی:میں اپنی کسی تحریر کے بارے میں کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوں۔یہ بہت پرانا مضمون ہے۔ 1969ء میں لکھا تھا اور سرور صاحب کی فرمائش پہ لکھا تھا۔ میں نیانیا لیکچرر ہوکر علی گڑھ گیاتھا اس وقت سرور صاحب نے فرمایا کہ کوئی ایک نیا مضمون لکھو تو میں نے یہ مضمون لکھا او رظاہر ہے کہ اس مضمون کی جس طرح سے پذیرائی ہوئی تو میرادل بھی بہت بڑھا اور بہت سے لوگوں نے اس کی سخت تنقید بھی کی۔ منطق سے میری مراد ہے کہ میرا ذہن بہت زیادہ ڈسپلنڈ نہیں ہے۔دواور دوچار والی جو باتیں ہوتی ہے میرا ذہن اس طرح کا نہیں ہے۔ منطق کی قدروقیمت کا میں انکاری نہیں ہوں۔ بس میرے ذہن کو اس سے مناسبت نہیں ہے۔
زمرد مغل:آپ جدیدیت کا ایک اہم نام ہیں۔یہاں تک کہ شمس الرحمن فاروقی صاحب نے بھی آپ کی دوکتابوں’’نئی شعری روایت‘‘ اور’’ جدیدیت کی فلسفیانہ اساس‘‘ کو جدیدیت کے ستون کی حیثیت سے پیش کیاہے۔ لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں نے ’’مابعد جدیدیت‘‘ کے نام سے ایک مورچہ کھول رکھا ہے اور گاہے بگاہے جدیدیت کو اور اس کے علمبرداروں کو(جس میں آپ اور شمس الرحمن فاروقی غالباً سر فہرست میں ہوتے ہیں) نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ایسے میں آپ کیامحسوس کرتے ہیں؟ کیا جدیدیت نے اپنی فصل کاٹ لی؟ کیاجدیدیت کی جگہ پر مابعد جدیدیت جیسی کسی تحریک نے اپنا ڈیرہ جمالیاہے؟
شمیم حنفی:یہ دوکتابیں میری توقع سے زیادہ پڑھی گئی اور پڑھی جارہی ہیں۔ ابھی پاکستان میں اس کا ایڈیشن جو چھپا ہے، سنگ میل سے۔ دونوں کتابوں کو یکجا کرکے چھاپا گیاہے۔پاکستان میں یہ کتاب بڑے شوق سے پڑھی جارہی ہے۔یہاں اس کے متعدد ایڈیشن چھپ چکے۔ اپنی تحریریں میں بعد میں نہیں پڑھتا اور اس سے بہت زیادہ دلچسپی بھی نہیں رہتی۔ اب رہا مابعد جدیدیت کا معاملہ تو ہمارے یہاں اس کو کتنا سمجھا گیا ہے کن لوگوں نے سمجھا ہے یہ بڑا مسئلہ ہے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں مثلاًپاکستان میں وزیرآغا تھے۔ہمارے یہاں بھی بہت سے لوگ ہیں میں نے جو اس کی تعبیر یں مختلف جگہوں پر پڑھی تھوڑی بہت مجھے اندازہ ہوا کہ اردومیں تو مابعد جدیدنام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔اردو میں تو بہت سامواد ایسا بھی سامنے آیا ہے جو بالکل چربہ ہے اورچربہ بھی ایسا کہ کسی طرح کا کوئی اضافہ نہیں کیا گیاہے۔ مغرب میں تواب کوئی مابعد جدیدیت کا نام نہیں لیتا لوگ کب کے اس پر فاتحہ پڑھ چکے ہیں۔ ہمارے یہاں بھی اردو کے علاوہ اور کسی زبان میں اس پر اتنی بحث نہیں ہوتی ہے۔ وہ لوگ تو حیران ہوتے ہیں کہ اردو داں کس قسم کے لغومسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔
زمرد مغل: دریدا کا یہ کہنا کہ لفظ ایک ایسی گزرگاہ ہے جہاں سے معانی کے قافلے گزرتے ہیں،کبھی محفوظ ترین Textکو غیر معتبر کرنے کا حیلہ تونہیں ہے۔کیونکہ ہر بڑے فنکار نے دانتے ہویاگوئٹے ہمیشہ ہی اس بات کا دھیان رکھا ہے کہ اسلام کے مقابلے میں اپنے آپ کو بہتر ثابت کیاجائے کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ محفوظ ترین Textقرآن اورغیر محفوظText بائیبل کے تقابل کو ایک شعوری کوشش کے تحت مابعد جدیدیت کے ذریعے ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کرنے کی سازش کی جارہی ہو؟
شمیم حنفی: جمیل جالبی نے یہ بات لکھی تھی کہ مابعد جدیدیت کا پورا تصور یہودیوں کی ایک سازش ہے اس طرح کی اور باتیں بھی کی ہیں۔ بہت سے لوگوں نے لکھا ہے کہ اسلام کے خلاف سازش ہے۔ رشدی کی کتابSatanic Versesکی بڑی پذیرائی مابعد جدید حلقوں میں ہوئی۔ گویا وہ مابعد جدیدیت کا پہلا بڑا ناول ہے لیکن میں اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا۔ یہ بڑا نازک مسئلہ ہے اور میرے دل میں قرآن کے احترام کے ساتھ ساتھ باقی مذاہب کی کتابوں کابھی احترام ہے اور ان کا تقابل کرنے کا حوصلہ بھی نہیں رکھتا میرے پاس اتناعلم نہیں ہے۔
زمرد مغل: اپنی زندگی پر مفصل روشنی ڈالیے؟
شمیم حنفی:میری زندگی بہت معمولی ہے میں نے چالیس سال ملازمت کی1965ء میں لیکچرر ہوا 2007ء میں ریٹائر ہوا اب ایک رشتہ قائم ہوگیاہے جامعہ کے ساتھ جو لائف ٹائم رشتہ ہے میں ہمیشہ شکر گزاررہا ان طالب علموں کا جنہوں نے میرے پڑھانے میں دلچسپی لی اور جن سے مجھے تحریک ملتی تھی کہ میں تیاری کرکے جاؤں اور پڑھاؤں میں خدا کا شکرادا کرتا ہوں کہ ہر دور میں اچھے شاگرد ملے اور اچھے اساتذہ مجھے شروع سے میسر رہے ہیں۔
زمرد مغل:آپ نے بہت سی اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے آپ ذہنی طور پر کسی صنفِ سخن کے اپنے آپ کو زیادہ قریب پاتے ہیں؟
شمیم حنفی:ادب کی ہر صنف سخن سے یکساں دلچسپی رہی ہے۔ شاعری بھی پسند ہے اور میں فکشن کو بھی پسند کرتا ہوں۔اس معاملے میں میں نے کوئی درجہ بندی نہیں کی۔ شاعری شاید زیادہ بڑی ہے اس لیے کہ شاعری کی تاریخ ہمارے یہاں زیادہ پرانی ہے۔ اور فکشن پڑھنے میں وقت بھی زیادہ لگتا ہے۔لیکن مجھے دلچسپی دونوں سے ہے اور میں نے خالی اردو کی کتابیں نہیں پڑھی اردو کے علاوہ بھی میری دلچسپی دوسری زبانوں میں رہی ہے او رترجموں کی مدد سے کچھ براہ راست ،انگریزی براہ راست پڑھ لیتا ہوں یا ہندی کی کتابیں براہ راست پڑھتا ہوں،فارسی براہ راست تھوڑی بہت پڑھ لیتا ہوں۔
زمرد مغل: نئی نسل کے لیے کوئی پیغام؟
شمیم حنفی:کوئی زمانہ امکانات سے خالی نہیں ہے۔ آج بھی اچھا لکھا جارہا ہے۔جیسے آصف فرخی ہیں۔اجمل کمال، بالکل نوجوان نسل لکھنے والوں میں علی اکبرناطق، خالد جاوید، تنویر انجم، ذیشان ساحل ہیں۔نئے لکھنے والوں کے بغیر آ پ کے وجود کے معنی ہی کیارہ جائیں گے۔
زمرد مغل: یونیورسٹی کی سطح پر اردو کی موجودہ صورت حال کے تعلق سے آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟
شمیم حنفی: اب یہ سب کچھ آپ جانیے میں تو خدا کا شکرادا کرتا ہوں کہ میں بہت پہلے سبکدوش ہوگیا،اپنی ذمہ داری سے اب جو صورت حال ہے اسے دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ ایسے لوگ پہلے نہیں تھے پہلے بھی ایسے لوگ موجود تھے۔اس قسم کے گروہ بندی کرنے والے، سازشی قسم کے لوگ ایسے لوگ پہلے چھپ کر رہتے تھے اب ایسے لوگ منظرعام پر آگئے ہیں اورمیں کبھی کبھی شرم محسوس کرتاہوں کہ ایسے لوگ بھی ہمارے ادبی معاشرے میں موجود ہیں جنہیں بات کرنے تک کا شعور نہیں ہے مگر وہ صاحب کتاب ہوجاتے ہیں۔یہ واقعی بہت تشویش کی بات ہے اور اس کی طرف ہم سب لوگوں کو دھیان دینا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: