پہلا ورق:اطہر فاروقی

پہلا ورق

انجمن ترقی اردو (ہند) اپنے قیام کے بعد سے ہی اردو زبان و ادب کے تعلق سے نظریاتی مباحث اٹھاتی رہی ہے۔ آج جب اردو اداروں کی بھرمار ہے تب بھی یہ کام انجمن ہی کررہی ہے۔ اس ذیل میں انجمن کا ایک اہم کارنامہ اردو املا کی معیاربندی کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل تھا جس کے نتیجے میں پروفیسر عبدالستار صدیقی صاحب نے اردو املا کے قواعد کو ملحوظ رکھتے ہوئے اردو املا کی معیاربندی کی مگر یہ کام ان کے بعد انتشار کا شکار ہوگیا۔
اردو کی صحیح تاریخ کا تعیّن اردو زبان و ادب کے کسی بھی مسئلے سے زیادہ اہم اور توجہ کا طالب ہے جو ابھی تک افراط و تفریط کا شکار رہا ہے۔ اس ذیل میں شمس الرحمن فاروقی کاتاریخ ساز کارنامہ ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ ہے جس کے مباحث کو عام کرنے کی غرض سے ’اردو ادب‘ اس کتاب کے مندرجات پر گفتگو کا سلسلہ شروع کرنا چاہتا ہے۔ موجودہ تحریر اسی سمت میں کی گئی سلسلۂ جنبانی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آئندہ شمارے میں فاروقی صاحب کی کتاب پر بحث و تمحیص کا سلسلہ شروع ہوگا۔ میری اس تحریر کو فاروقی صاحب کے ان خیالات کی تلخیص کہنا ہی مناسب ہوگا جن کا ذکر انھوں نے ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ اور اس ذیل میں آنے والی دوسری تحریروں نیز مختلف موقعوں پر ملاقاتوں میں راقم الحروف کے ذہن کے جالے صاف کرنے کی غرض سے کیا۔

( ا. ف)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمس الرحمن فاروقی صاحب کی کتاب ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ اپنے مندرجات کی حد تک اردو زبان کی تاریخ سے متعلق متعدد مفروضات اور تقریباً ہر قسم کی دُھند کو صاف کرچکی ہے۔ اس کے باوجود بھی مقامِ افسوس ہے کہ کتاب کی اردو اشاعت کے تقریباً بیس برس بعد بھی اس کامطالعہ ہمارے ان اکابرین کی اکثریت خصوصاً ان ماہرینِ لسانیات نے نہیں کیا ہے جو اردو زبان کے ارتقا کی تاریخ وغیرہ پر اپنی تحقیق پر فخر کرتے ہیں۔ اردو زبان کی تاریخ کے علما ابھی بھی وہی کچھ دُہرا رہے ہیں جس کی بازگشت ان کے چالیس اور پچاس برس پرانے مضامین میں ملتی ہے۔ اس صورتِ حال پر اب افسوس اس لیے بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اردو کی اس اصطلاحی علمی دنیا میں پڑھنے لکھنے کی روایت ختم ہوئے زمانہ ہوگیا ہے جس کے امانت دار اب یونی ورسٹیوں کے اردو شعبوں یا پھر ملحقہ کالجوں میں اردو زبان و ادب کا درس دے رہے ہیں۔
مزید تشویش کا پہلو یہ ہے کہ اردو زبان کے ارتقا سے متعلق ہمارے ماہرینِ لسانیات اس باب میں آج بھی ان ہی غلط فہمیوں کو راہ دے رہے ہیں جو ماضی میں مختلف وجوہ سے راہ پاگئی تھیں اور اردو زبان اور اس کے ادب کے لیے نہایت ضرر رساں ثابت ہوئیں۔ ان میں سب سے اہم مفروضہ اردو کو لشکری زبان قرار دینا ہے۔ ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ (اشاعتِ اوّل: مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی) کی اشاعتِ اوّل 2000 کے علاوہ بھی اِس کتاب کے اردو ترجمے کے ہندستان اور پاکستان دونوں جگہ سے اصلی اور جعلی اڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور انگریزی میں اس کا اولین اڈیشن اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس نئی دہلی نے 2001 میں شائع کیا تھا جس کا اردو ترجمہ چوں کہ خود فاروقی صاحب نے ہی کیا ہے، اس لیے، اسے اردو میں پڑھتے ہوئے کہیں بھی ترجمے کا گمان نہیں گزرتا۔ دراصل کتاب اولاً انگریزی میں لکھی گئی تھی مگر اس کا اردو ترجمہ فوراً ہی شائع ہوگیا اور انگریزی قالب کی اشاعت اس کے ایک برس بعد ہوئی اس لیے انگریزی میں کتاب 2001 میں شائع ہوئی جب کہ اردو میں 2000 ہی میں چھپ گئی۔ اس کتاب نے اردو 151 زبان کے ارتقا اور اس کی تاریخ151 سے متعلق تقریباً ہر وہ غلط فہمی جو انیسویں صدی کے آخر میں اس اہم زبان کے تعلق سے عام ہونا شروع ہوئی تھی اس کا سدِّ باب تو کیا مگر چوں کہ اس اہم ترین کتاب کی طرف اردو والوں کا رویّہ شاعرانہ ہی رہا، اسی لیے، اس تاریخی کام کے شائع ہونے کے تقریباً بیس برس بعد بھی ذرّہ برابر کمی نہیں آئی ہے۔ اس کتاب اور اس کے مندرجات سے چوں کہ اب تک کسی نے کوئی اختلاف نہیں کیاہے، اس لیے، جب تک کوئی بڑی تحقیق اردو زبان کی تاریخ سے متعلق فاروقی صاحب کے ذریعے پیش کیے گئے حقائق سے متعلق کسی نئے زاویے کا اضافہ نہیں کرتی تب تک ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ اردو زبان و ادب کے باب میں اپنے مندرجات کی حد تک اپنی حرفِ آخر کی حیثیت قائم رکھے گی۔
فاروقی صاحب کی تحقیق کی تلخیص یوں کی جاسکتی ہے:
لفظِ اردو بطوِر اسمِ زبان کا لشکر یا فوج سے کچھ بھی لینا دینا نہیں، اس لیے، لسانیاتی طور پر اردو زبان کو لشکری زبان کہنا غلط ہے۔
دیگر معنی کے علاوہ لفظِ اردو شاہ جہان آباد یعنی فصیل بند شہر دہلی کے معنی میں بہت دیر تک رائج رہا۔
جس زبان کو آج ہم اردو کہتے ہیں اس کے لیے یہ لفظ اُس وقت رائج ہوا جب مغلیہ سلطنت کا چراغ بجھ رہا تھا، بلکہ بجھ چکا تھا۔ اس لیے، یہ دُہرانا ایک مرتبہ پھر ضروری ہے کہ زبان کے طور پر اس لفظ کے رائج ہونے سے پہلے یہ لفظ شہر دہلی کے معنی میں مستعمل تھا۔
زبان کے طور پر اردو کے لیے تاریخ کے مختلف ادوار میں جو مختلف نام رائج رہے ان میں اردو سب سے بعد میں استعمال ہونے والا نام ہے اور سب سے پہلے اور دیر تک استعمال ہونے والا نام ہندی ہے جو اردو کے رائج ہونے کے بعد بیسویں صدی کی اولین دہائیوں تک استعمال ہوتا رہا۔ ہندی چوں کہ زبان کے علاوہ ہندستان کے باشندوں کے لیے غیرملکیوں کے ذریعے سب سے زیادہ استعمال ہونے والالفظ بھی تھا، اس لیے فطری طور پر اس کی تاریخ سب سے پرانی ہے اور اس کے استعمال کا زمانہ طویل ترین ہے۔
ہندی اور جدید ہندی دو الگ زبانیں ہیں۔ ہندی ،اردو کا پرانا نام ہے جب کہ جدید ہندی ایک سیاسی زبان ہے جس کی تشکیل ہندو قوم پرستی کے ایک عنصر کے طور پر انتہا پسندوں نے انگریزوں کی مدد سے انیسویں صدی میں شروع کی اور جسے آزادی کے بعد ریاست اور ملک کی اکثریت کی پشت پناہی اکثریتی زعم کے ساتھ حاصل ہوئی مگر جو دو سو برسوں تک ہندو قوم پرستوں اور انگریزوں کی سازش اور پُشت پناہی کے باوجود ہندو اشراف تو کیا آج تک ہندو متوسط طبقے کے لیے عملی زندگی میں یا تو مضحکہ خیز زبان ہے یا پھر سنسکرت سے عدمِ واقفیت کے سبب ان موقعوں پر سنسکرت کا کام کرتی ہے جہاں پہلے مذہبی زبان کے طور پر صرف سنسکرت کی بالادستی تھی۔
فاروقی صاحب ہندی کی اس وراثت کو ہاتھ سے جانے دینے کے لیے بالکل تیار نہیں جس نے زبانِ اردو کی پیش رو اور اس طاقت ور ترین زبان کا رول ادا کیا جس نے سیکڑوں برسوں کے لسانی اور تہذیبی رجحانات کے بہترین عناصر کو کشید کرکے ہندستان کی روایت کی تشکیل کی جسے عام فہم زبان میں ہندستانیت بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس باب میں اب کسیغلط فہمی کی گنجائش نہیں کہ فاروقی صاحب جب بھی لفظِ ہندی پرانے سیاق و سباق میں استعمال کرتے ہیں، تو ان کی مراد جدید ہندی قطعی نہیں ہوتی ہے۔
اردو کے لیے جو نام استعمال ہوئے ان میں ہندی اہم ترین نام ہے اور ہندی، ہندوی، گجری، دکنی، ریختہ وغیرہ کی فہرست میں اردو کا نمبر تاریخی طور پر سب سے بعد میں آتا ہے۔
لفظِ اردو کے رائج ہونے کے بعد بھی بیسویں صدی کی اولین دو دہائیوں میں لفظِ ہندی اس زبان کے لیے رائج رہا جسے اب اردو کہا جاتا ہے۔ اس کی مثال فاروقی صاحب اقبال کی اس تحریر سے دیتے ہیں جو انھوں نے ’اسرارِ خودی‘ (سالِ اشاعت 1915) کے ذیل میں سپردِ قلم کی اور زبان کے لیے اردو کے بجاے ہندی کا استعمال کیا۔ اسی طرح انھوں نے ’شکوہ‘ (1909) میں جب اس زبان کے لیے جسے اردو کہا جاتا ہے، ہندی کا لفظ استعمال کیا تو مزید کچھ کہنے سننے کی گنجائش ہی نہیں رہ گئی:
نغمہ ہندی ہے تو کیا، لے تو حجازی ہے مری
میری اس تحریر کو فاروقی صاحب کے ان خیالات کی تلخیص کہنا ہی مناسب ہوگا جن کا ذکر انھوں نے ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ اور اس ذیل میں آنے والی دوسری تحریروں نیز مختلف موقعوں پر ملاقاتوں میں راقم الحروف کے ذہن کے جالے صاف کرنے کی غرض سے کیا۔
اردو کے جو معنی ترکی میں ہیں ،اردو میں ہمیں اس سے کچھ مطلب نہیں ہے۔ ویسے ترکی میں بھی اردو کے معنی لشکر کے نہیں ہیں بلکہ وہاں یہ لفظ’ جمِّ غفیر‘ کے لیے مستعمل ہے۔ اسی جمِّ غفیر کو انگریزی میں

Hord

کہا جاتا ہے۔ یعنی بے انتظام قسم کا انبوہ ۔ پھر یہ لفظِ اردو بادشاہی یا شاہی کیمپ کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ بادشاہ کا کیمپ یا شاہی کیمپ اور لشکر دو بالکل مختلف چیزیں ہیں اور اسی فرق کو نظرانداز کرنے کے نتیجے میں اردو کے نام سے متعلق جو گمراہی پھیلنی شروع ہوئی، اس نے آخرش اردو زبان کی پوری تاریخ کو مسخ ہی نہیں بلکہ داغ دار کردیا۔ قوی امکان یہ ہے کہ شاہی کیمپ کے معنی میں لفظِ اردو کا ارتقا اکبر کے زمانے میں ہوا۔ اُس وقت کیمپ کے معنی یہ نہیں ہوتے تھے کہ وہ آج لگا اور کل اُکھڑ گیا یا بادشاہ آیا اور چلا گیا۔ کیمپ کی سماجیات یہ تھی کہ کیمپ میں اصل لوگ یعنی بادشاہ، سرکاری افسر اور اس کے عملے کے لوگ اگر ایک لاکھ ہیں تو اس کے علاوہ نو لاکھ آدمی اور ہوں گے جن کو حالی موالی کہتے تھے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنے پیشہ ور لوگ مثلاً سقہ، جلاہا، دھوبی، نائی، زر گر، غلہ بیچنے والا، گوشت بیچنے والااور نان بائی وغیرہ کی

لازماً ضرورت ہوتی تھی وہ سب کیمپ کے ساتھ ساتھ ہی چلتے تھے۔ یہ بالکل فطری بات ہے کہ جب اتنا بڑا کیمپ ہوگا تو یہ سب

Paraphernalia

تو رہے گا ہی۔ اصل میں یہی وہ کیمپ تھا جسے لوگ اردو کہا کرتے تھے یعنی ہندستان میں بادشاہ کا کیمپ یا وہ جگہ جہاں بادشاہ رہتا تھا اردو کہلاتی تھی۔اکبر پہلے تو آگرے میں رہے پھر انھوں نے فتح پور سیکری کو تعمیر کیا اور کچھ دنوں تک وہاں رہے۔ یہ معاملہ ابھی بھی تحقیق طلب ہے کہ اکبر نے فتح پورسیکری کو کیوں چھوڑا۔ بعض ثقہ مورخین کا خیال ہے کہ اکبر نے پانی کی کمی کی وجہ سے فتح پور سیکری کو خیرباد کہا۔ اکبر کسی ایک جگہ نہیں رُکے۔ کشمیر گئے، لاہور گئے البتہ لاہور میں انھوں نے طویل قیام کیا۔ اکبر کا طریقہ یہ تھا کہ وہ جہاں جہاں جاتے تھے وہاں وہاں شاہی کیمپ کا پورا سامان مثلاً لکڑی، فرش، دیوار، دفتر، پورے کاغذات، روشنی کا انتظام، پوری فوج ان سب کا انتظام اس طرح کرتے تھے کہ ہر چیز کے دو سیٹ ہوتے تھے۔ ایک سیٹ تو اس جگہ کے لیے جہاں بادشاہ کا قیام ہے اور دوسرا بادشاہ کے اگلے پڑاو پر بھیج دیا جاتا تھا تاکہ بادشاہ جب وہاں پہنچے تو اس کو وہاں کسی چیز کے لیے انتظار نہ کرنا پڑے۔ اس جگہ کو یہ لوگ شاعری میں اردو کہنے لگے۔ یہ کوئی ایسا شہر تو ہوتا نہیں تھا جسے پاےۂ تخت یا دار السلطنت کہا جائے۔ جہاں سے بادشاہ جلوس کرتا ہے، اپنی مجلس میں ہے اور تخت پر بیٹھتا ہے، دربار کرتا ہے وہ اردو کہلا نے لگی مگر بادشاہ کے جلوس کی جگہ اور اس لشکر یعنی بادشاہ کا کیمپ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔
1638 میں شاہ جہاں نے شاہ جہان آباد کی تعمیر کا کام بھوجلہ نام کی پہاڑی پر شروع کیا جو 1648 میں پورا ہوا۔ اب یہ علاقہ پہاڑی بھوجلہ کے نام سے فصیل بند شہر کے ایک چھوٹے علاقے تک محدود ہوگیا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ طے پایا کہ اب مغل بادشاہ مستقل طور پر یہیں یعنی لال قلعے میں رہا کریں گے اور شاہ جہان آباد اس کی رعایا اور ان لوگوں کے قیام گاہ کے طور پر استعمال ہوگا جو کیمپ کے ساتھ مختلف کاموں کے لیے چلتے تھے۔ اس سے پہلے جہانگیر گھومتے پھرتے رہے تھے اور ان کا انتقال لاہور میں ہوا۔ گویا اکبر اور جہانگیر دو بادشاہوں کے زمانے میں کوئی مستقل دارالخلافہ نہیں تھا۔ اگر تھا تو آگرہ تھا جس میں یہ لوگ بہت کم رہے۔ جیساکہ عرض کیا گیا کہ لفظِ اردو کا ارتقا بادشاہ کے کیمپ کے معنی میں تو اکبر کے زمانے میں شروع ہوا مگر اس نے رواج شاہ جہان آباد کے قیام کے بعد اس طرح پایا کہ شاہ جہان آباد کو ہی لوگ شاعری میں اردو اور اردوے معلاّ کہنے لگے۔ یعنی اس وقت اردو کے معنی اس فصیل بند شہر کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتے تھے جس کو شاہ جہاں نے بنوایا ہے۔
فاروقی صاحب نے لکھا ہے کہ ’دریاے لطافت‘ 1807 میں مکمل ہوئی ہے۔ قیاس اغلب ہے کہ اس کی تحریر کا آغاز 1794 یا 1795 کے قریب ہوا ہوگا لیکن تکمیل 1807 میں ہوئی ہے۔اس میں انشا اور قتیل نے ہر جگہ شاہ جہان آباد یعنی دہلی کے معنی میں اردو کا لفظ استعمال کیا ہے۔ فاروقی صاحب کے بہ قول لوگوں نے اس کتاب کو تقریباً نہیں کے برابر پڑھا ہے کیوں کہ اس کتاب کی فارسی مشکل ہے۔یہ کتاب ایک ہی بار 1850 میں چھپی تھی اور اب یہ بہ آسانی ملتی بھی نہیں ہے۔ اشاعت کے وقت اس کتاب کے متن میں جو بہت سی غلطیاں راہ پاگئی تھیں وہ درست نہ ہوسکیں۔ فاروقی صاحب کے پاس اس کتاب کا جو نسخہ ہے اس میں سات آٹھ صفحات غائب ہیں۔ اس کتاب کے الفاظ بھی بہت ٹیڑھے میڑھے اس لیے ہیں کہ اس زمانے میں اسی قسم کا املا رائج تھا۔ 1946 کے آس پاس پنڈت دتاتریہ کیفی نے اس کا ترجمہ بڑی محنت سے کیا لیکن پھر بھی اس میں کھانچے رہ گئے۔ اس کتاب کو اگر بیسویں صدی میں کچھ لوگوں نے پڑھا بھی ہوگا تو کبھی اس پر غور نہیں کیا کہ یہاں ’اردو‘ کے معنی کیا ہیں اور جن لوگوں نے انیسویں صدی میں پڑھا اُنھوں نے تو فطری طور پر لفظِ اردو سے مراد شاہ جہان آباد لی۔
اس سے پہلے جوکتاب بے انتہا مقبول تھی وہ تھی ’باغ وبہار‘۔ ’باغ و بہار‘ کی ابتدا ہی میں میرامّن نے صاف صاف تین چار جگہ لکھا ہے کہ میں نے یہ کہانی اردو کی زبان میں لکھی ہے: یعنی اس زبان میں جسے شاہ جہان آباد کے لوگ جن میں عورتیں، بوڑھے، بچے، ہندو مسلمان سب شامل ہیں۔ یہاں ’اردو‘ بمعنی ’شاہ جہان آباد‘ کے سلسلے میں کسی غلط فہمی کی گنجائش نہ تھی۔ لیکن ہم لوگوں نے یہاں (اور ہر اس جگہ جہاں ’زبانِ اردو‘ یا ’اردو کی زبان‘ لکھا تھا) آج تک اس نکتے کو نہیں پکڑا اور اگر پکڑا بھی ہوگا تو اس کو نہ تو اپنے طالب علموں کو بتایا اور نہ ہی اپنی کسی تحریر میں اس کا ذکر کیا۔ اردو کے استاد تو صرف یہی بتاتے رہے کہ’ اردو ‘کے معنی ہیں ’ لشکر‘۔ اصل میں تو یہ پورا فقرہ ’زبانِ اردوے معلاے شاہ جہان آباد‘تھا، مختصر ہوتے ہوتے صرف ’اردو‘ رہ گیا، اور وہ بھی غالباً اس وجہ سے کہ ہم لوگوں نے’زبانِ اردو‘ کو فارسی طرز کی ترکیب سمجھا، بمعنی ’وہ زبان جس کا نام اردو ہے‘۔ فارسی میں بیشک اس طرح بولتے ہیں،مثلاً ’زبان انگریزی236وہ زبان جس کا نام انگریزی ہے‘؛ ’زبان فارسی236وہ زبان جس کا نام فارسی ہے‘؛ ’زبان پنجابی236وہ زبان جس کا نام پنجابی ہے‘، وغیرہ۔ لیکن اردو میں اس طرح کبھی نہیں بولتے۔ اردو میں ہمیشہ ’انگریزی /انگریز کی زبان، فارسی/ فارس یا ایران کی زبان، پنجابی یا پنجاب کی زبان‘ وغیرہ بولتے ہیں۔ لیکن فارسی ترکیب میں ’زباناردو‘ کے معنی ہیں ’اس جگہ کی زبان جس کا نام اردو ہے۔‘
مسعود حسین خاں اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے بیسویں صدی کے چوتھے دہے میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے شعبۂ اُردو میں جو کام کیا وہ بعد میں ’مقدمۂ تاریخِ زبانِ اردو‘ کے نام سے شائع ہوا اور بہت شہرت پذیر ہوا۔ مسعود حسین صاحب مرحوم کے مقالے کی اشاعت کے کوئی سو برس پہلے تک لفظ ’اردو‘آج کے شہر دہلی اور اس وقت کے شاہ جہان آباد کے لیے مستعمل تھا مگر تعجب کی بات ہے کہ مسعود صاحب کی کتاب میں اس کا کہیں ذکر تک نہیں۔اردو کے کسی بڑے عالم یا محقق نے اس تسامح کی طرف توجّہ نہ دی۔ ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ کے منظرِعام پر آنے کے بعد بھی 80 برس پرانا کام ہی اردو زبان کی تاریخ کے باب میں تحقیق کا حرفِ آخر ہے۔
اس بات کی وضاحت اور اسے مکرر بیان کرنا ضروری ہے کہ آہستہ آہستہ لفظ ’ اردو‘ بطورِ اسمِ لسان کا استعمال’ زبانِ اردوے معلاے شاہ جہان آباد‘ سے گھٹ کر’ زبانِ اردو ے معلی‘ اور پھر ’زبانِ اردو ‘یعنی ’شاہ جہان آباد کی زبا ن‘ ہوا اور بالآخر محض’ اردو‘ رہ گیا۔ جب فارسی میں’زبانِ اردو‘ کہا جاتا ہے تو اس کے ایک معنی ہوتے ہیں’ وہ زبان جس کا نام اردو ہے‘ مگر دوسرے معنی یہ ہیں کہ ’اردو‘ کی زبان یعنی’ شاہ جہان آباد‘ کی زبان۔ اس مرکبِ توصیفی نے اردو والوں کو بہت پریشان کیا ہے۔ مثلاً شاہِ دہلی کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ دہلی کا بادشاہ اور دوسرے معنی یہ کہ وہ بادشاہ جس کا نام دہلی ہے۔
1785 میں گلکرسٹ نے لکھا ہے کہ یہ زبان جس کو عام طور پر لوگ ریختہ کہتے ہیں اردو بھی کہلاتی ہے، یعنی ’شاہی دربار کی زبان‘۔ فاروقی صاحب کہتے ہیں کہ اسمِ لسان کے طور پر لفظ اردو کا یہ قدیم ترین استعمال ہے۔اس سے پہلے لفظ ’اردو‘ اسمِ لسان کے طور پر نہیں آیا۔اس سلسلے میں انھوں نے ایک گفتگو میں مصحفی کا شعر نقل کیا ہے ؂
البتہ مصحفی کو ہے ریختے میں دعوا
یعنی کہ ہے زبان داں اردو کی وہ زباں کا
اس سے صاف کھُل جاتا ہے کہ ریختہ کے معنی یہ ہیں کہ جس زبان میں وہ لکھ رہے ہیں اور اردو ، یعنی اس جگہ کی زبان ہے جہاں کی یہ زبان ہے۔مصحفی کا یہ شعر 1770 یا 1780 کے آس پاس کا ہے۔ ان کا ایک اور شعر جس کو’ نور اللغات‘ نے نقل کیا ہے لیکن جو فاروقی صاحب کو مصحفی کے کسی دیوان میں نہیں ملا، یہ ہے ؂
خدا رکھے زباں ہم نے سنی ہے میر و میرزا کی
کہیں کس منہ سے ہم اے مصحفی اردو ہماری ہے
سودا1781 میں انتقال کر گئے۔میر تقی میر 1810 میں فوت ہوئے ۔ اس لیے یہ فرض کر لیا گیا کہ’خدا رکھے‘ سے مراد یہ ہے کہ میر اور سودا اس وقت زندہ تھے، اور یہ شعر 1781سے پہلے کہا گیا ہوگا۔لیکن اس شعر کا مصحفی کے کلیات میں نہ ملنا اسے بہت مشکوک کر دیتا ہے۔
جیساکہ اوپر مذکور ہوا ، اردو بہ طورِ اسم زبان کا پہلا ذکر 1785 میں گلکرسٹ کے یہاں ملتا ہے۔میر اور سودا کے کلیات میں لفظ ’اردو‘ بطورِ اسم زبان نہیں ملتا۔ مصحفی کے دو تین شعروں میں ’اردو‘ کا لفظ آتا ہے، لیکن جیسا کہ ہم نے اوپر دیکھا، یہ کہنا مشکل ہے کہ مصحفی نے لفظ ’اردو‘ بطورِ اسمِ لسان استعمال کیا ہے۔ مثلاً ایک شعر مصحفی کا اور دیکھیں ؂
یہ ریختے کا جو اردو ہے مصحفی اس میں
نئی نکالی ہیں باتیں ہزار ہم نے تو
ظاہر ہے کہ ’ریختے کا اردو‘ سے مراد ہے ’ریختہ کا شہر جس کا نام اردو ہے۔‘ یا حد سے حد اسے ’ریختہ کا بازار‘ وغیرہ کے معنی دے سکتے ہیں۔ مصحفی کا انتقال 1824 میں ہوا۔ممکن 1790 کے آس پاس کچھ لوگوں نے اس زبان کو اردو کہنا شروع کردیا ہومگر یہ عام بات نہ تھی۔ ثبوت اس کا یہ بھی ہے کہ غالب کے ا ردو کلام میں لفظ ’اردو‘ بطورِ اسمِ زبان نہیں آیا۔ان کے اردو خطوط 1850 کے آس پاس شروع ہوتے ہیں ان میں کہیں بھی زبان کے معنی میں ’اردو‘ کا استعمال نہیں ہوا ہے۔ہرچند کہ ایک خط میں وہ یہ بھی لکھتے ہیں: ’البتہ میرا اردو اوروں سے فصیح ہوگا‘، مگر یہاں اہم بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں زبانوں کے نام مونث ہوتے ہیں۔ غالب اس بات سے واقف نہ ہوں، اس کا امکان نہیں۔ اس لیے سوال صرف یہ ہے کہ غالب کے اس جملے کا مطلب کیا ہے؟ اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ یہاں غالب نے زبان کے معنی میں ’اردو‘ استعمال کیا ہے تو یہ استعمال بھی صرف ایک ہی جگہ ملتا ہے۔ غالب ہمیشہ ہندی یا ریختہ کہتے ہیں۔ گلکرسٹ1785 میں اس لفظ کو زبان کے معنی میں استعمال کرچکے تھے مگر اس کے بعد آئندہ چالیس پچاس برس تک بھی اس لفظ نے زبان کے معنی میں رواج نہیں پایا۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی بڑے شاعر نے اٹھارویں صدی یا انیسویں صدی کے پہلے نصف میں اردو کا لفظ زبان کے معنی میں استعمال نہیں کیا۔
یہ بات تقریباً مصدقہ ہے کہ عام بول چال میں 1850 تک بھی لفظِ اردو زبان کے معنی میں مستعمل نہیں تھا لیکن وہ اس وقت نامانوس بھی نہیں تھا۔فاروقی صاحب دعوے کے ساتھ تو نہیں لیکن خاصے وثوق سے یہ کہتے ہیں کہ 1850 تک بھی لفظِ اردو بہ معنیِ زبان کے رائج نہیں تھا۔
غالب نے فارسی میں ایک جگہ اپنے کسی مخالف کو لکھا ہے ؂
فارسی بیں تا بہ بینی نقش ہاے رنگ رنگ
بگذر از مجموعۂ اردو کہ بے رنگِ منست
یہ شعر کب کہا گیا معلوم نہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ذوق کے جواب میں کہا ہوگا۔ مومن کے بارے میں جو 1852 میں مر گئے تھے غالب اس طرح کا شعر نہیں کہہ سکتے تھے، کیوں کہ ایک عالم مومن کی فارسی کا قائل تھا۔ذوق 1854 میں مرگئے۔ اس لیے اغلب ہے کہ یہ شعر اگر ذوق کے جواب میں کہا گیا تو 1854 سے پہلے کا شعر ہوگا۔غالب نے اس شعر کو غصے میں کہا تو ہے لیکن یہ تحقیق طلب ہے کہ یہ شعر غالب نے کس کے لیے کہا ہے۔ اس میں بھی لطف یہ ہے کہ بے رنگ کے معنی خاکہ یعنی

outline

ہوتا ہے جسے مصور پہلے بناتا ہے اور بعد میں رنگ بھرتا ہے، اسی لیے، پہلے مصرع میں نقش ہاے رنگ رنگ کہا ہے۔ اب تو زیادہ تر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ بے رنگ ہونا وہ ہے جس میں کوئی رنگ نہ ہو۔اہم سوال یہ ہے کہ لفظِ’ ہندی‘ اس زبان کے لیے جو اب ’اردو‘ کہلاتی ہے، کتنے زمانے تک رائج رہا؟ اس کا کوئی مصدقہ جواب نہیں ہے مگر یہ مسلّم ہے کہ اس زبان کے لیے جس کا آخری نام ’اردو‘ ٹھہرا، اس کے لیے ’ہندی‘ بہت دیر تک رائج رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اردو کے لیے ’ہندی‘ کے استعمال کی مثالیں بیسویں صدی میں بھی مل جاتی ہیں۔ اٹھارویں صدی میں تو لوگ زبان کے معنی میں’ ہندی‘ کا استعمال کرتے ہی تھے۔ انیسویں صدی میں غالب بھی ہندی کو ان معنی میں ہی استعمال کر رہے ہیں جو اب اردو کے لیے مخصوص ہوگئے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ میرا جب دل بہت گھبراتا ہے تو گاہ گاہ ہندی کا مطلع پڑھ دیتا ہوں۔
’ہندی‘ کے بہت سے معنی ہیں۔ بنیادی معنی یہ ہیں کہ باہر سے آنے والوں نے ہندستانی قومیت کے لوگوں کے لیے ’ہندی‘ لفظ کا استعمال کیا، کیوں کہ ہندستان کا قدیم نام ’ہند‘ تھا۔ کچھ غیر ملکیوں کے لیے تو ہر ہندستانی زبان ہندی تھی۔ بنگلہ کے لیے بھی ہندی کا استعمال ملتا ہے۔ کسی کے لیے پنجابی بھی ہندی ہے۔ کسی نے تامل کو ہندی کہا ہے۔ کسی کے لیے برج بھاشا بھی ہندی ہے۔ مختصر یہ کہ ہندی کے ایک معنی تو وہ تھے جن میں اس کو عام طور پر غیر ملک یا غیر زبان کے لوگہندستان کے تمام باشندوں، زبانوں اور تمام زبانوں کے لیے ہندی کا استعمال کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ یہ استعمال کم تو ہوگیا لیکن غیر ملکیوں کی ہندستان آمد کے بعد یہ لفظ بہت رائج تھا۔
فاروقی صاحب نے پدماوت کا ایک نسخہ رضا لائبریری رام پور میں دیکھا ہے جو فارسی رسمِ خط میں ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ یہ ہندی زبان کی شاعری ہے جو فارسی رسمِ خط میں ہے۔ ظاہرہے کہ وہ زبان اُس زبان سے قطعی مختلف ہے جو آج عام تصور کے مطابق ہندی یعنی جدید ہندی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نسخے کی زبان اودھی ہے۔ تمام شمالی ہند کی زبانوں کو پڑھنے اور اسے نام نہاد جدید ہندی کا حصہ قرار دینے کی سازش میں جن زبانوں کو ہندی کی مختلف شکلوں سے تعبیر کیا جاتا ہے ان میں اودھی بھی شامل ہے جب کہ وہ کھڑی بولی سے بالکل مختلف زبان ہے۔ یعنی ہندستانی بھی ہندستان کی زبانوں کے لیے ہندی کا لفظ استعمال کرتے تھے۔انگریزوں نے بھی اسی معنی میں جگہ جگہ اسے ہندی لکھا ہے۔ پھر دھیرے دھیرے یہ ہوا کہ ا س زبان کو جسے آج اردو کہا جاتا ہے جب وہ مقبول ہونے لگی تو کئی لوگوں نے اسے ہندی یا دہلوی کہنا شروع کردیا۔
جمیل جالبی صاحب کو شک ہے کہ مسعود سعد سلمان نے بارہویں صدی میں ایک دیوان ’ہندی‘ میں لکھا تو’ ہندی‘ سے مراد پنجابی رہی ہوگی۔ اس کا جواب فاروقی صاحب نے یوں دیا ہے کہ ’لباب الالباب‘ میں اس ذکر کے سو برس سے بھی کم عرصے کے اندر امیر خسرو مثنوی ’ نُہ سپہر‘ لکھتے ہیں جس میں ہندستانی زبانوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ صاف لفظوں میں رقم طراز ہیں کہ پنجابی بھی ایک زبان ہے۔ لہٰذا جب’ پنجابی‘ کے نام سے اس زمانے میں ایک زبان موجود تھی تو پھر اس کو ’ہندی‘ کیوں کر کہا جائے گا۔ پنجابی کو’ ہندی‘ تو وہی کہے گا جو ہندستان کا نہ ہو۔ فاروقی صاحب یہی سمجھتے ہیں کہ مسعود سعد سلمان نے جو کچھ بھی کہا ہوگا وہ ’ہندی‘ یعنی آج کی اصطلاح میں ’اردو‘ میں ہوگا۔ اہم بات مگر یہ ہے کہ مسعود سعد سلمان کا دیوان کہیں ملتا نہیں ہے، لہٰذا اس مفروضے پر زیادہ توجہ صرف کرنے کی ضرورت نہیں کہ محمد عوفی نے ’لباب الالباب‘ میں ’ہندی‘ سے ’پنجابی‘ مراد لی تھی۔ خسرو نے تو لکھا ہے کہ میں نے دوستوں کی تفنّن کے واسطے ’ہندی‘ میں بہت کچھ کہا ہے۔ انھوں نے جو بھی ہندی میں کہا ہو وہ بھی اب کہیں ملتا ہی نہیں ہے البتہ ان کے بیان سے اس امر کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ انھوں نے بہ زبانِ ہندی شاعری کی ہے ۔ہندی میں خسرو کے مشکل سے کہیں کہیں صرف دو چار اشعار ہی ملتے ہیں، باقی تمام کلام الحاقی نہیں تو وہ مشکوک ضرور ہے۔
امیر مینائی جگہ جگہ کہتے ہیں کہ ’ہندی‘ میں ایسا ہوتا ہے، ’ہندی ‘میں ویسا ہوتا ہے۔ امیر مینائیکے یہاں’ ہندی‘ کے معنی ہیں کوئی بھی وہ زبان جو ہندستان میں خصوصاً دہلی میں بولی جاتی ہے۔ امیر مینائی کا انتقال 1900 میں ہوا۔ انھوں نے اپنے خطوں میں جگہ جگہ اس زبان کو جسے وہ استعمال کررہے ہیں، مثالوں کے ساتھ’ ہندی‘ کہا ہے۔ یہ مثالیں قواعد سے متعلق ہیں، مثلاً وہ لکھتے ہیں کہ یہ فارسی لفظ ہے اس کو آپ ہندی لفظ کے ساتھ نہیں جوڑ سکتے/اضافت نہیں کرسکتے۔ اپنے دلائل کی تائید میں امیر مینائی نے مثالیں بھی دی ہیں۔ ظاہر ہے کہ انھوں نے ’ہندی ‘سے وہی زبان مراد لی ہے جسے اب اردو کہا جاتا ہے۔
1914 کے قریب اقبال مثنوی’ اسرارِ خودی‘ کے بارے میں لکھ رہے ہیں کہ وہ اسے’ ہندی‘ میں اس لیے نہیں لکھ رہے کہ وہ ان خیالات کی متحمل نہیں ہوسکتی جن کا بیان اس مثنوی میں کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اقبال’ ہندی ‘اسی زبان کے معنی میں لکھ رہے ہیں جس کے لیے 1915 تک اردو کا استعمال بھی عام ہوچکا تھا مگر اقبال پھر بھی اسے’ ہندی‘ کہہ رہے ہیں یعنی 1915 تک بھی آج کی اردو زبان کے لیے ہندی کا استعمال ہوتا تھا۔
یہ تو طے ہوگیا کہ ہندی لفظ عام طور پر دو چیزوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ ایک تو ان چیزوں کے لیے جو ہندستان سے متعلق ہیں خصوصاً یہاں کے باشندے اور یہاں کی زبانیں، یہاں کے کھانے، یہاں کے لباس اور ایک اُس زبان کے لیے جو پہلے دہلوی، ہندی، ہندوی کہلاتی تھی اور بعد میں اردو کہلائی۔ یہ زبان جب دکن میں پہنچی تو وہاں اسے دہلوی، ہندی اور گجری کہا گیااور بعد میں لوگ اسے دکنی کہنے لگے۔ جس زمانے میں اردو نام رائج ہونے لگا ہے اس وقت وہ زبانیں مثلاً برج ، بھوج پوری، اودھی، ماگدھی اور راجستھانی وغیرہ جو اب جدید ہندی کی شکلیں کہلاتی ہیں، قائم ہوچکی تھیں اور ان میں وقیع ادب لکھا جا چکا تھا۔
انیسویں صدی کے اواخر میں جب ایک نئی زبان کے طور پر جدید ہندی کی تشکیل کی تحریک بہت مضبوط ہوگئی تو ہندی کے لیے اردو کے نام کا رواج عام ہونے لگا۔ جدید ہندی کی کوئی تاریخ نہیں تھی، نہ ہی اس کے پاس اپنی گرامر تھی، اس لیے، وہ سب بنایا جانے لگا اور اب تک بنایا ہے۔ جدید ہندی کے حواریوں نے اس وقت یہ کہاکہ ہندستان کے وہ لوگ جو شمالی ہند کی زبانوں کو بولتے ہیں وہ بڑی حد تک غیرمسلم ہیں، اس لیے، ان کے لیے یہ زبان ہندی ہوگی۔ لہٰذا وہ سب زبانیں عجیب و غریب منطق سے ہندی کہی جانے لگیں۔
1800 تک زبان کے معاملے میں کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا تھا مگر جیسے ہی سیاسی مقاصد سیایک نئی زبان بہ نامِ ہندی بنانے کا معاملہ شروع ہوا تو پھر ضرورت ہوئی ایک ایسی زبان کی جسے مسلم کہہ کر اس کی مخالفت کی جاسکے۔ ہرچندکہ جدید ہندی کے حامیوں نے اس نئی زبان کو ہندی کہا مگر وہ اپنی فکر کے تضاد سے بیسویں صدی کی اولین دہائیوں تک اس لیے الجھتے رہے بلکہ آج بھی الجھتے ہیں کہ جس زبان کی مخالفت وہ اردو کہہ کر کررہے تھے، اس کے لیے اس وقت بھی لفظِ ہندی رائج تھا جب ان کی لسانی سازش بہت آگے بڑھ چکی تھی۔ جدید ہندی کی تشکیل کے ساتھ ہی اس تحریک کا شروع ہونا فطری تھا جس میں وہ لوگ جنھیں ہندی والے مسلمان کہہ کر کنارے کردینا چاہتے تھے، وہ اس پر زور دیتے تھے کہ ہندی تو ہماری زبان ہے اور سیاسی مقاصد سے آپ جس زبان کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں، اسے ہندی کے علاوہ کوئی اور نام دیجیے مگر ایسا نہیں ہوا اور مسلمان ہندو قوم پرستوں کی سازش کے جال میں پھنس گئے اور انھوں نے اردو کے لیے مسلم زبان ہونے کی رٹ لگالی۔ انھوں نے ہندو قوم پرستوں سے یہ بھی نہیں پوچھا کہ آپ ہندستانی کو بھی اگر ہندی کہہ رہے ہیں تو اس کی منطق کیا ہے۔ سرسید احمد خاں نے کہیں یہ نہیں لکھاکہ یہ تو وہی زبان ہے جسے ہم بول رہے ہیں پھر اسے آپ مخصوص قسم کی ہندی کیوں بنانا چاہتے ہیں۔ ایک نئی زبان کی تشکیل کے لیے انگریزوں نے ہندی کے قدیم رسمِ خط سے مختلف ناگری لپی کو ترجیح دی اور 1901 میں یوپی میں اور بہار میں اس سے کچھ پہلے ناگری لپی میں لکھی جانے والی’ہندی‘ کو سرکاری استناد کے ساتھ رائج کیا گیا۔ اس وقت وہ لوگ جو ہمارے استاد تھے وہ تو شاعری کر رہے تھے اور انھیں کچھ معلوم ہی نہیں تھا کہ سیاسی دنیا میں لسانی اعتبار سے کیا ہورہا ہے اور کس طرح اردو کو مسلمانوں کی اور ہندی کو ایک نئی شکل میں ہندوؤں کی زبان کے طور پر قائم کیا جارہا ہے۔ اس وقت کسی نے یہ قطعی نہیں سوچا کہ یہ سب جو ہورہا ہے اس کا انجام کیا ہوگا۔ یہ عجیب بات ہے کہ وہ سیاسی باخبری جو مصحفی کے یہاں ملتی ہے وہ بعد کے لوگوں کے یہاں نہیں ملتی۔ غالب سیاسی طور پر باخبر تو ہیں لیکن وہ انگریزوں سے مغلوب بھی ہیں اور یہی حال محمد حسین آزاد کا ہے۔
البتہ جب جدید ہندی کے لیے ناگری لپی کا مسئلہ یوپی میں آیا اور سرسید کے قریبی لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ہندی اور اردو دو الگ الگ زبانیں ہیں تب جاکر سرسید چونکے اور شور مچایااور ایجوکیشن کمیشن بنوایا لیکن اس وقت تک پانی سر سے اونچا ہوچکا تھا۔
بھارتیندو ہریش چندر کو جب لوگوں نے مجبور کیا کہ اب آپ اردو/ فارسی چھوڑ کر ہندی میں لکھیں تو انھوں نے ایک خط میں لکھا کہ اس زبان کو جس کو آپ ہندی کہہ رہے ہیں، پنگل میں ڈھالنا میرے لیے مشکل ہورہا ہے۔ پنگل کا اصول ہی کچھ اور ہے۔ اس لیے جدید ہندی کے حامیوں نے پنگل ہی کو بدل ڈالا اور اس کے ساتھ جو ظلم کیا وہ جدید ہندی کی شاعری کے لیے لعنت بن گیا۔ مثلاً ’جل ‘بمعنی ’پانی‘ کو ایک گرو کہا گیا، حالانکہ پنگل کے حساب سے وہاں تو جَلَ ہے، یعنی یہ دو لگھو ہیں،ایک گرو نہیں۔ آج کی جو ہندی ہے اس میں آپ ’جَلَ‘ لکھ کر ’ جَل‘ پڑھ رہے ہیں اور اگر اسے بمعنی’ جلنا ‘لیجیے تو وہ تو اور بھی مشکل ہے کیوں کہ پنگل کے مطابق وہ تو جَلَنا ہے۔ اس طرح سے بہت سی چیزوں کو جدید ہندی میں ایسے ٹھونسا گیا کہ ان چیزوں کی شکل ہی بدل گئی اور جدید ہندی مزید تمسخر آمیز ہوگئی۔ انگریزوں نے تو بہت سوچ کر یہ زور لگایا کہ جیسے بھی ہو جدید ہندی کو اس لائق بناؤ کہ اس میں ترقی یافتہ زبانوں کی طرح شاعری اور نثر ہوسکے اور اردو سے نہ صرف اس کو الگ کردو بلکہ زبان کے نام پر ہندو اور مسلمانوں میں مزید طبقاتی تقسیم کو راہ دو۔
ایجوکیشن کمیشن میں بھارتیندو نے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ اس 151 مسلمانوں کی151 زبان میں چکر یہ ہے کہ اردو والے لکھتے بیس ہیں اور پڑھتے تیس ہیں ۔ یہ لوگ جب قرض دیتے ہیں تو بیس لکھتے ہیں اور بعد میں اس کو تیس پڑھ لیتے ہیں کیوں کہ یہ لوگ اس رسمِ خط میں نقطے تو لگاتے نہیں ہیں۔ یہ رسمِ خط بہت ہی خراب ہے،اس لیے اس کو بدلیے۔ ہم تو وہی لکھیں گے جو پہلا ورق

انجمن ترقی اردو (ہند) اپنے قیام کے بعد سے ہی اردو زبان و ادب کے تعلق سے نظریاتی مباحث اٹھاتی رہی ہے۔ آج جب اردو اداروں کی بھرمار ہے تب بھی یہ کام انجمن ہی کررہی ہے۔ اس ذیل میں انجمن کا ایک اہم کارنامہ اردو املا کی معیاربندی کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل تھا جس کے نتیجے میں پروفیسر عبدالستار صدیقی صاحب نے اردو املا کے قواعد کو ملحوظ رکھتے ہوئے اردو املا کی معیاربندی کی مگر یہ کام ان کے بعد انتشار کا شکار ہوگیا۔
اردو کی صحیح تاریخ کا تعیّن اردو زبان و ادب کے کسی بھی مسئلے سے زیادہ اہم اور توجہ کا طالب ہے جو ابھی تک افراط و تفریط کا شکار رہا ہے۔ اس ذیل میں شمس الرحمن فاروقی کاتاریخ ساز کارنامہ ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ ہے جس کے مباحث کو عام کرنے کی غرض سے ’اردو ادب‘ اس کتاب کے مندرجات پر گفتگو کا سلسلہ شروع کرنا چاہتا ہے۔ موجودہ تحریر اسی سمت میں کی گئی سلسلۂ جنبانی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آئندہ شمارے میں فاروقی صاحب کی کتاب پر بحث و تمحیص کا سلسلہ شروع ہوگا۔ میری اس تحریر کو فاروقی صاحب کے ان خیالات کی تلخیص کہنا ہی مناسب ہوگا جن کا ذکر انھوں نے ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ اور اس ذیل میں آنے والی دوسری تحریروں نیز مختلف موقعوں پر ملاقاتوں میں راقم الحروف کے ذہن کے جالے صاف کرنے کی غرض سے کیا۔ ( ا. ف)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمس الرحمن فاروقی صاحب کی کتاب ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ اپنے مندرجات کی حد تک اردو زبان کی تاریخ سے متعلق متعدد مفروضات اور تقریباً ہر قسم کی دُھند کو صاف کرچکی ہے۔ اس کے باوجود بھی151 مقامِ افسوس ہے کہ کتاب کی اردو اشاعت کے تقریباً بیس برس بعد بھی151 اس کامطالعہ ہمارے ان اکابرین کی اکثریت خصوصاً ان ماہرینِ لسانیات نے نہیں کیا ہے جو اردو زبان کے ارتقا کی تاریخ وغیرہ پر اپنی تحقیق پر فخر کرتے ہیں۔ اردو زبان کی تاریخ کے علما ابھی بھی وہی کچھ دُہرا رہے ہیں جس کی بازگشت ان کے چالیس اور پچاس برس پرانے مضامین میں ملتی ہے۔ اس صورتِ حال پر اب افسوس اس لیے بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اردو کی اس اصطلاحی علمی دنیا میں پڑھنے لکھنے کی روایت ختم ہوئے زمانہ ہوگیا ہے جس کے امانت دار اب یونی ورسٹیوں کے اردو شعبوں یا پھر ملحقہ کالجوں میں اردو زبان و ادب کا درس دے رہے ہیں۔
مزید تشویش کا پہلو یہ ہے کہ اردو زبان کے ارتقا سے متعلق ہمارے ماہرینِ لسانیات اس باب میں آج بھی ان ہی غلط فہمیوں کو راہ دے رہے ہیں جو ماضی میں مختلف وجوہ سے راہ پاگئی تھیں اور اردو زبان اور اس کے ادب کے لیے نہایت ضرر رساں ثابت ہوئیں۔ ان میں سب سے اہم مفروضہ اردو کو لشکری زبان قرار دینا ہے۔ ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ (اشاعتِ اوّل: مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی) کی اشاعتِ اوّل 2000 کے علاوہ بھی اِس کتاب کے اردو ترجمے کے ہندستان اور پاکستان دونوں جگہ سے اصلی اور جعلی اڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور انگریزی میں اس کا اولین اڈیشن اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس نئی دہلی نے 2001 میں شائع کیا تھا جس کا اردو ترجمہ چوں کہ خود فاروقی صاحب نے ہی کیا ہے، اس لیے، اسے اردو میں پڑھتے ہوئے کہیں بھی ترجمے کا گمان نہیں گزرتا۔ دراصل کتاب اولاً انگریزی میں لکھی گئی تھی مگر اس کا اردو ترجمہ فوراً ہی شائع ہوگیا اور انگریزی قالب کی اشاعت اس کے ایک برس بعد ہوئی اس لیے انگریزی میں کتاب 2001 میں شائع ہوئی جب کہ اردو میں 2000 ہی میں چھپ گئی۔ اس کتاب نے اردو 151 زبان کے ارتقا اور اس کی تاریخ151 سے متعلق تقریباً ہر وہ غلط فہمی جو انیسویں صدی کے آخر میں اس اہم زبان کے تعلق سے عام ہونا شروع ہوئی تھی اس کا سدِّ باب تو کیا مگر چوں کہ اس اہم ترین کتاب کی طرف اردو والوں کا رویّہ شاعرانہ ہی رہا، اسی لیے، اس تاریخی کام کے شائع ہونے کے تقریباً بیس برس بعد بھی ذرّہ برابر کمی نہیں آئی ہے۔ اس کتاب اور اس کے مندرجات سے چوں کہ اب تک کسی نے کوئی اختلاف نہیں کیاہے، اس لیے، جب تک کوئی بڑی تحقیق اردو زبان کی تاریخ سے متعلق فاروقی صاحب کے ذریعے پیش کیے گئے حقائق سے متعلق کسی نئے زاویے کا اضافہ نہیں کرتی تب تک ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ اردو زبان و ادب کے باب میں اپنے مندرجات کی حد تک اپنی حرفِ آخر کی حیثیت قائم رکھے گی۔
فاروقی صاحب کی تحقیق کی تلخیص یوں کی جاسکتی ہے:
لفظِ اردو بطوِر اسمِ زبان کا لشکر یا فوج سے کچھ بھی لینا دینا نہیں، اس لیے، لسانیاتی طور پر اردو زبان کو لشکری زبان کہنا غلط ہے۔
دیگر معنی کے علاوہ لفظِ اردو شاہ جہان آباد یعنی فصیل بند شہر دہلی کے معنی میں بہت دیر تک رائج رہا۔
جس زبان کو آج ہم اردو کہتے ہیں اس کے لیے یہ لفظ اُس وقت رائج ہوا جب مغلیہ سلطنت کا چراغ بجھ رہا تھا، بلکہ بجھ چکا تھا۔ اس لیے، یہ دُہرانا ایک مرتبہ پھر ضروری ہے کہ زبان کے طور پر اس لفظ کے رائج ہونے سے پہلے یہ لفظ شہر دہلی کے معنی میں مستعمل تھا۔
زبان کے طور پر اردو کے لیے تاریخ کے مختلف ادوار میں جو مختلف نام رائج رہے ان میں اردو سب سے بعد میں استعمال ہونے والا نام ہے اور سب سے پہلے اور دیر تک استعمال ہونے والا نام ہندی ہے جو اردو کے رائج ہونے کے بعد بیسویں صدی کی اولین دہائیوں تک استعمال ہوتا رہا۔ ہندی چوں کہ زبان کے علاوہ ہندستان کے باشندوں کے لیے غیرملکیوں کے ذریعے سب سے زیادہ استعمال ہونے والالفظ بھی تھا، اس لیے فطری طور پر اس کی تاریخ سب سے پرانی ہے اور اس کے استعمال کا زمانہ طویل ترین ہے۔
ہندی اور جدید ہندی دو الگ زبانیں ہیں۔ ہندی ،اردو کا پرانا نام ہے جب کہ جدید ہندی ایک سیاسی زبان ہے جس کی تشکیل ہندو قوم پرستی کے ایک عنصر کے طور پر انتہا پسندوں نے انگریزوں کی مدد سے انیسویں صدی میں شروع کی اور جسے آزادی کے بعد ریاست اور ملک کی اکثریت کی پشت پناہی اکثریتی زعم کے ساتھ حاصل ہوئی مگر جو دو سو برسوں تک ہندو قوم پرستوں اور انگریزوں کی سازش اور پُشت پناہی کے باوجود ہندو اشراف تو کیا آج تک ہندو متوسط طبقے کے لیے عملی زندگی میں یا تو مضحکہ خیز زبان ہے یا پھر سنسکرت سے عدمِ واقفیت کے سبب ان موقعوں پر سنسکرت کا کام کرتی ہے جہاں پہلے مذہبی زبان کے طور پر صرف سنسکرت کی بالادستی تھی۔
فاروقی صاحب ہندی کی اس وراثت کو ہاتھ سے جانے دینے کے لیے بالکل تیار نہیں جس نے زبانِ اردو کی پیش رو اور اس طاقت ور ترین زبان کا رول ادا کیا جس نے سیکڑوں برسوں کے لسانی اور تہذیبی رجحانات کے بہترین عناصر کو کشید کرکے ہندستان کی روایت کی تشکیل کی جسے عام فہم زبان میں ہندستانیت بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس باب میں اب کسیغلط فہمی کی گنجائش نہیں کہ فاروقی صاحب جب بھی لفظِ ہندی پرانے سیاق و سباق میں استعمال کرتے ہیں، تو ان کی مراد جدید ہندی قطعی نہیں ہوتی ہے۔
اردو کے لیے جو نام استعمال ہوئے ان میں ہندی اہم ترین نام ہے اور ہندی، ہندوی، گجری، دکنی، ریختہ وغیرہ کی فہرست میں اردو کا نمبر تاریخی طور پر سب سے بعد میں آتا ہے۔
لفظِ اردو کے رائج ہونے کے بعد بھی بیسویں صدی کی اولین دو دہائیوں میں لفظِ ہندی اس زبان کے لیے رائج رہا جسے اب اردو کہا جاتا ہے۔ اس کی مثال فاروقی صاحب اقبال کی اس تحریر سے دیتے ہیں جو انھوں نے ’اسرارِ خودی‘ (سالِ اشاعت 1915) کے ذیل میں سپردِ قلم کی اور زبان کے لیے اردو کے بجاے ہندی کا استعمال کیا۔ اسی طرح انھوں نے ’شکوہ‘ (1909) میں جب اس زبان کے لیے جسے اردو کہا جاتا ہے، ہندی کا لفظ استعمال کیا تو مزید کچھ کہنے سننے کی گنجائش ہی نہیں رہ گئی:
نغمہ ہندی ہے تو کیا، لے تو حجازی ہے مری
میری اس تحریر کو فاروقی صاحب کے ان خیالات کی تلخیص کہنا ہی مناسب ہوگا جن کا ذکر انھوں نے ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ اور اس ذیل میں آنے والی دوسری تحریروں نیز مختلف موقعوں پر ملاقاتوں میں راقم الحروف کے ذہن کے جالے صاف کرنے کی غرض سے کیا۔
اردو کے جو معنی ترکی میں ہیں ،اردو میں ہمیں اس سے کچھ مطلب نہیں ہے۔ ویسے ترکی میں بھی اردو کے معنی لشکر کے نہیں ہیں بلکہ وہاں یہ لفظ’ جمِّ غفیر‘ کے لیے مستعمل ہے۔ اسی جمِّ غفیر کو انگریزی میں Horde کہا جاتا ہے۔ یعنی بے انتظام قسم کا انبوہ ۔ پھر یہ لفظِ اردو بادشاہی یا شاہی کیمپ کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ بادشاہ کا کیمپ یا شاہی کیمپ اور لشکر دو بالکل مختلف چیزیں ہیں اور اسی فرق کو نظرانداز کرنے کے نتیجے میں اردو کے نام سے متعلق جو گمراہی پھیلنی شروع ہوئی، اس نے آخرش اردو زبان کی پوری تاریخ کو مسخ ہی نہیں بلکہ داغ دار کردیا۔ قوی امکان یہ ہے کہ شاہی کیمپ کے معنی میں لفظِ اردو کا ارتقا اکبر کے زمانے میں ہوا۔ اُس وقت کیمپ کے معنی یہ نہیں ہوتے تھے کہ وہ آج لگا اور کل اُکھڑ گیا یا بادشاہ آیا اور چلا گیا۔ کیمپ کی سماجیات یہ تھی کہ کیمپ میں اصل لوگ یعنی بادشاہ، سرکاری افسر اور اس کے عملے کے لوگ اگر ایک لاکھ ہیں تو اس کے علاوہ نو لاکھ آدمی اور ہوں گے جن کو حالی موالی کہتے تھے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنے پیشہ ور لوگ مثلاً سقہ، جلاہا، دھوبی، نائی، زر گر، غلہ بیچنے والا، گوشت بیچنے والااور نان بائی وغیرہ کی لازماً ضرورت ہوتیتھی وہ سب کیمپ کے ساتھ ساتھ ہی چلتے تھے۔ یہ بالکل فطری بات ہے کہ جب اتنا بڑا کیمپ ہوگا تو یہ سب Paraphernalia تو رہے گا ہی۔ اصل میں یہی وہ کیمپ تھا جسے لوگ اردو کہا کرتے تھے یعنی ہندستان میں بادشاہ کا کیمپ یا وہ جگہ جہاں بادشاہ رہتا تھا اردو کہلاتی تھی۔اکبر پہلے تو آگرے میں رہے پھر انھوں نے فتح پور سیکری کو تعمیر کیا اور کچھ دنوں تک وہاں رہے۔ یہ معاملہ ابھی بھی تحقیق طلب ہے کہ اکبر نے فتح پورسیکری کو کیوں چھوڑا۔ بعض ثقہ مورخین کا خیال ہے کہ اکبر نے پانی کی کمی کی وجہ سے فتح پور سیکری کو خیرباد کہا۔ اکبر کسی ایک جگہ نہیں رُکے۔ کشمیر گئے، لاہور گئے البتہ لاہور میں انھوں نے طویل قیام کیا۔ اکبر کا طریقہ یہ تھا کہ وہ جہاں جہاں جاتے تھے وہاں وہاں شاہی کیمپ کا پورا سامان مثلاً لکڑی، فرش، دیوار، دفتر، پورے کاغذات، روشنی کا انتظام، پوری فوج ان سب کا انتظام اس طرح کرتے تھے کہ ہر چیز کے دو سیٹ ہوتے تھے۔ ایک سیٹ تو اس جگہ کے لیے جہاں بادشاہ کا قیام ہے اور دوسرا بادشاہ کے اگلے پڑاو پر بھیج دیا جاتا تھا تاکہ بادشاہ جب وہاں پہنچے تو اس کو وہاں کسی چیز کے لیے انتظار نہ کرنا پڑے۔ اس جگہ کو یہ لوگ شاعری میں اردو کہنے لگے۔ یہ کوئی ایسا شہر تو ہوتا نہیں تھا جسے پاےۂ تخت یا دار السلطنت کہا جائے۔ جہاں سے بادشاہ جلوس کرتا ہے، اپنی مجلس میں ہے اور تخت پر بیٹھتا ہے، دربار کرتا ہے وہ اردو کہلا نے لگی مگر بادشاہ کے جلوس کی جگہ اور اس لشکر یعنی بادشاہ کا کیمپ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔
1638 میں شاہ جہاں نے شاہ جہان آباد کی تعمیر کا کام بھوجلہ نام کی پہاڑی پر شروع کیا جو 1648 میں پورا ہوا۔ اب یہ علاقہ پہاڑی بھوجلہ کے نام سے فصیل بند شہر کے ایک چھوٹے علاقے تک محدود ہوگیا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ طے پایا کہ اب مغل بادشاہ مستقل طور پر یہیں یعنی لال قلعے میں رہا کریں گے اور شاہ جہان آباد اس کی رعایا اور ان لوگوں کے قیام گاہ کے طور پر استعمال ہوگا جو کیمپ کے ساتھ مختلف کاموں کے لیے چلتے تھے۔ اس سے پہلے جہانگیر گھومتے پھرتے رہے تھے اور ان کا انتقال لاہور میں ہوا۔ گویا اکبر اور جہانگیر دو بادشاہوں کے زمانے میں کوئی مستقل دارالخلافہ نہیں تھا۔ اگر تھا تو آگرہ تھا جس میں یہ لوگ بہت کم رہے۔ جیساکہ عرض کیا گیا کہ لفظِ اردو کا ارتقا بادشاہ کے کیمپ کے معنی میں تو اکبر کے زمانے میں شروع ہوا مگر اس نے رواج شاہ جہان آباد کے قیام کے بعد اس طرح پایا کہ شاہ جہان آباد کو ہی لوگ شاعری میں اردو اور اردوے معلاّ کہنے لگے۔ یعنی اس وقت اردو کے معنی اس فصیل بند شہر کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتے تھے جس کو شاہ جہاں نے بنوایا ہے۔
فاروقی صاحب نے لکھا ہے کہ ’دریاے لطافت‘ 1807 میں مکمل ہوئی ہے۔ قیاس اغلب ہے کہ اس کی تحریر کا آغاز 1794 یا 1795 کے قریب ہوا ہوگا لیکن تکمیل 1807 میں ہوئی ہے۔اس میں انشا اور قتیل نے ہر جگہ شاہ جہان آباد یعنی دہلی کے معنی میں اردو کا لفظ استعمال کیا ہے۔ فاروقی صاحب کے بہ قول لوگوں نے اس کتاب کو تقریباً نہیں کے برابر پڑھا ہے کیوں کہ اس کتاب کی فارسی مشکل ہے۔یہ کتاب ایک ہی بار 1850 میں چھپی تھی اور اب یہ بہ آسانی ملتی بھی نہیں ہے۔ اشاعت کے وقت اس کتاب کے متن میں جو بہت سی غلطیاں راہ پاگئی تھیں وہ درست نہ ہوسکیں۔ فاروقی صاحب کے پاس اس کتاب کا جو نسخہ ہے اس میں سات آٹھ صفحات غائب ہیں۔ اس کتاب کے الفاظ بھی بہت ٹیڑھے میڑھے اس لیے ہیں کہ اس زمانے میں اسی قسم کا املا رائج تھا۔ 1946 کے آس پاس پنڈت دتاتریہ کیفی نے اس کا ترجمہ بڑی محنت سے کیا لیکن پھر بھی اس میں کھانچے رہ گئے۔ اس کتاب کو اگر بیسویں صدی میں کچھ لوگوں نے پڑھا بھی ہوگا تو کبھی اس پر غور نہیں کیا کہ یہاں ’اردو‘ کے معنی کیا ہیں اور جن لوگوں نے انیسویں صدی میں پڑھا اُنھوں نے تو فطری طور پر لفظِ اردو سے مراد شاہ جہان آباد لی۔
اس سے پہلے جوکتاب بے انتہا مقبول تھی وہ تھی ’باغ وبہار‘۔ ’باغ و بہار‘ کی ابتدا ہی میں میرامّن نے صاف صاف تین چار جگہ لکھا ہے کہ میں نے یہ کہانی اردو کی زبان میں لکھی ہے: یعنی اس زبان میں جسے شاہ جہان آباد کے لوگ جن میں عورتیں، بوڑھے، بچے، ہندو مسلمان سب شامل ہیں۔ یہاں ’اردو‘ بمعنی ’شاہ جہان آباد‘ کے سلسلے میں کسی غلط فہمی کی گنجائش نہ تھی۔ لیکن ہم لوگوں نے یہاں (اور ہر اس جگہ جہاں ’زبانِ اردو‘ یا ’اردو کی زبان‘ لکھا تھا) آج تک اس نکتے کو نہیں پکڑا اور اگر پکڑا بھی ہوگا تو اس کو نہ تو اپنے طالب علموں کو بتایا اور نہ ہی اپنی کسی تحریر میں اس کا ذکر کیا۔ اردو کے استاد تو صرف یہی بتاتے رہے کہ’ اردو ‘کے معنی ہیں ’ لشکر‘۔ اصل میں تو یہ پورا فقرہ ’زبانِ اردوے معلاے شاہ جہان آباد‘تھا، مختصر ہوتے ہوتے صرف ’اردو‘ رہ گیا، اور وہ بھی غالباً اس وجہ سے کہ ہم لوگوں نے’زبانِ اردو‘ کو فارسی طرز کی ترکیب سمجھا، بمعنی ’وہ زبان جس کا نام اردو ہے‘۔ فارسی میں بیشک اس طرح بولتے ہیں،مثلاً ’زبان انگریزی236وہ زبان جس کا نام انگریزی ہے‘؛ ’زبان فارسی236وہ زبان جس کا نام فارسی ہے‘؛ ’زبان پنجابی236وہ زبان جس کا نام پنجابی ہے‘، وغیرہ۔ لیکن اردو میں اس طرح کبھی نہیں بولتے۔ اردو میں ہمیشہ ’انگریزی /انگریز کی زبان، فارسی/ فارس یا ایران کی زبان، پنجابی یا پنجاب کی زبان‘ وغیرہ بولتے ہیں۔ لیکن فارسی ترکیب میں ’زباناردو‘ کے معنی ہیں ’اس جگہ کی زبان جس کا نام اردو ہے۔‘
مسعود حسین خاں اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے بیسویں صدی کے چوتھے دہے میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے شعبۂ اُردو میں جو کام کیا وہ بعد میں ’مقدمۂ تاریخِ زبانِ اردو‘ کے نام سے شائع ہوا اور بہت شہرت پذیر ہوا۔ مسعود حسین صاحب مرحوم کے مقالے کی اشاعت کے کوئی سو برس پہلے تک لفظ ’اردو‘آج کے شہر دہلی اور اس وقت کے شاہ جہان آباد کے لیے مستعمل تھا مگر تعجب کی بات ہے کہ مسعود صاحب کی کتاب میں اس کا کہیں ذکر تک نہیں۔اردو کے کسی بڑے عالم یا محقق نے اس تسامح کی طرف توجّہ نہ دی۔ ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ کے منظرِعام پر آنے کے بعد بھی 80 برس پرانا کام ہی اردو زبان کی تاریخ کے باب میں تحقیق کا حرفِ آخر ہے۔
اس بات کی وضاحت اور اسے مکرر بیان کرنا ضروری ہے کہ آہستہ آہستہ لفظ ’ اردو‘ بطورِ اسمِ لسان کا استعمال’ زبانِ اردوے معلاے شاہ جہان آباد‘ سے گھٹ کر’ زبانِ اردو ے معلی‘ اور پھر ’زبانِ اردو ‘یعنی ’شاہ جہان آباد کی زبا ن‘ ہوا اور بالآخر محض’ اردو‘ رہ گیا۔ جب فارسی میں’زبانِ اردو‘ کہا جاتا ہے تو اس کے ایک معنی ہوتے ہیں’ وہ زبان جس کا نام اردو ہے‘ مگر دوسرے معنی یہ ہیں کہ ’اردو‘ کی زبان یعنی’ شاہ جہان آباد‘ کی زبان۔ اس مرکبِ توصیفی نے اردو والوں کو بہت پریشان کیا ہے۔ مثلاً شاہِ دہلی کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ دہلی کا بادشاہ اور دوسرے معنی یہ کہ وہ بادشاہ جس کا نام دہلی ہے۔
1785 میں گلکرسٹ نے لکھا ہے کہ یہ زبان جس کو عام طور پر لوگ ریختہ کہتے ہیں اردو بھی کہلاتی ہے، یعنی ’شاہی دربار کی زبان‘۔ فاروقی صاحب کہتے ہیں کہ اسمِ لسان کے طور پر لفظ اردو کا یہ قدیم ترین استعمال ہے۔اس سے پہلے لفظ ’اردو‘ اسمِ لسان کے طور پر نہیں آیا۔اس سلسلے میں انھوں نے ایک گفتگو میں مصحفی کا شعر نقل کیا ہے ؂
البتہ مصحفی کو ہے ریختے میں دعوا
یعنی کہ ہے زبان داں اردو کی وہ زباں کا
اس سے صاف کھُل جاتا ہے کہ ریختہ کے معنی یہ ہیں کہ جس زبان میں وہ لکھ رہے ہیں اور اردو ، یعنی اس جگہ کی زبان ہے جہاں کی یہ زبان ہے۔مصحفی کا یہ شعر 1770 یا 1780 کے آس پاس کا ہے۔ ان کا ایک اور شعر جس کو’ نور اللغات‘ نے نقل کیا ہے لیکن جو فاروقی صاحب کو مصحفی کے کسی دیوان میں نہیں ملا، یہ ہے ؂
خدا رکھے زباں ہم نے سنی ہے میر و میرزا کی
کہیں کس منہ سے ہم اے مصحفی اردو ہماری ہے
سودا1781 میں انتقال کر گئے۔میر تقی میر 1810 میں فوت ہوئے ۔ اس لیے یہ فرض کر لیا گیا کہ’خدا رکھے‘ سے مراد یہ ہے کہ میر اور سودا اس وقت زندہ تھے، اور یہ شعر 1781سے پہلے کہا گیا ہوگا۔لیکن اس شعر کا مصحفی کے کلیات میں نہ ملنا اسے بہت مشکوک کر دیتا ہے۔
جیساکہ اوپر مذکور ہوا ، اردو بہ طورِ اسم زبان کا پہلا ذکر 1785 میں گلکرسٹ کے یہاں ملتا ہے۔میر اور سودا کے کلیات میں لفظ ’اردو‘ بطورِ اسم زبان نہیں ملتا۔ مصحفی کے دو تین شعروں میں ’اردو‘ کا لفظ آتا ہے، لیکن جیسا کہ ہم نے اوپر دیکھا، یہ کہنا مشکل ہے کہ مصحفی نے لفظ ’اردو‘ بطورِ اسمِ لسان استعمال کیا ہے۔ مثلاً ایک شعر مصحفی کا اور دیکھیں ؂
یہ ریختے کا جو اردو ہے مصحفی اس میں
نئی نکالی ہیں باتیں ہزار ہم نے تو
ظاہر ہے کہ ’ریختے کا اردو‘ سے مراد ہے ’ریختہ کا شہر جس کا نام اردو ہے۔‘ یا حد سے حد اسے ’ریختہ کا بازار‘ وغیرہ کے معنی دے سکتے ہیں۔ مصحفی کا انتقال 1824 میں ہوا۔ممکن 1790 کے آس پاس کچھ لوگوں نے اس زبان کو اردو کہنا شروع کردیا ہومگر یہ عام بات نہ تھی۔ ثبوت اس کا یہ بھی ہے کہ غالب کے ا ردو کلام میں لفظ ’اردو‘ بطورِ اسمِ زبان نہیں آیا۔ان کے اردو خطوط 1850 کے آس پاس شروع ہوتے ہیں ان میں کہیں بھی زبان کے معنی میں ’اردو‘ کا استعمال نہیں ہوا ہے۔ہرچند کہ ایک خط میں وہ یہ بھی لکھتے ہیں: ’البتہ میرا اردو اوروں سے فصیح ہوگا‘، مگر یہاں اہم بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں زبانوں کے نام مونث ہوتے ہیں۔ غالب اس بات سے واقف نہ ہوں، اس کا امکان نہیں۔ اس لیے سوال صرف یہ ہے کہ غالب کے اس جملے کا مطلب کیا ہے؟ اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ یہاں غالب نے زبان کے معنی میں ’اردو‘ استعمال کیا ہے تو یہ استعمال بھی صرف ایک ہی جگہ ملتا ہے۔ غالب ہمیشہ ہندی یا ریختہ کہتے ہیں۔ گلکرسٹ1785 میں اس لفظ کو زبان کے معنی میں استعمال کرچکے تھے مگر اس کے بعد آئندہ چالیس پچاس برس تک بھی اس لفظ نے زبان کے معنی میں رواج نہیں پایا۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی بڑے شاعر نے اٹھارویں صدی یا انیسویں صدی کے پہلے نصف میں اردو کا لفظ زبان کے معنی میں استعمال نہیں کیا۔
یہ بات تقریباً مصدقہ ہے کہ عام بول چال میں 1850 تک بھپہلی لفظِ اردو زبان کے معنی میں مستعمل نہیں تھا لیکن وہ اس وقت نامانوس بھی نہیں تھا۔فاروقی صاحب دعوے کے ساتھ تو نہیں لیکن خاصے وثوق سے یہ کہتے ہیں کہ 1850 تک بھی لفظِ اردو بہ معنیِ زبان کے رائج نہیں تھا۔
غالب نے فارسی میں ایک جگہ اپنے کسی مخالف کو لکھا ہے ؂
فارسی بیں تا بہ بینی نقش ہاے رنگ رنگ
بگذر از مجموعۂ اردو کہ بے رنگِ منست
یہ شعر کب کہا گیا معلوم نہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ذوق کے جواب میں کہا ہوگا۔ مومن کے بارے میں جو 1852 میں مر گئے تھے غالب اس طرح کا شعر نہیں کہہ سکتے تھے، کیوں کہ ایک عالم مومن کی فارسی کا قائل تھا۔ذوق 1854 میں مرگئے۔ اس لیے اغلب ہے کہ یہ شعر اگر ذوق کے جواب میں کہا گیا تو 1854 سے پہلے کا شعر ہوگا۔غالب نے اس شعر کو غصے میں کہا تو ہے لیکن یہ تحقیق طلب ہے کہ یہ شعر غالب نے کس کے لیے کہا ہے۔ اس میں بھی لطف یہ ہے کہ بے رنگ کے معنی خاکہ یعنی outline ہوتا ہے جسے مصور پہلے بناتا ہے اور بعد میں رنگ بھرتا ہے، اسی لیے، پہلے مصرع میں نقش ہاے رنگ رنگ کہا ہے۔ اب تو زیادہ تر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ بے رنگ ہونا وہ ہے جس میں کوئی رنگ نہ ہو۔
اہم سوال یہ ہے کہ لفظِ’ ہندی‘ اس زبان کے لیے جو اب ’اردو‘ کہلاتی ہے، کتنے زمانے تک رائج رہا؟ اس کا کوئی مصدقہ جواب نہیں ہے مگر یہ مسلّم ہے کہ اس زبان کے لیے جس کا آخری نام ’اردو‘ ٹھہرا، اس کے لیے ’ہندی‘ بہت دیر تک رائج رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اردو کے لیے ’ہندی‘ کے استعمال کی مثالیں بیسویں صدی میں بھی مل جاتی ہیں۔ اٹھارویں صدی میں تو لوگ زبان کے معنی میں’ ہندی‘ کا استعمال کرتے ہی تھے۔ انیسویں صدی میں غالب بھی ہندی کو ان معنی میں ہی استعمال کر رہے ہیں جو اب اردو کے لیے مخصوص ہوگئے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ میرا جب دل بہت گھبراتا ہے تو گاہ گاہ ہندی کا مطلع پڑھ دیتا ہوں۔
’ہندی‘ کے بہت سے معنی ہیں۔ بنیادی معنی یہ ہیں کہ باہر سے آنے والوں نے ہندستانی قومیت کے لوگوں کے لیے ’ہندی‘ لفظ کا استعمال کیا، کیوں کہ ہندستان کا قدیم نام ’ہند‘ تھا۔ کچھ غیر ملکیوں کے لیے تو ہر ہندستانی زبان ہندی تھی۔ بنگلہ کے لیے بھی ہندی کا استعمال ملتا ہے۔ کسی کے لیے پنجابی بھی ہندی ہے۔ کسی نے تامل کو ہندی کہا ہے۔ کسی کے لیے برج بھاشا بھی ہندی ہے۔ مختصر یہ کہ ہندی کے ایک معنی تو وہ تھے جن میں اس کو عام طور پر غیر ملک یا غیر زبان کے لوگہندستان کے تمام باشندوں، زبانوں اور تمام زبانوں کے لیے ہندی کا استعمال کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ یہ استعمال کم تو ہوگیا لیکن غیر ملکیوں کی ہندستان آمد کے بعد یہ لفظ بہت رائج تھا۔
فاروقی صاحب نے پدماوت کا ایک نسخہ رضا لائبریری رام پور میں دیکھا ہے جو فارسی رسمِ خط میں ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ یہ ہندی زبان کی شاعری ہے جو فارسی رسمِ خط میں ہے۔ ظاہرہے کہ وہ زبان اُس زبان سے قطعی مختلف ہے جو آج عام تصور کے مطابق ہندی یعنی جدید ہندی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نسخے کی زبان اودھی ہے۔ تمام شمالی ہند کی زبانوں کو پڑھنے اور اسے نام نہاد جدید ہندی کا حصہ قرار دینے کی سازش میں جن زبانوں کو ہندی کی مختلف شکلوں سے تعبیر کیا جاتا ہے ان میں اودھی بھی شامل ہے جب کہ وہ کھڑی بولی سے بالکل مختلف زبان ہے۔ یعنی ہندستانی بھی ہندستان کی زبانوں کے لیے ہندی کا لفظ استعمال کرتے تھے۔انگریزوں نے بھی اسی معنی میں جگہ جگہ اسے ہندی لکھا ہے۔ پھر دھیرے دھیرے یہ ہوا کہ ا س زبان کو جسے آج اردو کہا جاتا ہے جب وہ مقبول ہونے لگی تو کئی لوگوں نے اسے ہندی یا دہلوی کہنا شروع کردیا۔
جمیل جالبی صاحب کو شک ہے کہ مسعود سعد سلمان نے بارہویں صدی میں ایک دیوان ’ہندی‘ میں لکھا تو’ ہندی‘ سے مراد پنجابی رہی ہوگی۔ اس کا جواب فاروقی صاحب نے یوں دیا ہے کہ ’لباب الالباب‘ میں اس ذکر کے سو برس سے بھی کم عرصے کے اندر امیر خسرو مثنوی ’ نُہ سپہر‘ لکھتے ہیں جس میں ہندستانی زبانوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ صاف لفظوں میں رقم طراز ہیں کہ پنجابی بھی ایک زبان ہے۔ لہٰذا جب’ پنجابی‘ کے نام سے اس زمانے میں ایک زبان موجود تھی تو پھر اس کو ’ہندی‘ کیوں کر کہا جائے گا۔ پنجابی کو’ ہندی‘ تو وہی کہے گا جو ہندستان کا نہ ہو۔ فاروقی صاحب یہی سمجھتے ہیں کہ مسعود سعد سلمان نے جو کچھ بھی کہا ہوگا وہ ’ہندی‘ یعنی آج کی اصطلاح میں ’اردو‘ میں ہوگا۔ اہم بات مگر یہ ہے کہ مسعود سعد سلمان کا دیوان کہیں ملتا نہیں ہے، لہٰذا اس مفروضے پر زیادہ توجہ صرف کرنے کی ضرورت نہیں کہ محمد عوفی نے ’لباب الالباب‘ میں ’ہندی‘ سے ’پنجابی‘ مراد لی تھی۔ خسرو نے تو لکھا ہے کہ میں نے دوستوں کی تفنّن کے واسطے ’ہندی‘ میں بہت کچھ کہا ہے۔ انھوں نے جو بھی ہندی میں کہا ہو وہ بھی اب کہیں ملتا ہی نہیں ہے البتہ ان کے بیان سے اس امر کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ انھوں نے بہ زبانِ ہندی شاعری کی ہے ۔ہندی میں خسرو کے مشکل سے کہیں کہیں صرف دو چار اشعار ہی ملتے ہیں، باقی تمام کلام الحاقی نہیں تو وہ مشکوک ضرور ہے۔
امیر مینائی جگہ جگہ کہتے ہیں کہ ’ہندی‘ میں ایسا ہوتا ہے، ’ہندی ‘میں ویسا ہوتا ہے۔ امیر مینائیکے یہاں’ ہندی‘ کے معنی ہیں کوئی بھی وہ زبان جو ہندستان میں خصوصاً دہلی میں بولی جاتی ہے۔ امیر مینائی کا انتقال 1900 میں ہوا۔ انھوں نے اپنے خطوں میں جگہ جگہ اس زبان کو جسے وہ استعمال کررہے ہیں، مثالوں کے ساتھ’ ہندی‘ کہا ہے۔ یہ مثالیں قواعد سے متعلق ہیں، مثلاً وہ لکھتے ہیں کہ یہ فارسی لفظ ہے اس کو آپ ہندی لفظ کے ساتھ نہیں جوڑ سکتے/اضافت نہیں کرسکتے۔ اپنے دلائل کی تائید میں امیر مینائی نے مثالیں بھی دی ہیں۔ ظاہر ہے کہ انھوں نے ’ہندی ‘سے وہی زبان مراد لی ہے جسے اب اردو کہا جاتا ہے۔
1914 کے قریب اقبال مثنوی’ اسرارِ خودی‘ کے بارے میں لکھ رہے ہیں کہ وہ اسے’ ہندی‘ میں اس لیے نہیں لکھ رہے کہ وہ ان خیالات کی متحمل نہیں ہوسکتی جن کا بیان اس مثنوی میں کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اقبال’ ہندی ‘اسی زبان کے معنی میں لکھ رہے ہیں جس کے لیے 1915 تک اردو کا استعمال بھی عام ہوچکا تھا مگر اقبال پھر بھی اسے’ ہندی‘ کہہ رہے ہیں یعنی 1915 تک بھی آج کی اردو زبان کے لیے ہندی کا استعمال ہوتا تھا۔
یہ تو طے ہوگیا کہ ہندی لفظ عام طور پر دو چیزوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ ایک تو ان چیزوں کے لیے جو ہندستان سے متعلق ہیں خصوصاً یہاں کے باشندے اور یہاں کی زبانیں، یہاں کے کھانے، یہاں کے لباس اور ایک اُس زبان کے لیے جو پہلے دہلوی، ہندی، ہندوی کہلاتی تھی اور بعد میں اردو کہلائی۔ یہ زبان جب دکن میں پہنچی تو وہاں اسے دہلوی، ہندی اور گجری کہا گیااور بعد میں لوگ اسے دکنی کہنے لگے۔ جس زمانے میں اردو نام رائج ہونے لگا ہے اس وقت وہ زبانیں مثلاً برج ، بھوج پوری، اودھی، ماگدھی اور راجستھانی وغیرہ جو اب جدید ہندی کی شکلیں کہلاتی ہیں، قائم ہوچکی تھیں اور ان میں وقیع ادب لکھا جا چکا تھا۔
انیسویں صدی کے اواخر میں جب ایک نئی زبان کے طور پر جدید ہندی کی تشکیل کی تحریک بہت مضبوط ہوگئی تو ہندی کے لیے اردو کے نام کا رواج عام ہونے لگا۔ جدید ہندی کی کوئی تاریخ نہیں تھی، نہ ہی اس کے پاس اپنی گرامر تھی، اس لیے، وہ سب بنایا جانے لگا اور اب تک بنایا ہے۔ جدید ہندی کے حواریوں نے اس وقت یہ کہاکہ ہندستان کے وہ لوگ جو شمالی ہند کی زبانوں کو بولتے ہیں وہ بڑی حد تک غیرمسلم ہیں، اس لیے، ان کے لیے یہ زبان ہندی ہوگی۔ لہٰذا وہ سب زبانیں عجیب و غریب منطق سے ہندی کہی جانے لگیں۔
1800 تک زبان کے معاملے میں کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا تھا مگر جیسے ہی سیاسی مقاصد سیایک نئی زبان بہ نامِ ہندی بنانے کا معاملہ شروع ہوا تو پھر ضرورت ہوئی ایک ایسی زبان کی جسے مسلم کہہ کر اس کی مخالفت کی جاسکے۔ ہرچندکہ جدید ہندی کے حامیوں نے اس نئی زبان کو ہندی کہا مگر وہ اپنی فکر کے تضاد سے بیسویں صدی کی اولین دہائیوں تک اس لیے الجھتے رہے بلکہ آج بھی الجھتے ہیں کہ جس زبان کی مخالفت وہ اردو کہہ کر کررہے تھے، اس کے لیے اس وقت بھی لفظِ ہندی رائج تھا جب ان کی لسانی سازش بہت آگے بڑھ چکی تھی۔ جدید ہندی کی تشکیل کے ساتھ ہی اس تحریک کا شروع ہونا فطری تھا جس میں وہ لوگ جنھیں ہندی والے مسلمان کہہ کر کنارے کردینا چاہتے تھے، وہ اس پر زور دیتے تھے کہ ہندی تو ہماری زبان ہے اور سیاسی مقاصد سے آپ جس زبان کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں، اسے ہندی کے علاوہ کوئی اور نام دیجیے مگر ایسا نہیں ہوا اور مسلمان ہندو قوم پرستوں کی سازش کے جال میں پھنس گئے اور انھوں نے اردو کے لیے مسلم زبان ہونے کی رٹ لگالی۔ انھوں نے ہندو قوم پرستوں سے یہ بھی نہیں پوچھا کہ آپ ہندستانی کو بھی اگر ہندی کہہ رہے ہیں تو اس کی منطق کیا ہے۔ سرسید احمد خاں نے کہیں یہ نہیں لکھاکہ یہ تو وہی زبان ہے جسے ہم بول رہے ہیں پھر اسے آپ مخصوص قسم کی ہندی کیوں بنانا چاہتے ہیں۔ ایک نئی زبان کی تشکیل کے لیے انگریزوں نے ہندی کے قدیم رسمِ خط سے مختلف ناگری لپی کو ترجیح دی اور 1901 میں یوپی میں اور بہار میں اس سے کچھ پہلے ناگری لپی میں لکھی جانے والی’ہندی‘ کو سرکاری استناد کے ساتھ رائج کیا گیا۔ اس وقت وہ لوگ جو ہمارے استاد تھے وہ تو شاعری کر رہے تھے اور انھیں کچھ معلوم ہی نہیں تھا کہ سیاسی دنیا میں لسانی اعتبار سے کیا ہورہا ہے اور کس طرح اردو کو مسلمانوں کی اور ہندی کو ایک نئی شکل میں ہندوؤں کی زبان کے طور پر قائم کیا جارہا ہے۔ اس وقت کسی نے یہ قطعی نہیں سوچا کہ یہ سب جو ہورہا ہے اس کا انجام کیا ہوگا۔ یہ عجیب بات ہے کہ وہ سیاسی باخبری جو مصحفی کے یہاں ملتی ہے وہ بعد کے لوگوں کے یہاں نہیں ملتی۔ غالب سیاسی طور پر باخبر تو ہیں لیکن وہ انگریزوں سے مغلوب بھی ہیں اور یہی حال محمد حسین آزاد کا ہے۔
البتہ جب جدید ہندی کے لیے ناگری لپی کا مسئلہ یوپی میں آیا اور سرسید کے قریبی لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ہندی اور اردو دو الگ الگ زبانیں ہیں تب جاکر سرسید چونکے اور شور مچایااور ایجوکیشن کمیشن بنوایا لیکن اس وقت تک پانی سر سے اونچا ہوچکا تھا۔
بھارتیندو ہریش چندر کو جب لوگوں نے مجبور کیا کہ اب آپ اردو/ فارسی چھوڑ کر ہندی میں لکھیں تو انھوں نے ایک خط میں لکھا کہ اس زبان کو جس کو آپ ہندی کہہ رہے ہیں، پنگل میں ڈھالنا میرے لیے مشکل ہورہا ہے۔ پنگل کا اصول ہی کچھ اور ہے۔ اس لیے جدید ہندی کے حامیوں نے پنگل ہی کو بدل ڈالا اور اس کے ساتھ جو ظلم کیا وہ جدید ہندی کی شاعری کے لیے لعنت بن گیا۔ مثلاً ’جل ‘بمعنی ’پانی‘ کو ایک گرو کہا گیا، حالانکہ پنگل کے حساب سے وہاں تو جَلَ ہے، یعنی یہ دو لگھو ہیں،ایک گرو نہیں۔ آج کی جو ہندی ہے اس میں آپ ’جَلَ‘ لکھ کر ’ جَل‘ پڑھ رہے ہیں اور اگر اسے بمعنی’ جلنا ‘لیجیے تو وہ تو اور بھی مشکل ہے کیوں کہ پنگل کے مطابق وہ تو جَلَنا ہے۔ اس طرح سے بہت سی چیزوں کو جدید ہندی میں ایسے ٹھونسا گیا کہ ان چیزوں کی شکل ہی بدل گئی اور جدید ہندی مزید تمسخر آمیز ہوگئی۔ انگریزوں نے تو بہت سوچ کر یہ زور لگایا کہ جیسے بھی ہو جدید ہندی کو اس لائق بناؤ کہ اس میں ترقی یافتہ زبانوں کی طرح شاعری اور نثر ہوسکے اور اردو سے نہ صرف اس کو الگ کردو بلکہ زبان کے نام پر ہندو اور مسلمانوں میں مزید طبقاتی تقسیم کو راہ دو۔
ایجوکیشن کمیشن میں بھارتیندو نے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ اس  مسلمانوں کی زبان میں چکر یہ ہے کہ اردو والے لکھتے بیس ہیں اور پڑھتے تیس ہیں ۔ یہ لوگ جب قرض دیتے ہیں تو بیس لکھتے ہیں اور بعد میں اس کو تیس پڑھ لیتے ہیں کیوں کہ یہ لوگ اس رسمِ خط میں نقطے تو لگاتے نہیں ہیں۔ یہ رسمِ خط بہت ہی خراب ہے،اس لیے اس کو بدلیے۔ ہم تو وہی لکھیں گے جو ہم بولتے ہیںیعنی ناگری لپی ہی مناسب ہے۔ اس پر سر سید کا غالباً کوئی بیان نہیں ہے۔ بھارتیندو کے غیر ملکی رسمِ خط والے بیان کی تو سر سید نے ضرور مخالفت کی لیکن ایجوکیشن کمیشن کے سامنے ان کے بیان پر سرسیّد خاموش رہے۔ بعد میں جدید ہندی کی جو ضروری اور مضبوط مخالفت ہونی چاہیے تھی وہ بھی سرسیّد نے نہیں کی ۔ سرسید کا لسانیات اور زبان کے محرکات سے کوئی سرو کار نہیں تھا لیکن ان کے پاس جو لوگ تھے مثلاً حالی، محمود شیرانی، محمد حسین آزاد، شبلی اور مولوی چراغ علی وغیرہ، وہ لوگ اس کام کو بہ خوبی کرسکتے تھے مگر ایسا نہیں ہوا جس سے شک ہوتا ہے کہ جن انگریزوں کے کہنے پر ہندو قوم پرست جدید ہندی کی تشکیل اور اردو کو مسلمانوں کی زبان بناکر اس کی مخالفت کررہے تھے، ان ہی انگریزوں کے سرسیّد چوں کہ سب سے بڑے حامی تھے، اس لیے، خاموش رہے۔ حافظ محمود شیرانی نے یہ سوال 1932 میں اُٹھایا کہ اس زبان کا نام اردو کیسے پڑ گیا جس کے معنی لشکر یا فوج کے ہوں، جب کہ لفظ ’اردو‘ بطورِ اسمِ لسان کا ر واج تو بہت بعد میں ہوا، اور یہ زبان صدیوں پرانی ہے۔ شیرانی صاحب نے سوال اٹھا کر چھوڑ دیا۔اب ہم لوگوں کا فرض تھا کہ اس کا جواب تلاش کرتے۔
ہم بولتے ہیں یعنی ناگری لپی ہی مناسب ہے۔ اس پر سر سید کا غالباً کوئی بیان نہیں ہے۔ بھارتیندو کے غیر ملکی رسمِ خط والے بیان کی تو سر سید نے ضرور مخالفت کی لیکن ایجوکیشن کمیشن کے سامنے ان کے بیان پر سرسیّد خاموش رہے۔ بعد میں جدید ہندی کی جو ضروری اور مضبوط مخالفت ہونی چاہیے تھی وہ بھی سرسیّد نے نہیں کی ۔ سرسید کا لسانیات اور زبان کے محرکات سے کوئی سرو کار نہیں تھا لیکن ان کے پاس جو لوگ تھے مثلاً حالی، محمود شیرانی، محمد حسین آزاد، شبلی اور مولوی چراغ علی وغیرہ، وہ لوگ اس کام کو بہ خوبی کرسکتے تھے مگر ایسا نہیں ہوا جس سے شک ہوتا ہے کہ جن انگریزوں کے کہنے پر ہندو قوم پرست جدید ہندی کی تشکیل اور اردو کو مسلمانوں کی زبان بناکر اس کی مخالفت کررہے تھے، ان ہی انگریزوں کے سرسیّد چوں کہ سب سے بڑے حامی تھے، اس لیے، خاموش رہے۔ حافظ محمود شیرانی نے یہ سوال 1932 میں اُٹھایا کہ اس زبان کا نام اردو کیسے پڑ گیا جس کے معنی لشکر یا فوج کے ہوں، جب کہ لفظ ’اردو‘ بطورِ اسمِ لسان کا ر واج تو بہت بعد میں ہوا، اور یہ زبان صدیوں پرانی ہے۔ شیرانی صاحب نے سوال اٹھا کر چھوڑ دیا۔اب ہم لوگوں کا فرض تھا کہ اس کا جواب تلاش کرتے۔
بشکریہ:سہ ماہی اردو ادب جولائی سے ستمبر ۲۰۱۸

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: