جان محمد خان ، سفرآسان نہیں ‘‘:ساقی فاروقی کی یاد میں:  ناصر عباس نیرّ 

’’جان محمد خان ، سفرآسان نہیں ‘‘:ساقی فاروقی کی یاد میں
ناصر عباس نیرّ

جنوری کا مہینہ ،اردو ادب کے لیے انتہائی سنگ دل ثابت ہوا ہے۔ایک نہیں،تین چراغ آگے پیچھے بجھے ۔تاریکی ہے کہ بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ پہلے کراچی سے خبر آئی کہ اردو غزل کے ممتاز شاعر رسا چغتائی رخصت ہوئے۔ابھی ہم ان کے سوگ کی کیفیت میں تھے کہ معلوم ہوا، لاہور میں مقیم معروف کالم نگار، شاعر، ڈرامانویس منو بھائی نے اپنی آخری سانسیں لیں۔انیس جنوری کی شام،جب منوبھائی کو سپرد خاک کر کے احباب ابھی گھروں کو لوٹے ہی تھے کہ لندن سے اطلاع موصول ہوئی کہ ساقی فاروقی بھی گزر گئے۔ رسا اور ساقی ،اردو کے اہم شعر اتھے ۔دونوں نے آزادی کے بعد کراچی کو اپنا ٹھکانہ بنایا تھا۔رسا کا قناعت پسنددل کراچی میں لگ گیا ،مگر ساقی کا نہیں ۔دونوں کی عمروں میں بھی زیادہ فرق نہیں تھا ۔تاہم رسا جس قدر مرنجان مرنج قسم کے آدمی تھے ، ساقی اسی قدر تند مزاج تھے ۔ساقی فاروقی کو متنازع ہونے میں، جو دراصل دوسروں کی توقعات اور اناؤں…. دونوں کو شکست دینے کا دوسرا نام تھا، کبھی قباحت محسوس نہیں ہوئی۔لیکن کچھ چیزوں کو شاید شکست نہیں دی جاسکتی: بڑھاپا،بڑھاپے کے عوارض،جو عناصر میں اعتدال نہیں رہنے دیتے اور اپنی شریک حیات کی موت کی پیدا کردہ دہری تنہائی، اور ڈپریشن ۔ ساقی ان سے شکست کھاگئے۔بلاشبہ یہ شکست سب فانی انسانوں کی تقدیر میں لکھ دی گئی ہے،مگر سب لوگ ایک ہی طرح سے اس شکست کا سامنا نہیں کرتے! وہ بوڑھے ادیب ، جن کی صحت اور لکھنے کی امنگ برقرار رہتی ہے، خوش نصیب ہوتے ہیں۔ وہ اپنی تنہائی و خاموشی میں اس کائنات کے اہم ترین رازوں سے آگاہ ہونے کے قابل ہوتے ہیں۔ایک بوڑھا ادیب، عظیم دانش کی تخلیق کا سب سے زیادہ اہل ہوتا ہے۔ ساقی کا بڑھاپا خاصی تکلیف میں گزرا؛جسمانی اور نفسیاتی دونوں طرح کی تکالیف میں۔آصف فرخی کی اطلاع کے مطابق انھوں نے آخری ایام اولڈ ہوم میں گزارے،اور بہ قول رضا عابدی کچھ عرصہ پہلے انھوں نے خود کشی کی کوشش کی ،ناکام ہوئے ۔ایک بوڑھے اور کہن سال تخلیق کار کی خود کشی ، نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ کے آگے انسانی تخیل کی بے بسی کی خوف ناک مثال ہے! خواہ وہ ارنسٹ ہمنگوے ہو، ورجینا وولف ہو یا مصطفیٰ زیدی یا ساقی فاروقی !
ساقی فاروقی،جن کا اصل نام قاضی محمد شمشاد نبی فاروقی تھا، ۲۱؍دسمبر ۱۹۳۶ء کو گورکھ پور میں پیداہوئے۔ یوپی کا وہی گورکھ پور جہاں فراق نے جنم لیا ،اور مجنوں گورکھ پوری نے۔ ساقی نے جدید شاعری پر اپنی تحریروں میں یگانہ کے ساتھ جس شاعر کا ذکر پرجوش اسلوب میں کیا، وہ فراق گورکھ پوری ہیں۔ کہیں کہیں تو محسوس ہوتاہے کہ ان کے لیے گورکھ پور کا مطلب فراق ہی تھا۔یوں انھوں نے جس جدید شاعری کے لیے اپنی زندگی وقف کی،اس کا گہرا نفسیاتی تعلق اپنی اس مٹی سے جوڑا،جہاں سے ان کا خمیر اٹھا تھا ، مگر جس سے دائمی فراق کا فیصلہ انیسویں صدی کی آزادی کی تحریک نے ان کے لیے کیا۔ایک دل چسپ اتفاق اور بھی ہے۔ ساقی کی پیدا ئش کا سال یعنی۱۹۳۶ء ہی ترقی پسند تحریک کے باقاعدہ آغاز کا سال ہے،جب لکھنؤ میں پریم چند کی صدارت میں اس کا پہلا جلسہ منعقد ہوا۔ ساقی اس اتفاق کا ذکر اپنی تحریروں میں کرتے رہے ،مگر باانداز نقد۔
ساقی ابھی گیارہ سال کے تھے کہ تقسیم ہند ہوئی۔ ان کے والدین نے مشرقی پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔ اپنی مٹی سے جدا ہونے کا فیصلہ،انسانی زندگی کے مشکل ترین فیصلوں میں سے ایک ہے۔اس فیصلے تک آناً فاناً پہنچنے ، اور مستقبل کے حقیقی اندیشوں کے سلسلے میں بے نیاز ہونے میں اگر کوئی شے مدد کرسکتی ہے تو وہ کوئی عظیم آدرش ہوتا ہے۔ ایک نئے ملک کا قیام ،جس میں جنوبی ایشیا کے مسلمان اپنے مذہب کے اصولوں کے مطابق ،ایک خوشحال زندگی بسر کرسکیں گے، ایک عظیم آدرش تھا، جس نے لوگوں کو ہجرت کا مشکل فیصلہ کرنے میں مدد دی۔ ہم قیا س کرسکتے ہیں کہ ساقی فاروقی سے ان کے والدین نے کوئی مشورہ نہیں کیا ہوگا،جب ۱۹۴۸ء میں انھوں نے گورکھ پور چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ خیر، سات سال بعد ان کے والدین کو لگا کہ مشرقی پاکستان کے بجائے، مغربی پاکستان اور اس نئے ملک کادارلحکومت کراچی ان کے لیے موزوں ہے۔ معلوم نہیں ، ان کے والدین نے کراچی آکر کیا محسوس کیا، مگر ساقی کے لیے یہ شہر واقعی نعمت ثابت ہوا۔ یہیں انھوں نے اردو سائنس کالج میں سائنس کے مضامین میں انٹر کیا۔ کراچی یونیوسٹی سے بی اے کیا۔ ایم اے انگریزی میں داخلہ لیا، مگر مکمل نہ کر سکے۔ ۱۹۵۲ء سے۱۹۶۳ء تک وہ کراچی میں رہے؛یہ ان کی زندگی کا اہم ترین دور ثابت ہوا۔یہیں وہ خود کو دریافت کرنے کے اوّلین تجربات سے گزرے۔ انھوں نے بیان کیا ہے کہ وہ ا س زمانے میں کس والہانہ پن سے منٹو اور فیض کی تحریروں کا انتظار کیا کرتے تھے۔ ان کی جیب خالی ہوتی، مگر امروز میں فیض کی نظم یا کسی ادبی رسالے میں منٹو کا افسانہ پڑھنے کے لیے وہ بک سٹال کے چکر لگاتے ،اور کھڑے کھڑے یہ تحریریں پڑھتے اور اپنے جاننے والوں سے اپنے تجربے کو بانٹنے کے لیے سخت اضطراب محسوس کرتے۔ اس تجربے کے ذریعے، جس میں اپنی مالی حالت کے سخت مخدوش ہونے کا قلق بھی تھا اور معاصر ادب سے لطف کشید کرنے اور اسے دوستوں سے بانٹنے کا والہانہ پن بھی تھا، ساقی نے خود کو دریافت کرنا شروع کیا۔ یہیں کراچی میں انھوں نے غیرروایتی عاشقانہ تجربات بھی کیے جن کا ذکر لذت لذت لے لے کر اپنی’’ پاپ بیتی ‘‘میں کیاہے۔ یہیں سلیم احمد، شمیم احمد ، اطہر نفیس جیسے دوست بھی بنائے؛نیز مشفق خواجہ اورقمر جمیل سے بھی ان کے مراسم رہے۔ ۱۹۶۳ء میں ساقی نے کراچی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔اس کا فوری محرک اپنی مخدوش مالی حالت کو مستحکم کرنا تھا،اورپاکستان کی شروع کی دہائیوں میں ،جب اس ملک میں ایک طرف منٹو کے لفظوں میں ’شہید سازی‘ کی صنعت عروج پر تھی ،یعنی لوگوں کی جان کی قیمت پر لوگ مال بنا رہے تھے ،کرپشن کا بازار گرم تھا،دوسری طرف روزگار کے مواقع کم تھے، کئی تعلیم یافتہ نوجوان قسمت آزمائی کے لیے انگلستان اور دوسرے ملکوں کا رخ کررہے تھے۔بایں ہمہ لندن کا انتخاب ،کہیں نہ کہیں کولونیل عہد کی اس متھ سے متاثر تھا ،جس کے مطابق انگلستان آزادی، جمہوریت، جدیدیت، ترقی ،خوشحالی ،صفائی ،آئین ونظم و انصاف کی پابندی سے عبارت ملک ہے۔ انگلستان کی یہ متھ اپنے اندر،برصغیر سے متعلق قطعی برعکس تصورات رکھتی تھی؛یہ کہ یہ خطہ مصنوعی اخلاقیات، بادشاہت، قدامت،توہم پرستی، پس ماندگی،آئین شکنی وغیرہ جیسی خصوصیات رکھتا ہے ۔ایک بات تو بالکل واضح ہے ، جوپاکستانی نوجوان پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں ترک وطن کر کے مغربی ملکوں میں گئے ، ان کے یہاں اس آدرش کے ٹوٹنے کا احساس موجود تھا ، جس نے ان کے بڑوں کو اپنی مٹی چھوڑنے کی تحریک دی تھی۔
Nailing Dark Stormساقی فاروقی نے وہاں انگریزی میں لکھنا شروع کیااور

کے نام سے انگریزی نظموں کا مجموعہ شایع کیا۔اس کے پس منظر میں کہیں یہ خیال موجود رہا ہوگا کہ ایک سابق نو آبادیاتی ملک کا باشندہ اپنی ذات کی ترجمانی ،سابق نو آبادکار کی زبان ہی میں کرسکتا ہے،اور اس کے ذریعے اس کی ثقافتی و ادبی دنیا میں شریک ہوسکتا ہے ۔ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ انگریزی میں لکھنے کا ایک دوسرا مطلب بھی ہے: یعنی اسے ایک عالمی زبان سمجھ کر قارئین کے وسیع حلقے تک اپنی آواز پہنچانا۔لیکن اپنی پہلی زبان چھوڑ کر کسی بھی عالمی زبان کو تخلیقی زبان بناناسیاسی مضمرات کا حامل فیصلہ ہوتا ہے۔لگتا ہے ساقی کو جلد ہی معلوم ہوگیا کہ ’دوسرے ‘ کی زبان کو لاکھ کریں ، اپنی مستند ذات کا اظہار صرف
A Listening Game زبان میں ممکن ہے۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے مزید انگریزی میں شاعری نہیں کی،اگر کی تو وہ کتابی صورت میں سامنے نہیں؛البتہ اپنی نظموں کے انگریز ی تراجم کیے اور کروائے(جو
کے عنوان سے شایع ہوئیں)؛یہ بالکل صحیح فیصلہ تھا۔نیز انھوں نے ایک سے زیا د ہ بار صاف لفظوں میں لکھا:’’کسی ادیب یا شاعر کا دائرہ یا رسوخ اس کی زبان کے دائرہ تاثر ورسوخ سے باہر نہیں ہوتا‘‘۔یہاں ہمیں کچھ عالمی ادیب یاد آسکتے ہیں،جیسے ہومر،کالی داس،دانتے،گوئٹے، ملٹن، شیکسپیئر، رومی، ،غالب،اقبال۔ان کا دائرہ تاثر بالترتیب یونانی، سنسکرت،اطالوی، انگریزی، فارسی ،اردو سے باہر محسوس ہوتا ہے، مگر ان سب کے بنیادی اثر کی جڑیں ان کی اپنی زبان میں ہیں ،اور وہی اثر دوسری زبانوں میں گیا ہے۔ اسی ضمن میں ساقی نے ایک اور بات بھی لکھی ہے :’’ جب تک اپنی مٹی میں اپنے قدم مضبوطی سے جمے ہوئے نہ ہوں یا ادیب ان تجربات سے نہ گزرے جس سے وہ خطہ زمین گزرا ….تو وہ بڑا ادب پیدا کرنے کا اہل نہیں‘‘۔ایک سطح پر ساقی کی دونوں باتیں قاری کے ذہن میں الجھن پیدا کرتی ہیں کہ جو شخص اپنی مٹی کو چھوڑ کر دوسرے ملک کا شہری بن جائے ،وہ ادب میں اپنی مٹی اور اپنے وطن کے اجتماعی تجربات کا ذکر کس منھ سے کرتا ہے۔ لیکن یہ الجھن ا س وقت رفع ہوجاتی ہے ،جب ہم ذرا گہرائی میں ان باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بیسویں صدی کے ادب کے چند شاہکار ان ادیبوں نے تخلیق کیے، جو جلاوطن تھے۔ان میں ایشیائی، افریقی اور لاطینی امریکی ادیب شامل ہیں۔اصل یہ ہے کہ ایک جلاوطن یا مہاجر ہی اپنی مٹی کو حقیقت میں دریافت کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اپنے وطن میں رہتے ہوئے ،وطن کی یاد آتی ہے،نہ اس بات کا تجربہ ہوتا ہے کہ وطن سے محبت کیا ہوتی ہے۔اپنے وطن میں رہنا ایک طرح سے وصل کے تجربے کی مانند ہے ،جس میں مرگ آرزو واقع ہوتی ہے،جب کہ وطن سے دوری فراق کی طرح ہے جو محبوب یعنی وطن کی طرف پلٹنے نیزاسے اپنے تخیل میں زندہ رکھنے کی آرزو کو باقی رکھتی ہے۔ بایں ہمہ وطن کو وطن سے دور رہ کر یاد کرنا اور اس دوری میں وطن کودریافت کرنا، جذبات کی سطح پر خاصا تکلیف دہ عمل ہے۔یہ تکلیف ساقی کی شاعری میں بھی سرایت کرگئی ہے۔ اپنی نظم ’قیدی‘ میں لکھتے ہیں:
یہ بیلے کے ننھے پودے
کلیوں سے بھرے پھولوں سے لدے
یہ قید ہیں اب تلک مٹی میں
میں مٹی سے آزاد ہوا
اور آزادی پر روتا ہوں
’آزادی پر رونے‘ کا مطلب دہر اہے ۔ایک یہ کہ مٹی سے آزادی ،مٹی سے دوری ہے۔دوری رلاتی ہے۔دو یہ کہ جسے مٹی سے آزادی سمجھا جاتا ہے ،وہ اصل میں قید ہے۔آدمی حسی طور پر مٹی سے الگ ہوسکتا ہے، مگر جذبات اور تخیل کی سطح پرنہیں۔یوں مٹی سے دوری ،آدمی کو تقسیم کرتی ہے۔وہ جس شے کو حسی طور پر محسوس نہیں کرپاتا، اسے تخیلی سطح پرشدت سے محسوس کرتا ہے،یعنی اس کی قید میں رہتا ہے۔یہ تقسیم ،ساقی کی نظموں میں کئی طرح سے ظاہر ہوئی ہے۔ایک طرف زمین سے بچھڑنے کا کرب ان کی متعدد نظموں میں ظاہر ہواہے۔ ’کالا پانی ‘ ( نظم کا عنوان بھی معنی خیز ہے) میں کہتے ہیں:
بچھڑ گیا ہوں زمیں سے مجھے بچھڑنا تھا
اور آج اپنے سفر کا عذاب کاٹتا ہوں
دوسری طرف انھوں نے ہمزاد یا اپنے دوسرے ’مَیں ‘کا تخیلی کردار تراشا ہے ۔ ان کی نظموں میں مٹی سے جدائی پر آنسو شروع کی نظموں میں زیادہ نظر آتے ہیں، مگر بعد میں یوں لگتا ہے جیسے وہ آنسو باہر کی بجائے اندر گررہے ہوں ،یعنی اب راست مٹی کا ذکر کم نظر آتا ہے ، مگر ہمزاد اور نئے نئے کردار تراشنے کی صورت میں وہ اسی تقسیم اور دوئی کو باقی رکھتے ہیں ،جو مٹی سے جدائی کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ جان محمد خان، شیخ زمن شادانی ،حاجی بھائی پانی والا…یہ سب کردار شاعر کے ہم زاد محسوس ہوتے ہیں؛یعنی کسی نہ کسی وجودی کرب میں مبتلا ہیں۔ ان کی نظم ’گھر ‘ میں ایک مَیں دوسرے مَیں سے مخاطب ہے کہ گھر کی طرف دوراستے جاتے ہیں۔ ایک راستے سے گھر جانے کے لیے تین برس جب کہ دوسرے راستے سے جانے کے لیے سات برس چاہییں۔سات برس والا راستہ آسان مگر تین برس والا راستہ مشکل اور آزمایشوں سے بھر اہے۔ نظم کا متکلم جلد گھر پہنچنے کے لیے مشکل راستے کے انتخاب سے نہیں ہچکچاتا۔
جس پر سات برس لگتے ہیں ،وہ رستہ ہموار بھی ہے
اس رستے کے دونوں جانب شہر بھی ہے بازار بھی ہے
تین برس والے رستے کے بیچ میں جنگل پڑتا ہے
جنگل جس میں برس برس تک
سونے والے کالے اژدر
اپنے مقناطیسی زہر سے اپنی جانب کھنچتے ہیں
جنگل جس کے مہلک پتے
پیروں کے چھالوں سے لپٹ کر
سارا لہو پی جاتے ہیں
تو مالک ہے
جس رستے سے جانا چاہے جا سکتا ہے

میں نے اپنے دوسرے ’’میں‘‘ کی بات سنی اور خوب ہنسا
میں خوب ہنسا اور تین برس والے رستے پر چلنے لگا
ساقی کس گھر کی طرف جانے کے لیے زہریلے جنگل کو پار کرنے پر آمادہ تھے ؟ اس کا جواب آسان نہیں۔ گورکھ پور، بنگلہ دیش یا کراچی ؟ ہمیں صرف ایک بات معلوم ہے کہ لندن اس مفہوم میں ان کا گھر نہیں بن سکا، جس مفہوم میں’ گھر‘ ان کی نظموں میں ظاہر ہوا ہے۔
لندن میں وہ اپنے گھر اور مٹی کو یاد کرتے ہیں ،تاہم لندن نے انھیں بہت کچھ دیا۔ مالی حالت کو بہتر کرنے کے علاوہ ساقی کو لندن میں ایک ایسی زندگی بسر کرنے کا موقع بھی ملا ،جس میں’آزادی ‘ تھی۔انھوں نے اپنے ہر طرح کے خیالات و آر ا، خواہ ان کا تعلق جنس سے ہو، ادب سے ہو یا مذہب و اخلاق سے ،یا ادبی تعلقات سے ہو، کسی رورعایت کے بغیر کیا،اور بعض اوقات اخلاقی بندشوں کو بے باکانہ توڑتے ہوئے کیا۔ اس نے انھیں اردو دنیا میں خاصا متنازع بنایا۔بعض اوقات تو یہ محسوس ہوا کہ انھوں نے اپنی نظموں سے زیادہ ،تنازعات کی مدد سے اردو کی ادبی دنیا میں زیر بحث آنے کی باقاعدہ شعوری کوشش کی۔ بہر کیف اسے ساقی کی خوش قسمتی کہنا چاہیے کہ لندن میں انھیں اپنے عہد کے بہترین اذہان سے طویل اور مستقل ملاقاتوں کا موقع ملا۔ فیض، ن م راشد، عبد اللہ حسین ، مشتاق احمد یوسفی ،افتخار عارف اور زہر ہ نگاہ سے۔ ان کے علاوہ لند ن جانے والے اکثر ادبا سے۔
ساقی فاروقی نے تنقید کی دو کتابیں بازگشت و بازیافت اور ہدایت نامہ شاعر(جس میں پہلی کتاب کے مضامین کو بھی شامل کردیا گیا ہے) ؛لکھیں، جب کے ان کے شعری مجموعوں میں پیاس کا صحرا، رادار، بہرام کی واپسی، حاجی بھائی پانی والا(جس میں پہلے تین مجموعے شامل ہوئے)، نئی غزلیں ،نئی نظمیں، رازوں سے بھرا بستہ اور سرخ گلاب اور بدرمنیر (کلیات، ۲۰۰۵ء) شامل ہیں۔ پاپ بیتی کے نام سے انھوں نے اپنی آپ بیتی لکھی جسے ہنگامہ خیز بنانے میں انھوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی ۔راشد کی مانند انھوں نے ایک ناول لکھنا شروع کیا ،مگر ادھورا چھوڑ دیا۔

ساقی فاروقی کی شاعری جس شعریات سے طلوع ہوتی ہے ،اسے وہ خود اور نقاد جدیدیت کا نام دیتے ہیں۔ وہ اپنے پیش رووں کی مانند جدیدیت کو ترقی پسندی کے مقابل واضح کرتے ہیں۔ دونوں تحریکوں کو ایک دوسرے کا حریف سمجھنے سے جو انتہا پسندی پیدا ہوتی ہے ،وہ ساقی کے یہاں بھی نظر آتی ہے۔وہ جدیدیت کی تائید میں پرجوش ہوں نہ ہوں، ترقی پسندی کی تردید کا کوئی موقع نہیں جانے دیتے۔ ہدایت نامہ شاعرمیں وہ فخریہ لکھتے ہیں کہ ۱۹۵۷ء میں وہ ترقی پسندی کے اثرات سے آزاد ہوگئے۔یہاں ان کا اشارہ اس اثر کی طرف ہے جو فیض کی شاعری نے ان پر ڈالا۔کسی دوسرے شاعر کے اثر سے آزادی ،ایک نئے شاعر کے لیے جس قدر لازم ہے، اسی قدر ضروری اس آزادی کو نفسیاتی برتری کے احساس سے بچاناہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ساقی فاروقی کے یہاں ترقی پسندی کے اثرات سے آزادی ،ان کی انا کے تفاخر کے اظہار کا ذریعہ بن گئی ہے۔ویسے بھی اپنے زمانے کی اتنی بڑی تحریک کے اثر سے آزادی ،ان کے لیے کوئی معمولی بات نہیں تھی ۔یوں بھی وہ دوستوں ،شاعری اور نظریات کے انتخاب میں اشرافیائی مزاج کے حامل تھے۔ہر ایک کو پڑھنا اور اس پر رائے دینا انھیں گوارا نہیں تھا۔جن کو پڑھتے تھے ،ان کے بارے میں سخت احتیاط اوربے لاگ لکھنے میں لذت محسوس کرتے تھے،جس میں انا کی تسکین کا سامان بھی ہوتا تھا۔اور ان کی انا بھی ایک شاعر کی انا سے بڑھ کر تھی(اس ضمن میں وہ جوش اور یگانہ کے قریب محسوس ہوتے ہیں؛لیکن یگانہ کو بھی ایک مضمون نما خط میں مسٹر چنگیزی کے نام سے یاد کرتے ہیں)۔ وہ ابتدا میں فیض کی شاعری کے جس قدر قتیل تھے،بعد میں اسی قدر ان کے نقاد تھے۔ فیض کے یہاں ترقی پسند نظریے کی تکرار اور نئے استعاروں سے عدم دل چسپی انھیں کافی کھلتی تھی ۔ ترقی پسندی کو پسند کرنے کی حد فیض پر آکر ختم ہوجاتی تھی۔فیض کو پسند بھی وہ اس حد تک کرتے تھے جہاں تک ان کی شاعری ’جدید‘ تھی۔اگر یہ دیکھنا ہو کہ ترقی پسند نظریے کو شاعری بنانے کے سلسلے میں ان کی برداشت کی حد کیا تھی تو علی سردار جعفری اور مجاز کے بارے میں ان کی آرا دیکھ لی جائیں۔مخدوم سے البتہ کچھ رعایت برتتے تھے۔
شاعری اور زندگی میں کلیشے کی جیسی مخالفت ساقی نے کی ہے، شاید ہی کسی نے کی ہو۔ان کے لیے کلیشے سے لگاؤ ایسے ہی تھا جیسے کوئی جبلت مرگ (Thanatos) کے زیر اثر ہو؛ خود کو، اپنی زندگی کو اور اپنی تخلیقی صلاحیت کو اپنے ہاتھوں تباہ کرنا اور ملال بھی محسوس نہ کرنا۔کلیشے کی مخالفت میں وہ مصلحت ، رواداری،نرمی یہاں تک کہ احتیاط اور تعلقات کوبھی بالاے طاق رکھ دیا کرتے تھے۔اگرچہ کلیشے کے خلاف اتنا شدید رویہ خود کلیشے میں بدلنے کا مکان رکھتا ہے، تاہم وہ نئے پن، اختراع پسندی،ہر لمحہ نئے طور نئی برق تجلی اور تازگی کی جستجو میں وہ ہر خطرہ مول لینے کو تیار رہتے تھے؛یعنی نئے لفظ گھڑنے یا ان میں تصرف کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے؛نئی تشبیہوں، نئے استعاروں ، نئے انوکھے امیجزاور نجی علامتوں کی مسلسل تلاش سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔اسی طرح انھوں نے ان موضوعات پر بھی نظمیں لکھیں ،جو دوسروں کے لیے ٹیبو تھے۔ اس کی مثال میں ان کی نظمیں ’ایک سورسے‘ ،’شیر امداد علی کا میڈک‘، خالی بورے میں زخمی بلا‘ ’مکڑا‘ ،’خرگوش‘،’مستانہ ہجڑا‘،’ شاہ صاحب اینڈ سنز،’شہناز اختر دختر شہباز حسین‘‘پیش کی جاسکتی ہیں۔ ان نظموں میں کلیشے سے حقارت کے اظہار کے ساتھ ساتھ ،انسانوں کے علاوہ مخلوقات سے ہم دلی کا اظہار بھی ملتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ساقی کے یہاں کلیشے سے نفرت اور دوسری مخلوق سے محبت کی ایک ساتھ موجودگی ،ان کے شعری تخیل کے لیے ایک بڑا چیلنج تھی،اور وہ ہر جگہ اس سے کامیابی کے ساتھ عہد ہ برا نہیں ہوسکے۔ مثلاً ’ایک سور سے ‘ میں وہ یہ باور کرانے میں تو کامیاب ہیں کہ یہ کائنات صرف انسانوں کے لیے نہیں بنی؛نیز مخلوقات سے ہماری نفرت فطری نہیں ہے ،بلکہ ہمیں سماجی و ثقافتی طور پر سکھائی گئی ہے ،جو ہماری انا میں سرایت کر گئی ہے۔ لیکن جس انس کا اظہار اس نظم میں سور سے کیا گیا ہے ،وہ فطری محسوس نہیں ہوتا۔ البتہ باقی نظموں میں ہم دلی کا جذبہ فطری محسوس ہوتا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ان نظموں میں علامت کا عمل دخل ہے،جس سے ان میں ہم دلی کے علاوہ معنیاتی گہرائی پیدا ہوئی ہے۔مثلاً شیر امداد علی جس مینڈک کو نگلتے ہیں،مگر اگل نہیں سکتے، وہ جدید عہد کی گروٹیسک صورت حال کی علامت ہے؛نظم میں ایک طرف شیر امداد علی کی بے بسی اور دوسری طرف اس کے شکم میں موجود مینڈک کی بے چارگی ،ایک دوسرے کے متوازی آکر عجب کیفیت کو جنم دیتی ہیں ۔نیز وہ پانی زندگی کی علامت ہے جس میں شیر امداد علی داخل ہوتے ہیں اور اس کی مخلوق مینڈک کو نگلتے ہیں۔یہی صورت ’خالی بورے میں زخمی بلا ‘کی ہے۔یہ جدید اردو نظم کی چند بہترین نظموں میں شمار کیے جانے کے قابل ہے۔اس نظم میں ساقی کا فن نظم گوئی اس کمال کو پہنچتا محسوس ہوتا ہے ،جس کی گنجائش جدید نظم کی شعریات میں ہوسکتی ہے۔یہ دیکھنا ہو کہ ایک نظم کم سے کم لفظوں میں کیوں کر زیادہ سے زیادہ کہہ سکتی ہے ،یا کیسے ایک ایک لفظ کئی کئی معانی ،کچھ کہے زیادہ ان کہے، کا حامل ہوسکتاہے،یا کس طوربرتا جانے والا ہر لفظ نظم کے لیے ناگزیر بن جاتا ہے ،اور اسے نظم میں استعمال کی گئی جگہ سے ہٹایا نہیں جاسکتا، تو یہ نظم دیکھنی چاہیے۔ نیز یہ نظم بتاتی ہے کہ کس طرح ایک معمولی واقعہ ، زندگی کی بنیادی سچائی کی علامت بن سکتا ہے۔ یہ نظم بلوں کو بورے میں ڈال کر گھروں سے کہیں دور چھوڑ آنے کے قدیمی طریقے کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔شاعر کا کما ل یہ ہے کہ اس نے پٹ سن سے بنے بورے میں قید زخمی بلے کو نظم کا متکلم بنایا ہے ،جسے جان محمد خان نے اپنی ننگی پیٹھ پر لاد ا ہوا ہے ۔یعنی جسے خاموش ہونا چاہیے تھا ، وہی بول رہا ہے،چوں کہ وہ اس وقت بول رہا ہے ،جب ’پٹ سن کے ریشے مضبوط سلاخوں کی طرح اس کے دل میں گڑے ہیں،اور آنکھوں میں آنسواور پورے جسم میں تاریکی یعنی موت پھیلتی جاتی ہے، اس لیے وہ زندگی وموت کی بنیادی حقیقت کا اظہار کررہا ہے۔یہ کہ : جان محمد خان، سفر آسان نہیں۔ جان محمد خان اور زخمی بلے دونوں کا سفر آسان نہیں۔اس سطح پر آدمی اور بلا،ایک ہی کرب میں مبتلا ہیں، لیکن اگلی سطح پرآدمی کا کرب کہیں زیادہ ہے ۔ بلے کا سفرتو جلدختم ہوجائے گا ، لیکن جان محمد خان کا سفر جاری رہے گا۔زخمی بلا ،اپنے’’ قاتل ،اپنے دلدار‘‘ سے کہتا ہے:
تھوڑی دیر میں یہ پگڈندی
ٹوٹ کے اک گندے تالاب میں گر جائے گی
میں اپنے تابوت کی تنہائی سے لپٹ کر
سوجاؤں گا
پانی پانی ہوجاؤں گا
اور تمھیں آگے جانا ہے…..
……..اک گہری نیند میں چلتے جانا ہے
اور تمھیں اس نظر نہ آنے والے بورے ….
…..اپنے خالی بورے کی پہچان نہیں
جان محمد خان
سفر آسان نہیں

یہ نظر نہ آنے والا بورا ہی آدمی کے سفر کو مشکل بناتاہے۔خالی بورا، دائمی قید کی علامت ہے۔ جسم ،حواس،مٹی ، یہاں تک کہ ذہن ،تصورات ،معلوم اور نامعلوم میں کیے جانے والے سارے سفر ’قید کے سفر‘ ہیں۔کوئی سفر آسان نہیں۔چوں کہ خالی بورے کی ہم سب جان محمد خانوں کو پہچان نہیں، اس لیے وہ ہرجگہ اور ہر وقت ہے!
اسی مقام پران کی ایک اور نظم کاذکر بھی مناسب ہے ،جس میں روزمرہ کی سادہ ،غیر علامتی زبان میں جینے کے سفر کی ایک اور مشکل کو پیش کیا گیا ہے۔یہ نظم اس عمومی خیال کی تردید کرتی ہے کہ پوری جدید شاعری علامتوں سے بھری ہے۔ سیدھی سادہ زبان میں بھی جدید عہد کی بیگانگی ،بے معنویت، دوئی ، ٹوٹ پھوٹ کو پیش کیا جاسکتا ہے۔
جس رات نہیں آتا ہوں میں ،میرے گھر میں ہوتا ہے کوئی
اس بستر پر سوتا ہے کوئی
اس کمرے کی دہلیز پر اپنا سر رکھ کر روتا ہے کوئی
یہ چھپ چھپ کر رونے والااپنی ہی طرح محروم نہ ہو
مغموم نہ ہو ،مظلوم نہ ہو
ممکن ہے اسے بھی چھپ چھپ کر رونے کا سبب معلوم نہ ہو
برسبیل تذکرہ عباس تابش کا یہ شعر اس نظم کے تھیم سے ملتا جلتا ہے۔
گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں
تخیل اور تعقل ، جذبے اور خیال میں ہم آہنگی آسان نہیں۔اسی طرح اپنی نفسی زندگی ہی کو اپنی سماجی زندگی بنانا اور اپنے تخلیقی عمل کو اپنی تنقید سے آمیز کرنا دشوار کام ہے۔ ساقی فاروقی اپنی نفسی و لاشعوری زندگی کواپنی سماجی زندگی میں رونما ہونے کی اجازت وآزادی دے دیتے تھے، مگر اپنے تخیل وتعقل میں ہم آہنگی کی شاید ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے۔وہ شاعری اور زندگی میں کلیشے کی جس قدر مخالفت کرتے تھے، شاعری کی تنقید میں اسی قدر روایتی طریقے سے کام لیتے تھے۔وہ شاعر کے طور پر کاملاً و اصلاً جدید تھے، مگر نقاد کی حیثیت میں روایت پسند تھے۔ انھوں نے فیض، مجاز، مخدوم ، قاسمی ،وزیر آغا،فراز ،زہرہ نگاہ، اطہر نفیس جتنے شعرا پر لکھا ہے، یا خود اپنے دفاع میں جو خطوط ومضامین لکھے ،ان میں لفظی وعروضی بحثیں زیادہ چھیڑی ہیں اور شعری تجربے کی نوعیت اور تہوں پر کم لکھا ہے۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کلیشے کی مخالفت کرنے والا،لفظوں کے غیر روایتی،غیر لغوی استعمال پر باقاعدہ طیش میں آتا محسوس ہوتا ہے؛حالاں کہ خود اپنی شاعری میں نئے لفظوں سے لے کر نئی بحریں تک ایجاد کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ ان کی شعری تنقید کا طریق کار شمس الرحمٰن فاروقی کی مانند ’ہیئتی ‘ ہے،جس میں لفظ کی رعایتوں اور مناسبتوں کی تلاش کی جاتی ہے اور ان کی مدد سے متن میں معنی سازی کی صورتوں کو دیکھاجاتا ہے۔ایک اور بات بھی ہے :اپنے پیش رووں یا معاصرین پر ان کی تنقید نفسیاتی اسباب سے خالی نہیں۔
ہر اہم شاعر کی طرح ساقی فاروقی نے پہلے اپنے پیش رووں کا تعین کیا،پھر ان سے انحراف کے نتیجے میں اپنی انفرادیت قائم کر نے کا چارہ کیا۔وہ اس بات کے قائل محسوس ہوتے ہیں کہ شاعر کی انفرادیت ایک مطلق تصور نہیں ہے؛ایک شاعرکی انفرادیت ،دوسرے شاعر کی انفرادیت کے مقابل اور فرق سے ہے،اور یہ فرق شاعر کو خود قائم کرنا ہوتا ہے۔اور یہ اسی وقت ممکن ہے ،جب وہ سب معلوم ہو،جس سے دوسرے اور پیش رو شاعروں کی انفرادیت تشکیل پاتی ہے۔چناں چہ وہ پیش رووں کے گہرے مگر تنقیدی مطالعے پر اصرار کرتے تھے ۔تاہم وہ ہر اس شاعر کو اپنا پیش رو خیال نہیں کرتے جو ان سے پہلے گزراہے۔اس سلسلے میں وہ اپنی پسند اور اپنے معیار کو راہنما بناتے تھے،اور یہیں ایک بڑی گڑ بڑ ہوئی ۔انھوں نے اپنے فوری پیش رو جدید شاعروں کی ایک’ مقدس تثلیث ‘بنائی : راشد، فیض اور میراجی۔جدید انگریزی شاعری کے تین اماموں:ایذرا پونڈ، ایلیٹ اور ییٹس کو سامنے رکھتے ہوئے۔ وہ مجید امجد اوراختر الایمان کا ذکر نہیں کرتے۔ اختر شیرانی اور اقبال کو وہ راشد و میرا جی کے پیش رو قرار دے کر ،ان کے ذکر سے دامن بچالیتے ہیں۔یہ تثلیث قائم کرکے انھوں نے اپنے لیے ایک آسانی مگر کئی مشکلیں کھڑی کر لیں۔آسانی اس بات کے سمجھنے میں تھی کہ جو ان کے پیش رو ،جس انداز میں کہہ چکے ہیں، وہ انھیں نہیں کہنا ہے؛مگر مشکل یہ تھی کہ انھوں نے اپنے تخیل کو اس تثلیث میں مقید کردیا۔دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا شاعر نہ تو اپنے زمانے کی روح کی تمام تر وسعت کو پیش کرسکاہے ،نہ انسانی ہستی کی سب گہرائیوں کو گرفت میں لے سکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بڑے شاعر نہ تو خود کو اپنے زمانے تک محدود رکھتے ہیں، نہ چند اپنے پیش روروں تک۔وہ سب زمانوں کو اپنے معاصر سمجھتے ہیں۔اصل یہ ہے کہ پیش رووں سے خود کو الگ کرنا ، ان کے راستوں سے ہٹ کر چلنا،اور ہر لمحہ ایک اپنے راستے ، اپنے مخصوص موضوع، خاص اسلوب اور ایک اپنی زبان کی شدید آرزو…جدیدیت کا منشور رہا ہے،اور بعض صورتوں میں عارضہ ثابت ہوا ہے۔
ساقی فاروقی کواپنے پیش رووں کی مقدس تثلیث کی ایک خوبی انھیں پسند تھی تو چند باتیں ناپسند تھیں۔ فیض کی غنائیت انھیں اچھی لگتی تھی،مگراستعاروں اور موضوعات کی تکرار ناگوار گزرتی تھی ۔ میرا جی کے یہاں حقیقی جذبے کا اظہار پسند تھا توان کے تجربے کی محدودیت سے چڑ محسو س ہوتی تھی ۔ وہ میرا جی کو اس بنیاد پر پہلے جدید شاعر قرار دیتے ہیں کہ ان کے یہاں اس طرح کا اظہار ملتا ہے:’ ہاتھ آلودہ ہے، نمدار ہے، دھندلی ہے نظر؍ہاتھ سے آنکھوں کے آنسو تو نہیں پونچھے تھے ؛ا س میں وہ میرا جی کے حقیقی احساسات دیکھتے ہیں،جنھیں اس سے مناسبت رکھنے والی ،مگر اورجنل زبان میں پیش کیا گیا ہے،جس کی جدید نظم میں پہلے کوئی مثال نہیں تھی۔راشد کی جنسیت بھی انھیں پسند تھی ۔دوسری طرف وہ میراجی کی ہندوستانیت اور راشد کی عجمیت دونوں سے بے زار تھے۔ ان کا خیا ل تھا کہ یہ دونوں اسالیب اردو کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔اردو کا مزاج کیا ہے ؟ اس کی وضاحت وہ کم ہی کرتے ہیں۔صرف یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ فارسی، عربی ،سنسکرت یا دوسری زبانوں کے الفاظ کے غلبے کو اردو کے مزاج کے خلاف گردانتے تھے۔ساقی کا یہ نقطہ ء نظر درست تھا۔لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔انھوں نے اس ساری صورت حال کو تاریخی کے بجائے ’ذاتی شاعرانہ نظر ‘ سے دیکھا،یعنی شاعری میں خود اپنی راہ بنانے ،پیش رووں کی راستوں کا تنقیدی شعور حاصل کرکے ،ان سے انحراف کرنا ضروری سمجھا۔تاریخی طور پر اردو شاعری میں جدیدیت چوں کہ نوآبادیاتی عہد میں پیدا ہوئی ،ا س لیے اس میں قوم پرستی بھی شامل ہوئی۔ سب جدید شاعروں کے یہاں موضوع ،اسلوب یا لفظیات کی سطح پر قوم پرستی کے سلسلے میں ایک یا دوسری طرح کا مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ میراجی کی ہندوستانیت ہو ،یا راشد کی عجمیت یا اقبال کی حجازیت یا پھر مجید امجد کی ہڑپائیت ہو،ان چاروں کے ڈانڈے بالآخر قوم پرستی کے کسی نہ کسی مؤقف سے جا ملتے ہیں۔انیسویں صدی کے بعد سے زبان نہ صر ف قوم کی تشکیل کا ذریعہ بنی ہے بلکہ ذیلی قومی شناختوں کا بھی! بہر کیف ساقی فاروقی نے اپنی نظم کا مخصوص ڈھنگ ترتیب دیتے ہوئے ،اپنے تین مذکورہ پیش رووں کو سامنے رکھا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ جدید اردو شاعری کے چوتھے امام بن سکے ؟ اس سوال کا ہاں میں جواب مشکل ہے۔
وہ میراجی اور فیض کے مقابلے میں راشد کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔راشد کی شاعری کا کینوس انھیں زیادہ وسیع نظر آتا ہے راشد پر ایک نظم بھی لکھی ہے ،جس میں راشد کی یا د کو ’’نور کی پھوار‘‘ سے تشبیہ دی گئی ہے۔لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ ان کی اپنی نظمیں راشد سے زیادہ میراجی اور مجید امجد کی نظم کے زیادہ قریب ہیں۔راشد کے یہاں شخصی و جنسی و لاشعوری دنیا سے لاشخصی و وجودی و وراے شعوری دنیا کی طرف سفر ملتا ہے۔آخر آخر میں راشد کے یہاں ایک خاص طرح کی مابعد اطبیعیات وجود آتی محسوس ہوتی ہے ،جو بنیادی انسانی سوالات کو مرکز توجہ بنانے کا نتیجہ ہے۔ساقی فاروقی کے یہاں بھی بلاشبہ سفر کا استعارہ ملتا ہے ،اور یہاں ان کی نظم ایک حد تک راشد کے قریب محسو س ہوتی ہے ۔ ’جا ن محمد خان ،سفر آسان نہیں‘ اس کی اہم مثال ہے ۔اسی طرح ان کی غزل کا یہ شعرسفر کی آرزو کا اظہار ہے۔
سفر میں رکھ مجھے جدائیوں سے پرکھ
فراق سے ابھی خاک وصال میں نہ ملا
یاپھر ان کی نظم ’ہم زاد‘ جس میں وہ شیخ زمن شادانی کا کردار تراشتے ہیں جس کی معیت میں وہ گزرے زمانوں میں سفر کرنے کا خواب دیکھنے کی آرزو کرتے ہیں۔
اس سبزے کے پیچھے کیا ہے
آج عقب میں
چھپے ہوئے گرداب دیکھتے ہیں
شیخ زمن شادانی
آؤ
خواب دیکھتے ہیں
مجموعی طور پر ساقی کے یہاں سفر کے احوال سے زیادہ سفر کی آرزو یا سفر کے پرخطر ہونے کا احساس ملتا ہے۔ صاف لفظوں میں جس طرح راشد کے یہاں حسی دنیا سے وارے شعور دنیا کی طرف سفر ملتا ہے ، اور اس سفر کی کیفیات ملتی ہیں، ساقی کے یہاں نہیں۔اسی طرح جہاں تک جذبات ولاشعور ی کیفیات کے اظہار کا تعلق ہے وہاں وہ میراجی کے قریب ہیں؛یعنی وہ میراجی ہی کی مانند حسی تمثالوں سے اسی طرح کام لیتے ہیں۔راشد کے یہاں ذہنی تمثالیں زیادہ ہیں۔ جب کہ حیوانی دنیا سے متعلق ان کی نظموں میں جس ہم دلی کا اظہار ملتا ہے ،وہی اظہار مجید امجد کے یہاں درختوں ،پرندوں اور جانوروں کے سلسلے میں ملتا ہے۔ البتہ ساقی نے ان نظموں کو جدید انسان کی پیچیدہ صورت حال کی علامت بنایا ہے ،مگر مجید امجد کے یہاں خود نباتاتی وحیوانی دنیا کی صورتِ حال سے ،ایک اخلاقی احساس کے تحت ہم دلی محسوس کرنے کا رویہ ملتاہے۔ اپنے پیش رو شعرا سے ان یا کچھ دیگر مماثلتوں کے باوجود ،ساقی کی نظمیں ایک الگ پہچان بھی رکھتی ہیں۔ساقی کی کرداری نظمیں ،کسی اور نظم گو کی یاد نہیں دلاتیں۔اسی طرح ان کی نظموں میں جو طنزیہ عناصر ہیں، وہ بھی ان کی نظم کو مخصوص شناخت دیتے ہیں۔وہ اپنے عہد کی زندگی کا تصور ہی طنزیہ اندازمیں کرتے تھے ۔ اپنی کلیات سرخ گلاب اور بد رمنیر کا انتساب انھوں نے کتے، بلے اور کچھوے کے نام کیا ہے ،اور انھیں بالترتیب کامریڈ، رام راج اور ٹم ٹام کا نام دیا ہے ،نیز انھیں اپنے ہم عصر کہا ہے۔ ’ایک کتا نظم ‘، ’الکبڑے‘ ، ’بہرام کی واپسی‘،’بندہ مومن کا ہاتھ‘ اور ’قرطبہ کا محاصرہ‘ اس ضمن میں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

؂ آخر میں چند باتیں ان کی غزل کے بارے میں۔ جدید نظم بڑی حد تک غزل مخالف رہی ہے۔عظمت اللہ خاں،جوش، راشد اور کلیم الدین احمدغزل کی نارسائیوں کے ناقد رہے ہیں۔البتہ میرا جی اور مجید امجد نے نظم کے ساتھ غزل بھی لکھی ،اگرچہ کم لکھی۔یہ درست ہے کہ ساٹھ کی دہائی کے بعد نظم کو غزل کے مقابل رکھ کر سمجھنے کا رویہ قدرے ماند پڑگیا،مگر نو آبادیاتی عہد سے دونوں میں پیدا ہونے والی مخاصمت ختم نہیں ہوسکی۔وجہ یہ کہ اس مخاصمت کی بنیاد ایک طرف ثقافتی ہے تو دوسری طرف شعریاتی۔یعنی اگر غزل کا تعلق جنوبی ایشیائی ثقافت کے کلاسیکی عہد سے ہے تو نظم کا تعلق جدید مغرب سے ہے؛اسی طرح غزل کی شعریات میں اجتماعی ،عمومی مضمون کو ایک مشترکہ شعری فرہنگ کے ذریعے پیش کرنے کا میلان ہے تو نظم میں شخصی تجربے کو ایک نئی ،اختراعی زبان میں ظاہر کرنے پر اصرار ہے۔لہٰذا دونوں میں قائم کیا جانے والا فرق نہ صرف برقرار رہتا ہے،بلکہ وہ شاعروں کے تخلیقی عمل پر اثرا نداز بھی ہوتا ہے، کسی کے یہاں کم ،کسی کے یہاں زیادہ۔ہمارے زمانے میں ستیہ پال آنند غزل کی جن فنی نارسائیوں اور کلیشے پسندی کے خلاف آواز اٹھاتے رہتے ہیں،اس کی بنیاد بھی غزل و نظم کے مذکورہ فرق پر ہے ۔ہر چند ساقی فاروقی کے یہاں غزل سے گہری وابستگی شروع ہی سے نظر آتی ہے؛وہ اپنے ایک مضمون میں تو لکھتے ہیں کہ ’’غزل ….عید ،شلوار ،چغتائی اور لسی کی طرح ہماری اپنی ہے‘‘،اوراس طور وہ غزل کی ثقافتی ملکیت قبول کرتے ہیں،اور اسے جدید عہد کے پیچیدہ تجربات کے اظہار کا وسیلہ بناتے ہیں…مگر ان کے یہاں غزل و نظم کا فرق موجود رہتا ہے۔انھوں نے ’غزل پر نظم ‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھی ہے۔اس کا آغاز ہی ان سطروں سے کرتے ہیں:تیرامیرا؍نفرت اور محبت والا؍ رشتہ ہے۔یہ عین وہی دوجذبی (Ambivalent)رویہ ہے جس سے ہمارے تخلیق کار اور دانش ور نو آبادیاتی عہد میں متعارف ہوئے، اور جس کا نشانہ خود اپنی ثقافت اور یورپی ثقافت اور ان کے مظاہر بہ یک وقت تھے۔اس دو جذبیت یا غزل سے نفرت و محبت کے سبب ، وہ ایک طرف مسلسل اپنی نظم کو غزل کے اثر سے بچانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں اور دوسری طرف یہ تسلیم کرتے نظر آتے ہیں کہ ’ غزل کے لہجے ‘ کی مدد سے ان کی نظم میں ظاہر ہونے والا درد شائستہ صورت اختیار کرتا ہے۔
لہٰذ ہم یہ رائے قائم کرسکتے ہیں کہ وہ غزل میں اس انفرادیت کا نقش قائم نہیں کرسکے ، جس کی مظہر ان کی نظم ہے۔تاہم وہ کچھ ایسے عمدہ اشعار تخلیق کرنے میں کامیاب ہوئے، جن میں ایک طرف محبت کے نئے،غیر افلاطونی تصورات ہیں تو دوسری طرف بڑے سوالات کے ضمن میں انسان کی الجھنیں،تشکیک پسندی اورجدید انسان کی نفسی و سماجی زندگی کے پیراڈاکس ہیں،اور جنھیں تازہ اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔
اب گھر بھی نہیں گھر کی تمنا بھی نہیں ہے
مدت ہوئی سوچاتھا کہ گھر جائیں گے اک دن
ناموں کا اک ہجوم سہی میرے آس پاس
دل سن کے ایک نام دھڑکتا ضرور ہے
راستہ دے کہ محبت میں بدن شامل ہے
میں فقط روح نہیں ہوں ،مجھے ہلکا نہ سمجھ
روح میں رینگتی رہتی ہے گنہ کی خواہش
اس امر بیل کو اک دن کوئی دیوار ملے
ایک دوزخ تھا مرے سینے میں
جس سے چہرامرا منور تھا
وہ خدا ہے تو مری روح میں اقرار کرے
کیوں پریشاں کرے دورکا بسنے والا
رات اسکول سے نکلی ہوئی دوشیزہ ہے
جس کے ہاتھوں میں ستاروں بھر ابستہ ہے
مری نگاہ میں سو طرح کی شبیہیں تھیں
خدا کا چہرہ دھوئیں میں نظر نہ آتاتھا
مجھ میں سات سمندر شور مچاتے ہیں
ایک خیال نے دہشت پھیلا رکھی ہے
آج خواہش ہے کہ یہ شہر جلا کر دیکھوں
آگ آواز ہے شعلہ ہے ترانا میرا
یہ کہہ کے ہمیں چھوڑ گئی روشنی اک رات
تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے
وقت کا فیصلہ جب آئے گا تب آئے گا
لوگ کچھ اور ہی کہتے ہیں عدالت کچھ اور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: