محمد عمر میمن، منٹو اور ہمارا مکالمہ ۔ محمد حمید شاہد

محمد عمر میمن، منٹو اور ہمارا مکالمہ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد حمید شاہد 

محمد عمر میمن کی رحلت کی خبر میرے لیے بہت دکھ دینے والی ہے ۔ جن دنوں وہ ماریو برگس یوسا کی کتاب کا ترجمہ کر رہے تھے اور ہمارے درمیان ای میلز کا تبادلہ ہونے لگا تھا تو ہم ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے تھے ۔ بعد میں کئی بار ایسا ہوا کہ میں اپنے کاموں میں اُلجھ کر ان سے رابطہ نہ کرپایا اور رابطہ ٹوٹے کچھ وقت ہو جاتا تو ان کی طر ف سے ای میل آجاتی ، یوں کہ نہ صرف سلسلہ پھر سے بحال ہو جاتا۔ اس میں گرمجوشی بھی آجاتی۔ ۲۶ جولائی۲۰۱۳ء والی ای میل میں اُنہوں نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے مجھ سے اپنی ناراضی کا کچھ یوں اظہار کیا تھا :
My dear Hameed Shahid,
Unless I write to you, you don’t. What kind of friendship is this. I’m thirsting for news, of you, of Farshi Sahib, of our friends. So how are you? Have you written something new?
Muhammad Umar Memon
محمد عمر میمن نے اِسی اِی میل میں شمس الرحمن فاروقی کے ناول کے انگریزی ترجمے ’’The Mirror of Beauty ‘‘ کاریویو اور منٹو پر’’The Missing Slate‘‘ میں چھپنے والے اپنے ایک تازہ مضمون ’’Recounting Irregular Verbs and Counting She-Goats ‘‘کے رابطے (Links)فراہم کیے تھے لہٰذا میں نے سوچا کہ میمن صاحب کو، ’’ نیوز‘‘ والی پیاس کے باب میں، اَشعر نجمی صاحب کی طرف سے فیس بک پر اَپ لوڈ کیاگیا ،منٹوپر شمس الرحمن فاروقی صاحب کی تحریر کا وہی ٹکڑابھیجا جا سکتا تھا، جو بعد میں منٹو پر کتاب کا حصہ بنا۔ یہاں میمن صاحب کے نام اپنے خط کو مقتبس کررہا ہوں اور پھر اس پر میمن صاحب کا ردعمل بھی پڑھنے کے لائق ہے ، وہ بھی آپ تک پہنچ جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔
پیارے میمن جی،
آداب
منٹو کے حوالے سے آپ کی تحریر کا لنک کھولا اور لطف لیا۔ جی ،آپ کی تحریر کا لُطف اور اِس تحریر کے ساتھ پیچھا ننگا کیے، منھ اُدھر کو کرکے پہلو کے بل لیٹی عورت کا بھی۔ خیر انٹرنیٹ پر اِس طرح کا اِہتمام تو ہوتا ہی ہے۔ ہاں آپ کی تحریر میں بہ طورخاص جب یہ مقام آیا تو میں نے خود کو آپ کے بہت قریب پایا۔ :
“No exceptional intelligence is required to detect that at the back of this almost pathological engagement with prostitutes, is Mantos defense of himself against frequent charges of obscenity.”
اچھا ،اَب تو منٹو کے بارے بہت کچھ لکھا جانے لگا ہے ۔ اَبھی اَبھی اِنٹرنیٹ پر شمس الرحمن فاروقی صاحب کی تازہ گفتگو کا ایک ٹکڑا دِیکھا ۔ اشعر نجمی صاحب نے یہ گفتگو’’ اثبات‘‘ کے نئے شمارے میں چھاپی ہے۔ یہ پرچہ ابھی تک مجھے نہیں ملا لہٰذا ساری گفتگو بھی پڑھ نہیں پایا ہوں تاہم جو طویل ٹکڑا فیس بک پر چڑھایا گیا ہے، وہ منٹو کے افسانے ’’کھول دو‘‘ کے حوالے سے ہے ۔ لیجیے آپ بھی پڑھ کر اس کا مزا لیں:
’’کھول دو‘‘ کا دارومدار صر ف ایک دو لفظی فقرے’’ کھول دو‘‘ پر ہے۔ ایک نوجوان لڑکی جو فسادات کے دوران ریلوے لائن کے پاس بے ہوش پڑی تھی ہسپتال لائی جاتی ہے۔ اس کا باپ اس کی تلاش میں سرگرداں تھا، اس نے سنا کہ ایک بے ہوش لڑکی اسپتال میں لائی گئی ہے۔ وہ دوڑتا ہوا اسپتال کے اس کے کمرے تک پہنچتا ہے جس میں:
کوئی بھی نہیں تھا، بس ایک اسٹریچر تھا، جس پر ایک لاش پڑی تھی۔
…ڈاکٹر نے ، جس نے کمرے میں روشنی کی تھی، اس سے پوچھا: ’’کیا ہے؟‘‘
اس کے حلق سے صرف اتنا نکل سکا، ’’جی میں…جی میں اس کا باپ ہوں۔‘‘
ڈاکٹر نے اسٹریچر پر پڑی ہوئی لاش کی طرف دیکھا، پھر لاش کی نبض ٹٹولی اور اس سے کہا،’’ کھڑکی کھول دو۔۔‘‘
مردہ جسم میں جنبش ہوئی۔
بے جان ہاتھوں نے ازاربند کھولا۔
اور شلوار نیچے سرکا دی۔
بوڑھا سراج الدین خوشی سے چلایا، ’’زندہ ہے…میری بیٹی زندہ…‘‘
ڈاکٹرسر سے پیر تک پسینے میں غرق ہوچکا تھا۔
افسانہ یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ ہے نہ نہایت’’دردناک ‘‘اور’’ غم انگیز ‘‘اور ’’دل دہلادینے والا‘‘ انجام؟ آخری جملے کی فضولیت اور لچر پن کو چھوڑدیں تو انجام اور بھی ’’دردناک‘‘ ہو جاتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ افسانہ نگار نے کچھ کہے بغیر ہی ہم پر سب کچھ ظاہر کردیا ہے۔ یہ حزم اور یہ ضبط فسادات تقسیم کے بارے میں افسانوں میں کم نظر آتا ہے اور منٹو اس کے لیے ہمارے شکریے کے حق دار ہیں۔ سراج الدین کی بیٹی اجتماعی زنا بالجبر کا شکار ہوئی ہے اور بار بار ہوئی ہے۔ اور ظلم اور تشدد کے ذریعہ اس کو جابر زنا کاروں کا اس قدر پابند بنا دیا گیا ہے کہ ان کے حکم کی فوراً اور بے سوچے سمجھے تعمیل کرنا اُس کی فطرت ثانیہ بن چکا ہے۔ جب ڈاکٹر کہتا ہے،’’ کھڑکی کھول دو‘‘ تو وہ ’’کھڑکی‘‘ کا لفظ سنتی ہی نہیں، اسے صرف’’ کھول دو‘‘ سنائی دِیتا ہے ۔
اب تم یہ غور کروکہ زنا بالجبر کرنے والے اُسے کیا حکم دیتے ہوں گے؟ یا کیا اُنھیں ضرورت بھی پڑتی ہوگی کہ اپنی شیطانی ہوس پوری کرنے کے لیے کوئی حکم بھی دیں؟ کیا یہ زیادہ’’ فطری ‘‘نہیں کہ وہ اُس کی شلوار کو کھنچ کر،ا ور شاید پھاڑ کر پھینک دیں، اوراَپنا مقصد پورا کرنے کے بعد اُسے حکم دِیں کہ اَب تو شلوار پہن سکتی ہے؟بل کہ اُسے کپڑے پہنے رہنے دینے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ کیا حالات کے زیادہ موافق یہ نہیں کہ لڑکی یوں ہی پڑی رہے اور زنا کار اُس پر جب چاہیں حملہ کرتے رہیں۔یا بہت سے بہت اِنسانیت دِکھائیں تو اُس پر کوئی چادر،یا اُس کی اوڑھنی کھینچ ڈال دِیں اورپھر جب چاہیں اُسے اُتار پھینکیں؟
یا،چلو مان لیتے ہیں کہ کسی خوف (یا کسی خیال)کی بنا پر اُس کے حملہ آور اُسے شلوار پہنے رہنے دیتے ہیں اور پھر جب چاہتے ہیں اُس کو حکم دیتے ہیں کہ’’ شلوار کھول دو‘‘۔
مگر ٹھہرو، یہ تو کچھ عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے۔جس قسم کے اِنسان وہ ہیں، کیا وہ اِس کی شلوار اُتروانے کے لیے گفتگو کے لہجے میںیوں کہیں گے کہ’’ شلوار کھول دو!؟‘‘زیادہ مناسب (اور اُردو روز مرہ کے عین مطابق)تو یہ ہوتا کہ وہ تحکمانہ لہجے میں لڑکی سے کہتے، ’’شلوار کھول!‘‘یا اُسے گالی دِے کر چیختے،’’ شلوار اُتار!‘‘ یا شاید اِس طرح کہتے،’’ کھول دِے شلوار!‘‘ یا پھر شاید اس طرح کہتے،’’ابے ننگی ہو جا!شلوار کھول!‘‘ پھر یہ’’ کھول دو‘‘ منٹو صاحب نے کہاں سے سوچ لیا؟ وہ ظالم جفا کار کیا کوئی مہذب لوگ تھے، اور کیا وہ موقع اِنتہائی شائستگی کا تھا کہ کہتے،’’ شلوار کھول دو‘‘۔ اس سے تو بہتر یہ تھا کہ منٹو صاحب بات چیت کے شائستہ لہجے میں اُن کی زبان سے کلام یوں ادا کراتے:’’براہ کرم شلوار کھول دیجیے۔ہم آپ کے ساتھ زنا بالجبر کریں گے، شکریہ۔‘‘ منٹو صاحب تو بڑے زبان شناس تھے۔ اُنھیں روزمرہ کا اِتنا بھی لحاظ نہ رہا کہ وہاں شیطان صفت دِرندوں کی زُبان سے صرف ’’کھول!‘‘کے بجاے کھول دو کہلاتے، اور وہ بھی ڈاکٹر کے لہجے اور ہلکی آواز میں؟ معاف کیجئے گا،منٹو صاحب کی زبان شناسی کے بارے میں میری رائے اتنی پست نہیں ہے۔‘‘
جہاں اِقتباس ختم ہوا وہاں اشعر نجمی صاحب نے قوسین میں لکھا(جاری ہے)۔۔۔ گویا اس باب میں فاروقی صاحب نے اور بھی بہت کچھ فرمایا ہوگا ۔ فاروقی صاحب گفتگو بہت دلچسپ بنا لیا کرتے ہیں ؛ یہاں بھی ایسا ہی ہواہے لیکن مجھے لگتا ہے گفتگو کے اس ٹکڑے میں منٹوکے افسانے ’’کھول دو‘‘ کے ساتھ اِنصاف نہیں ہوا ۔ مجھے حیرت ہے کہ اُن کا دھیان پنجاب کے روزمرہ کی طرف کیوں نہیں گیا جہاں اِس طرح کا تخاطب اِتنا شائستہ بھی نہیں رہتا(لہجہ دھیان میں رہے)، جتنا فاروقی صاحب نے ثابت کرنا چاہا ہے۔ اچھا، جو حکم ’’کھول‘‘ کے ساتھ دِیا جاسکتا تھا، اُس کے لیے منٹو نے ’’کھول دو‘‘کیوں لکھا، فاروقی صاحب کا یہ سوال( کہانی اُچٹتی نظر سے دیکھیں تو )بہ ظاہردرست لگتا ہے مگر ایسا ہے نہیں ۔ منٹو صاحب نے اِسے بڑے سلیقے سے برتا ہے۔ کیسے ؟یہ میں ذرا بعد میں بتاؤں گا۔ پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ منٹو بھی جانتے تھے کہ اس افسانے کی اختتامی سطور بہت اہم ہیں اور انہی سے افسانہ بنے گا۔ منٹو نے اس کے اختتام کی اہمیت کے بارے میں اپنے مضمون’’ زحمت مہر درخشاں‘‘ میں بتا رکھا ہے :
’’ قاسمی صاحب جب دوسرے روز شام کو تشریف لائے تو میں اپنے دوسرے افسانے’’ کھول دو‘‘ کی اختتامی سطور لکھ رہا تھا۔ میں نے قاسمی صاحب سے کہا۔آپ بیٹھیے میں افسانہ مکمل کرکے آپ کو دیتا ہوں۔ افسانے کی اِختتامی سطور چوں کہ بہت ہی اہم تھیں ، اِس لیے قاسمی صاحب کو کافی اِنتظار کرنا پڑا۔ ‘‘
صاحب ! پنجاب کا جو محاورہ ہے اُس سے منٹو کیسے نابلد ہو سکتے تھے ۔ اِسے پڑھ کراحمد ندیم قاسمی پر کیا اثر ہوا وہ بھی خود قاسمی صاحب سے سن لیجیے۔ فرماتے ہیں :
’’ میں افسانہ پڑھ کر سناٹے میں آگیا تھا ۔ اگرمنٹو کے بجائے کوئی اور میرے پاس ہوتا تو میں باآواز بلند رونے لگتا۔‘‘
جو جملہ منٹو نے لکھا اور پوری ذمہ داری سے لکھا اور اس احساس کے ساتھ لکھا کہ اسی سے افسانے نے بننا تھا ۔جی ،وہی جملہ جو قاسمی صاحب کو رُلا سکتا تھا کہ وہ پنجابی روزمرہ سے آگاہ تھے؛ وہ جملہ اور آخری جملہ فاروقی صاحب کے نزدیک اپنے اندر’’فضولیت‘‘،’’لچر پن‘‘ اور’’ شائستگی‘‘ کو لے آتا ہے ؟ تو مجھے حیرت ہوتی ہے ۔ اچھا،یہاں یہ لطیفہ گھڑا جا سکتا ہے کہ وہ جنہوں نے اِس افسانے کو چھاپنے پر’’نقوش‘‘ کو سیفٹی ایکٹ کے تحت چھ ماہ کے لیے بند کر دیا تھا،’’کھول دو‘‘کی فاروقی صاحب کی دریافت کردہ’’ شائستگی‘‘ سے آگاہ ہوتے تو شاید’’نقوش‘‘ سیفٹی ایکٹ کی زد میں نہ آتا۔
اب رہا معاملہ’’ کھول ‘‘اور’’ کھول دو‘‘ والا ؛ تو یوں ہے کہ یہاں بھی میں منٹو صاحب کے ساتھ خود کو کھڑا پاتا ہوں۔ دیکھیے، افسانے کے متن نے پہلے سے بتا رکھا ہے کہ تقسیم کے زمانے میں، سترہ سالہ سکینہ کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والے آٹھ رضا کار تھے؛ سب نوجوان۔اُنہیں لڑکی کواُردو والے روز مرہ کے عین مطابق(تحکمانہ لہجے)میں کہنے کی ضرورت نہ تھی کہ شلوار کھول! ۔نہ اُسے گالی دے کر اُس پرچیخنے اور’’شلوار اتار!‘‘،’’کھول دے شلوار!‘‘یا پھر’’ابے ننگی ہو!‘‘،’’شلوار کھول! ‘‘وغیرہ وغیرہ( فاروقی صاحب کے ذہن میں آنے والا کوئی اُردو کامناسب جملہ )کہتے ۔ منٹو نے پنجابی والے روزمرہ کے قریب ’’ کھول دو‘‘ کو لیا تو اِس لیے کہ منٹو صاحب جانتے تھے، جس مزاج کو وہ لکھ رہے تھے اُس کے روزمرہ میں شلوار کھولی نہیں جاتی، اُتاری جاتی ہے۔ ہاں ناڑہ کھولا جاتا ہے۔ اچھا، میں نے کہا نا کہ افسانے نے اُن درندوں کی تعداد آٹھ بتائی تھی ۔ جس طرح کا نقشہ فاروقی صاحب نے کھینچا ہے اُس سے لگتا ہے ،وہ سب سکینہ کے سامنے قطار بنا کر کھڑے ہو گئے تھے؛ حکم دینے ’’کھول‘‘ یا درخواست کرنے کہ ’’براہ کرم شلوار کھول دیجیے۔ہم آپ کے ساتھ زنا بالجبر کریں گے، شکریہ۔‘‘ جب کہ واقعہ یہ ہے کہ منٹو نے’’ کھول دو‘‘ لکھ کر اِس کا اہتمام بھی کر دیا ہے کہ ہم اُن آٹھوں کو نظر میں رکھیں جن میں سے کوئی سکینہ کو گرفت میں لے سکتا تھا؛ اُس کے ہاتھ پاؤں قابو کرنے۔ اورجب اُن میں سے ایک اُس کا نالا (بل کہ ناڑا)جی وہی اُردو والا’’ ازاربند ‘‘گرفت میں لیتا تو دوسرا کہہ سکتا تھا :’’کھول دو‘‘ اور پہلے والاکھول دیتا ۔ پھر یہ ناڑا اتنی بار کھلتا کہ’’ کھول دو‘‘ پر نیم مردہ سکینہ کے اپنے ہاتھ خود بخود حرکت میں آ جاتے؛ وہی پہلے سے سکھلایا گیا عمل بالکل میکانکی انداز میں دہرانے کے لیے ۔ جب حواس کا ناس مار دیا گیا ہو تو سماعت اگلے پچھلے الفاظ نہیں سنا کرتی، ایسے میں اگر’’کھڑکی‘‘ کا ڈاکٹر کا کہا ہوا لفظ سکینہ کی سماعت سے ٹکرانے سے پہلے ہی کہیں گر جاتا ہے تو اِس لیے کہ اُس کے لیے’’ کھول دو‘‘ والا کاشن ہی کافی تھا جس سے اُس کی نفسیات جڑی ہوئی تھی ۔ ایک بار پھر حیران ہوں کہ فاروقی صاحب نے منٹو کے اِس قرینے کو کیوں نظر انداز کر دیا جس میں ایک جملے کے ذریعے ایک دہرائے جانے والے عمل کی مختلف صورتیں دِکھا دِی جاتی ہیں ۔
خیر ،یاد کیجیے کہ اِسی افسانے کے حوالے سے، ہماری مراسلت کے زمانے میں بھی بات ہو چکی ہے۔ جی چاہتا ہے اُسے بھی اِس سے جوڑ کر دِیکھ لیں تاکہ میرا نقطہ نظر مربوط ہو جائے اور اگر آپ کو کچھ کہنا ہو تو کہہ ڈالیں اور جہاں کہیں میں نے تفہیم یا تعبیر میں ٹھوکر کھائی، اُس کی نشان دِہی ہوسکے۔
محبت کے ساتھ
محمد حمید شاہد
۔۔۔۔۔۔۔۔
میمن صاحب نے اس ای میل کے جواب میں کیا لکھا، پورا خط دینا چاہتا تھا مگر دوچار سطریں بوجوہ نکال دینا پڑی ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں:
’’پیارے بھائی حمید شاہد
منٹو کے حوالے سے اس طویل خط کا لُطف آگیا۔ یوں لگا جیسے پہلے والا حمید شاہد سامنے آن کھڑا ہوا ہے۔ میں نے خط پڑھنا شروع ہی کیا تھا کہ مجھے یوسا کے ضمن میں تمہارا وہ خط یاد آگیا جس میں تم نے منٹو کے اسی افسانے پر بڑی مدلل، اثر انگیز اور دِل کو لگنے والی بحث کی ہے۔ شاید تمھیں یاد ہو کہ میں نے اَپنے پیش لفظ میں اُس کا ذِکر بھی کیا تھا۔
فاروقی صاحب کے کئی رخ ہیں۔ ایک بات جو اُنہوں نے یکسر نظر انداز کردی ہے وہ یہ ہے کہ ڈاکٹر کے فقرے کا مخاطب سکینہ نہیں بلکہ اُس کا باپ ہے۔ ظاہر ہے، وہ اُس سے کھڑکی کھولنے کے لیے ہی کہہ سکتا ہے۔ اگر مخاطب کو سامنے رکھا جائے تو فقرہ بالکل بامحاورہ ہے۔ پنجاب ہو یا یو۔ پی۔ بات اسی طرح کی جائے گی۔ جو لن ترانی کی گئی ہے وہ اس وجہ سے جائز نہیں کہ رضا کار کس طرح عمل اور کلام کرتے تھے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہمیں تو بس سکینہ کا ردِعمل دِکھایا گیا ہے۔ وہ خود موضوع بحث نہیں۔ سکینہ سکتے یا نیم سکتے کے جس عالم میں ہے اُس میں اسے صرف ایک ہی لفظ سنائی دے رہا ہے اور وہ ہے’’ کھول‘‘۔ اسے دہلی یا لکھنو کے محاورے سے کوئی غرض نہیں، اور وہ تو دھندلکے کی جس دہلیز پر کھڑی ہے وہاں صحت زبان کا گزر نہیں۔ ہم سب انتہائی استغراق کے عالم میں وہی سنتے اور دیکھتے ہیں جس میں ہمارے حواس گم ہوں۔ قواعد کی پابندی میں نہیں پڑتے۔
تو، بھائی، اس ناچیز کی تو یہ رائے ہے، باقی فاروقی صاحب جانیں۔ تم چاہو تو اس پر ایک مضمون لکھ سکتے ہو۔
چند دِن پہلے میری احمد مشتاق سے فون پر بات ہورہی تھی۔ اُن کا بھی یہی کہنا ہے کہ دوستی اپنی جگہ لیکن لکھنے کے معاملے میں بے خوفی اَز بس ضروری ہے۔
تمھیں تو اندازہ ہوگا کہ لوگ منھ پر میری تعریف کرنے سے نہیں چوکتے لیکن جہاں اُن کا بس چلتا ہے مجھے نظرانداز کرنے سے بھی نہیں رہتے۔ اس کی صرف ایک وجہ ہے۔ انہیں خوب معلوم ہے کہ میں جو سوچتا ہوں وہی کہتا ہوں، لیکن اگر میری رائے کسی امر میں لوگوں کے حسبِ حال نہ ہو تو ان کے بارے میں میرے جو جذبات ہیں وہ میری منفی رائے سے بالکل گھائل نہیں ہوتے۔ [۔۔۔۔۔۔۔۔۔] اب میں آپ سے تم پر آگیا ہوں۔ نوٹ کیا ہوگا۔ اور یہ بالکل بے ساختہ ہوا ہے۔ اب تو خوش ہو نا؟
تمہارا
محمد عمر میمن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: