بہادر شاہ ظفر کی غزلیں۔

نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا

غم عشق تو اپنا رفیق رہا کوئی اور بلا سے رہا نہ رہا

دیا اپنی خودی کو جو ہم نے اٹھا وہ جو پردہ سا بیچ میں تھا نہ رہا

رہے پردے میں اب نہ وہ پردہ نشیں کوئی دوسرا اس کے سوا نہ رہا

نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر

پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا

ترے رخ کے خیال میں کون سے دن اٹھے مجھ پہ نہ فتنۂ روز جزا

تری زلف کے دھیان میں کون سی شب مرے سر پہ ہجوم بلا نہ رہا

ہمیں ساغر بادہ کے دینے میں اب کرے دیر جو ساقی تو ہائے غضب

کہ یہ عہد نشاط یہ دور طرب نہ رہے گا جہاں میں سدا نہ رہا

کئی روز میں آج وہ مہر لقا ہوا میرے جو سامنے جلوہ نما

مجھے صبر و قرار ذرا نہ رہا اسے پاس حجاب و حیا نہ رہا

ترے خنجر و تیغ کی آب رواں ہوئی جب کہ سبیل ستم زدگاں

گئے کتنے ہی قافلے خشک زباں کوئی تشنۂ آب بقا نہ رہا

مجھے صاف بتائے نگار اگر تو یہ پوچھوں میں رو رو کے خون جگر

ملے پاؤں سے کس کے ہیں دیدۂ تر کف پا پہ جو رنگ حنا نہ رہا

اسے چاہا تھا میں نے کہ روک رکھوں مری جان بھی جائے تو جانے نہ دوں

کئے لاکھ فریب کروڑ فسوں نہ رہا نہ رہا نہ رہا نہ رہا

لگے یوں تو ہزاروں ہی تیر ستم کہ تڑپتے رہے پڑے خاک پہ ہم

ولے ناز و کرشمہ کی تیغ دو دم لگی ایسی کہ تسمہ لگا نہ رہا

ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا

جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا

(2)

ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا

تو بھی نہ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا

کیا ہوگا رفوگر سے رفو میرا گریبان

اے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا

دیں دے کے گیا کفر کے بھی کام سے عاشق

تسبیح کے ساتھ اس نے تو زنار بھی چھوڑا

گوشہ میں تری چشم سیہ مست کے دل نے

کی جب سے جگہ خانۂ خمار بھی چھوڑا

اس سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نے

مفلس کو جو مارا تو نہ زردار بھی چھوڑا

ٹیڑھے نہ ہو ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھا

تم پیار سے رکتے ہو تو لو پیار بھی چھوڑا

کیا چھوڑیں اسیران محبت کو وہ جس نے

صدقے میں نہ اک مرغ گرفتار بھی چھوڑا

پہنچی مری رسوائی کی کیونکر خبر اس کو

اس شوخ نے تو دیکھنا اخبار بھی چھوڑا

کرتا تھا جو یاں آنے کا جھوٹا کبھی اقرار

مدت سے ظفرؔ اس نے وہ اقرار بھی چھوڑا

(3)

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں

کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں

اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں

کانٹوں کو مت نکال چمن سے او باغباں

یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں

بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ

قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں

کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

(4)

جب کہ پہلو میں ہمارے بت خودکام نہ ہو

گریے سے شام و سحر کیوں کہ ہمیں کام نہ ہو

لے گیا دل کا جو آرام ہمارے یا رب

اس دل آرام کو مطلق کبھی آرام نہ ہو

جس کو سمجھے لب پاں خوردہ وہ مالیدہ مسی

مردماں دیکھیو پھولی وہ کہیں شام نہ ہو

آج تشریف گلستاں میں وہ مے کش لایا

کف نرگس پہ دھرا کیونکہ بھلا جام نہ ہو

کر مجھے قتل وہاں اب کہ نہ ہو کوئی جہاں

تا مری جاں تو کہیں خلق میں بدنام نہ ہو

دیکھ کر کھولیو تو کاکل پیچاں کی گرہ

کہ مرا طائر دل اس کے تہ دام نہ ہو

بن ترے اے بت خودکام یہ دل کو ہے خطر

تیرے عاشق کا تمام آہ کہیں کام نہ ہو

آج ہر ایک جو یارو نظر آتا ہے نڈھال

اپنی ابرو کی وہ کھینچے ہوئے صمصام نہ ہو

ہے مرے شوخ کی بالیدہ وہ کافر آنکھیں

جس کے ہم چشم ذرا نرگس بادام نہ ہو

صبح ہوتی ہی نہیں اور نہیں کٹتی رات

رخ پہ کھولے وہ کہیں زلف سیاہ فام نہ ہو

اے ظفرؔ چرخ پہ خورشید جو یوں کانپے ہے

جلوہ گر آج کہیں یار لب بام نہ ہو

(5)

ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے

پر جو سبب غم ہے وہ ہم کہہ نہیں سکتے

ہم دیکھتے ہیں تم میں خدا جانے بتو کیا

اس بھید کو اللہ کی قسم کہہ نہیں سکتے

رسوائے جہاں کرتا ہے رو رو کے ہمیں تو

ہم تجھے کچھ اے دیدۂ نم کہہ نہیں سکتے

کیا پوچھتا ہے ہم سے تو اے شوخ ستم گر

جو تو نے کئے ہم پہ ستم کہہ نہیں سکتے

ہے صبر جنہیں تلخ کلامی کو تمہاری

شربت ہی بتاتے ہیں سم کہہ نہیں سکتے

جب کہتے ہیں کچھ بات رکاوٹ کی ترے ہم

رک جاتا ہے یہ سینہ میں دم کہہ نہیں سکتے

اللہ رے ترا رعب کہ احوال دل اپنا

دے دیتے ہیں ہم کر کے رقم کہہ نہیں سکتے

طوبائے بہشتی ہے تمہارا قد رعنا

ہم کیونکر کہیں سرو ارم کہہ نہیں سکتے

جو ہم پہ شب ہجر میں اس ماہ لقا کے

گزرے ہیں ظفرؔ رنج و الم کہہ نہیں سکتے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: