رحمن عباس کا کالم “بات سے بات چلے”۔

 

بیگ احساس کی کتاب ’دَخمہ‘ اور ہماری زندگی
رحمن عباس
بیگ احساس دراصل ان افسانہ نگاروں میں نمایاں ہیں جنھوں نے جدیدیت کی تحریک اور جدیدیت کے دور میں متعارف کی گئی کہانی کی تعریف سے انکار کیاہے۔ یہ انکار چالیس سال پہلے ایک اہم ادبی اور فنی فیصلہ تھا کیونکہ تب بیشتر لکھنے والے جدیدیت کی مہیا کی گئی فریم میں افسانہ لکھنے کو ہی افسانہ تصور کرنے کی غلطی کر رہے تھے۔ بیانیہ کہانی ، کردار کی بھرپور عکاسی، اطراف کی سماجی و سیاسی زندگی کا عکس اور تاریخی اور ثقافتی شکست وریخت کہانی کا عیب قرار دیے گئے تھے۔کہانی صنائع بدائع کی نمائش ، علامتوں کے زوال پر مبنی سرکس اور معنی سے محروم پیچیدہ عبارتوں کا البم قرار دی گئی تھی۔ تجربہ، علامت یا پیچیدگی بھی فن ہے لیکن اظہار کی جڑیں ذات کی تہہ سے تعلق نہ رکھتی ہوں تو کمزوری کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس کمزوری کو چھپانے کے لیے فکشن کی جمالیات کو شاعری کے میزان پر تولنے کی کوشش کی گئی ۔ حالانکہ بعد میں یہ اعتراف بھی کیا گیا کہ بیدی، منٹو، پریم چند، کرشن چندر، عصمت اور عینی آپا کی روایت سے الگ افسانے لکھنے کی کوشش تھی۔ادب کوشش نہیں بلکہ ذات کے کنویں سے اٹھنے والی فطریں آوازیں ہیں۔ نیر مسعود کے یہاں یہ فطری پن دیکھا جا سکتا ہے۔ محض الگ لکھنے کے لیے الگ جملے گڑھنا ادبی سیاست کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
بیگ احساس روایت کے منکر نہیں ہیں بلکہ وہ روایتی اردو افسانے کی فریم میں اپنے طرزِ تحریر اور پیش کش کے حوالے اپنی شناخت بناتے ہیں۔ موضوعاتی سطح پر بیگ احساس کاکرافٹ بڑی حد تک ان کے ان معاصرین سے الگ ہے جنھوں نے بیانیہ کہانی کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ اس کرافٹ کی ایک بہت بڑی فنی خوبی یہ ہے کہ بیگ احساس پر شمالی ہند کی لسانیاتی ساخت اور تہذیبی سطح پر شمال کی زندگی کا کوئی اثر نہیں ہے۔ انھوں نے جنوبی ہند کی حسیت، لسانی امتیاز اور فکری انفرادیت کو شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنی کہانیوں کے بین السطور میں محفوظ کر لیا ہے ۔ ان کی کہانیوں کے ساختیاتی مطالعے اور تہذیبی پس منظر پر جب بھی بات ہوگی یہ عناصرکھل کر سامنے آئیں گے۔ ان کی کہانیوں کا محور حیدرآباد کا کلچر، تاریخ، معاشرت، مذہبی رواداری ۔۔۔اور کلچر ، تاریخ اور رواداری کے خلاف سیاست کی بساط پر پھیلائی ہوئی شطرنج کے انفرادی زندگی پر پڑنے والے اثرات ہیں۔ کس طرح ایک علاقہ اپنی شناخت سے سیاسی جبر کے تحت محروم کر دیا جاتا ہے۔ کس طرح ایک فرقے کے انحطاط کے لیے فسادات کا جال بچایا جاتا ہے ۔کس طرح لوگوں کی مابین تفرقہ پیدا کیا جاتاہے۔ دوسری طرف مذکورہ غیر جمہوری اور غیر انسانی سیاسی سازشوں کا انسانی رشتوں پر کیسا ہولناک اثر ہوتا ہے۔یہ مسئلہ محض افسانہ نگار کا مسئلہ نہیں بلکہ ہندستان کے ہر فرد کا مسئلہ ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو وجودی کرائسس اور المیاتی افکار کو جنم دیتے ہیں۔شناخت کے بحران کی جڑیں بھی اسی سیاسی مفاد پرستی میں پیوست ہیں جو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے افراد کو مذہب کے خانوں میں تقسیم کرتا ہے۔بیگ احساس نے ان موضوعات کا احاطہ تو کیا ہے لیکن وہ کہیں نہ جذباتی ہوئے ہیں اور نہ رومانی بلکہ کہانی کے فارم کو ایسے برتا ہے کہ موضوع کی عمومیت فن کاری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔وارث علوی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے انحطاط ، زوال اورکسمپری کی کہانی سناتے ہوئے بیگ احساس بھلے کلبیت اور قنوطیت کے شکار نہ ہوں لیکن ایک گہرا غم جو ہڈیوں کو تک پگھلاتا ہے ان کے قلم کی روشنائی سے ٹپکنے لگتا ہے۔
یہ جو گہرا غم ہے یہ بیگ احساس کی کہانیوں میں کہیں بہت زیریں سطح پر بہتا رہتا ہے۔ اس زخم کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں مثلاً معاشرتی اور معاشی سطح پر مسلمانوں کا انحطاط، تہذیبی زندگی کی پرشکوہ روایت کے خلاف سازشیں، فسطائی قوتوں کے جبر کے سائے میں انسانی رشتوں کے درمیان پیدا کی گئی خلیج لیکن دوسری طرف بیگ احساس نے بلاتکلف مسلم معاشرے کی دقیانوسیت، مذہبی سخت گیری، سطحیت، حرصِ دولت، دولت کی پیداکردہ مصنوعیت ، عا لمی اور ملکی سطح پر جاری شدت پسندی کے مدمقابل مسلم معاشرے میں پنپنے والی فرسودگی کا نوحہ بھی اپنی کہانیوں میں پیش کیا ہے۔ یہ ایک مکمل فضا ہے جس کا احساس ’دَخمہ‘، ’رنگ کا سایہ‘ ، ’نمی دانم کہ‘،’ شکستہ پر‘،’ دھار ‘ ،’کھائی‘، ’چکر ویو‘، ’سانسوں کے درمیان‘ اور نجات جیسے افسانوں میں ہوتا ہے۔ یہ افسانے اسلوبیاتی سطح پرکسی معجزاتی یا چونکانے والی فضا میں قاری کوگرفتار کرنے کی کوشش نہیں ہیں بلکہ اپنے فارم کی وجہ سے سامنے کی حقیقتوں میں پنہاں رمز کو فن کاری میں پیش کرتی ہیں۔ گوپی چند نارنگ نے بیگ احساس کی فن کاری کی اس خوبی کو محسوس کیا ہے اور لکھا ہے کہ بیگ کی کہانیوں میں موضوع کے ساتھ ان کے فنکارانہ برتاؤ سے قاری کا ذہن متاثر ہوتا ہے۔بلاشبہ ’دخمہ‘ مجموعے میں شامل تمام افسانوں کو ایک ساتھ پڑھنے کے بعد قاری جس بات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے وہ ہے افسانہ نگارکی فن کارانہ صلاحیت جس کے دم پر وہ تکنیک سے ماورا، کرتب بازی کا منکر ہو کر، سادہ بیانیہ اسلوب میں ہماری زندگی کی سنگلاخیوں، تبدیلیوں، تبدیلیوں کے محرکات، ہماری ثقافتی زندگی کی شکست اور تمدتی کسمپری کا نقشہ بھی کھینچ دیتا ہے اور ہمیں ان باتوں سے بھی آشنا کرتا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہونے کے باوجود ہماری نظروں سے اوجھل ہوا کرتی ہیں۔
بیگ احساس کا سماجی، ثقافتی اور معاشرتی شعور بہت گہرا ہے جو ان کی کہانیوں کو گہرائی عطا کرتا ہے۔یہ گہرائی اسی لیے قائم ہوئی کہ بیگ احساس غیر جذباتی اور غیر جانبدار ہو کر سماجی، ثقافتی اور معاشرتی مسائل نیز ان مسائل سے پیدا ہونے والی صورت حال کو بیان کرتے ہیں۔ گجرات مسلم مخالف قتل عام ہندستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے اور بہت فطری ہے کہ اگر کوئی سادہ لوح قلم کار اس موضوع پر لکھنا چاہے تو جذباتیت اور جانبداری کا شکار ہو جائے لیکن کس ہنر مندی سے بیگ احساس نے خود کو کہانی سے الگ کر کے تاریخ اور رزمیہ کا استعمال کرکے گجرات کے فسادات کی ہولناکی اوراس ہولناکی سے پیدا ہونے والی المیاتی صورت حال کو کہانی ’چکرویو‘ میں بیان کیا ہے، محسوس کرنے والی بات ہے۔اسی شاندار غیر جانبدارانہ اور غیرجذباتی انداز کی عمدہ مثال ان کی مشہور کہانی ’ دخمہ‘ ہے۔اس کہانی کا تعلق حیدر آباد کی سیاست ، تاریخ، سیاسی جبر، مسلمانوں کی نسل کشی، پولیس ایکشن کی ہیبت ناکی اور لسانی سیاست کے اُس تماشے سے ہے جس نے جدید ہندستان کی نیو تو رکھی لیکن جنوب میں مسلم تشخص کو پامال کرنے کی ابتدا بھی کی ۔کہانی میں دخمہ، میکدہ اور مسجد اہم علامتیں ہیں جو عقائد، وابستگی اور بدلتی اقدار کی پروردہ اور پیداکردہ دردناکی کو پیش کرتی ہیں۔ یہ محض علامتیں نہیں بلکہ ہما ری مشترکہ زندگیوں کی کلیدیں ہیں۔ یہ تہذیب کے تھیٹر بھی ہیں اور مستقبل سے منسلک ماضی کی نشانیاں بھی ہی۔دَخمہ ،شہر کی موت کے ساتھ تہذیب کی موت کی بازگشت بھی ہے اور یادوں کا ایک د فینہ بھی ہے۔ کہانی اپنے فارم اور کرافٹ میں موضوع کی طرح تاثیر پذیری کو جذب کیے ہوئے ہے اور اسی لیے جس گہرے حزنیہ کو کہانی بیان کرتی ہے اس کا اثر قاری پر براہِ راست مرتب ہوتا ہے ۔اس کہانی میں جزئیات اور موضوع کی پیش کش، ترتیب متعدد تعبیروں کے لیے گنجایش پیدا کرتی ہے۔ معاصرعالمی سیاست ، ملکی حالات ، مذہبی رسوم اور ماضی سے وابستگی جیسے اہم نکات پر اس کہانی کے پس منظر میں مکالمہ ممکن ہے۔
’رنگ کا سایہ‘ اور’ سنگ گراں‘ بیگ احساس کے دو قدرے مختلف افسانے ہیں۔دونوں افسانے مرد اور عورت کے رشتے کی نوعیت اور رشتے میں موجود امکانات کو گرفت میں لانے کی کوششیں ہیں ۔لیکن’ رنگ کا سایہ ‘ اردو میں محبت کی کہانیوں کی فہرست میں ایک اضافہ ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اردو میں محبت کے موضوع پر ایسے افسانے کم ہیں جو فن کاری کی تقاضے بھی پورے کرتے ہوں اور محبت کی پراسراریت، ایمائیت، بے ساختگی، جنون، جسم کی کشش اور اظہار سے لبریز بھی ہوں۔حیدرآباد میں مسلم معاشرت کے زوال کے پس منظر میں تعمیر اس کہانی میں جہاں تفاخر اور مقامی افراد اور مسلمانوں کے درمیان موجود تفاوت کو پیش کرتی ہے وہیں اُس سیاست کو بھی پیش کرتی ہے جو اب ہندستان میں عام ہوگئی ہے۔ یہ سیاست افراد اور مذاہب کے درمیان نفرت پھیلانے سے بھی عبارت ہے اور ایک مخصوص مذہبی شناخت کو نشانہ بنانے کا جواز بھی ہے۔سیاست اور سماجی حقیقت کی کوکھ سے کس طرح ایک معصوم محبت جنم لیتی ہے اور کس طرح سیاست اور لوگوں میں تفریق پیدا کرنے والے عناصر اس محبت کو کچلتے ہیں، بہت معمولی بات ہوتی لیکن افسانے کی بنت، کرافٹ اور ایک مستقل احساسِ گم شدگی اس کہانی کو معمولی عشق کی کہانی بننے سے بچاتا ہے ۔ دوسری طرف عشق کی جلوہ گری ، عشق کی چاہ اور عشق کی پیدا کردہ فسوں کاری کہانی میں ایک مخصوص احساس شامل کرتی ہے جو پڑھنے والے کے دل میں تحلیل ہوتا چلا جاتا ہے ۔اس کے برعکس’ سنگ گراں ‘ میں عورت کی باطنی کیفیات اور نسائی الجھنوں کو پیش کیا گیا ہے۔ عورت جنس اور بچے کی خواہش کے مدار میں کس طرح اپنے وجود کی صلیب اٹھائے چلتی ہے ، ہم محسوس کرتے ہیں۔بیگ احساس نے اس کہانی میں کئی  ایک ساتھ پیش کیے ہیں۔ مثلاً کس طرح مذہب فرد پر اپنی اخلاقیات مرتب کرتا ہے ؟ کس طرح معاشی صورت حال جذبات کو کچلتی ہے؟ کس طرح فطرت اپنے تحفظ کی کوشش اورعورت بچے کی تمنا کرتی ہے؟ کس طرح ایک شکستہ عورت زندگی کا استعارہ بننے کی طاقت رکھتی ہے۔

insecurities
ان دو افسانوں کی نہج پر ایک تکون بناتی ہوئی کہانی ہے ،’شکستہ پر‘۔ اس کہانی میں محبت کی ایک الگ تصویر پیش کی گئی ہے۔ اس تصویر میں عورت کی اہم ہیں ۔یہ انسکیورٹیز جوان ہوتی ہوئی بیٹی کے سبب ہیں جو اپنے سوتیلے باپ کی طرف التفات سے پیش آتی ہے۔ اس آدمی کے ساتھ اس کی ماں شادی سے پہلے ایک خاص تعلق رکھتی تھی اور طلاق کے بعد دونوں شادی کر لیتے ہیں۔ ’شکستہ پر‘ ایک اچھی نفسیاتی کہانی ہے اور بیگ احساس نے بڑی نفاست سے عورت کی نفسیاتی الجھنوں کو پیش کیا ہے۔ اس کہانی میں عائلی زندگی کی الجھنیں، والدین اور ڈھلتی عمر کے عورت پر ہونے والے اثرات کو بھی خوب صورتی سے برتا گیا ہے۔ مرزا حامد بیگ نے اس کہانی کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نفسی الجھاوؤں کو ضبطِ تحریر میں لاتے ، بیگ احساس ، تہہ در تہہ اظہاریے سے کام لیتے اور سوالات کے لامتناہی سلسلوں کو سہ رستوں اور چورستوں تک لے آتے ہیں۔یہ خوبی مجموعے کے بیشتر افسانوں میں موجود ہے کہ ایک مخصوص طرز فکر اور طرز احساس ہے جس کا اظہار بیگ احساس کی کہانیوں میں رواں دواں ہے۔
وارث علوی کی بات سے اتفاق ہے کہ بیگ احساس کا امتیاز ان کی کہانیوں کا انوکھاپن اور ا چھوتا پن ہے۔ یہ انوکھا پن اور اچھوتا پن بیگ احساس کے لہجے کی نفاست اور نرمی کے سبب بھی ہے۔ماضی، حال اور مستقبل کی قید میں آدمی کی ناگفتہ حالت اور سیاسی جبر کے سبب پیدا ہونے والی مایوسی کے اظہار کے سبب بھی ہے۔ اپنے فنی رچاؤ اور اظہار میں بیگ احساس محتاط ہیں۔ مدھم لہجے میں سلگتے ہوئے انسانی جذبات اور تجربات کو بیان کرتے ہیں۔’دخمہ‘ ، مدھم سلگتے ہوئے جذبات کی آنچ میں ملفو ف افسانوں کا مجموعہ ہے اسی لیے یہ کتاب زندگی کی کتاب ہے۔
* بیگ احساس کی کتاب ’دَخمہ‘ اور ہماری زندگی
رحمن عباس
بیگ احساس دراصل ان افسانہ نگاروں میں نمایاں ہیں جنھوں نے جدیدیت کی تحریک اور جدیدیت کے دور میں متعارف کی گئی کہانی کی تعریف سے انکار کیاہے۔ یہ انکار چالیس سال پہلے ایک اہم ادبی اور فنی فیصلہ تھا کیونکہ تب بیشتر لکھنے والے جدیدیت کی مہیا کی گئی فریم میں افسانہ لکھنے کو ہی افسانہ تصور کرنے کی غلطی کر رہے تھے۔ بیانیہ کہانی ، کردار کی بھرپور عکاسی، اطراف کی سماجی و سیاسی زندگی کا عکس اور تاریخی اور ثقافتی شکست وریخت کہانی کا عیب قرار دیے گئے تھے۔کہانی صنائع بدائع کی نمائش ، علامتوں کے زوال پر مبنی سرکس اور معنی سے محروم پیچیدہ عبارتوں کا البم قرار دی گئی تھی۔ تجربہ، علامت یا پیچیدگی بھی فن ہے لیکن اظہار کی جڑیں ذات کی تہہ سے تعلق نہ رکھتی ہوں تو کمزوری کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس کمزوری کو چھپانے کے لیے فکشن کی جمالیات کو شاعری کے میزان پر تولنے کی کوشش کی گئی ۔ حالانکہ بعد میں یہ اعتراف بھی کیا گیا کہ بیدی، منٹو، پریم چند، کرشن چندر، عصمت اور عینی آپا کی روایت سے الگ افسانے لکھنے کی کوشش تھی۔ادب کوشش نہیں بلکہ ذات کے کنویں سے اٹھنے والی فطریں آوازیں ہیں۔ نیر مسعود کے یہاں یہ فطری پن دیکھا جا سکتا ہے۔ محض الگ لکھنے کے لیے الگ جملے گڑھنا ادبی سیاست کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
بیگ احساس روایت کے منکر نہیں ہیں بلکہ وہ روایتی اردو افسانے کی فریم میں اپنے طرزِ تحریر اور پیش کش کے حوالے اپنی شناخت بناتے ہیں۔ موضوعاتی سطح پر بیگ احساس کاکرافٹ بڑی حد تک ان کے ان معاصرین سے الگ ہے جنھوں نے بیانیہ کہانی کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ اس کرافٹ کی ایک بہت بڑی فنی خوبی یہ ہے کہ بیگ احساس پر شمالی ہند کی لسانیاتی ساخت اور تہذیبی سطح پر شمال کی زندگی کا کوئی اثر نہیں ہے۔ انھوں نے جنوبی ہند کی حسیت، لسانی امتیاز اور فکری انفرادیت کو شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنی کہانیوں کے بین السطور میں محفوظ کر لیا ہے ۔ ان کی کہانیوں کے ساختیاتی مطالعے اور تہذیبی پس منظر پر جب بھی بات ہوگی یہ عناصرکھل کر سامنے آئیں گے۔ ان کی کہانیوں کا محور حیدرآباد کا کلچر، تاریخ، معاشرت، مذہبی رواداری ۔۔۔اور کلچر ، تاریخ اور رواداری کے خلاف سیاست کی بساط پر پھیلائی ہوئی شطرنج کے انفرادی زندگی پر پڑنے والے اثرات ہیں۔ کس طرح ایک علاقہ اپنی شناخت سے سیاسی جبر کے تحت محروم کر دیا جاتا ہے۔ کس طرح ایک فرقے کے انحطاط کے لیے فسادات کا جال بچایا جاتا ہے ۔کس طرح لوگوں کی مابین تفرقہ پیدا کیا جاتاہے۔ دوسری طرف مذکورہ غیر جمہوری اور غیر انسانی سیاسی سازشوں کا انسانی رشتوں پر کیسا ہولناک اثر ہوتا ہے۔یہ مسئلہ محض افسانہ نگار کا مسئلہ نہیں بلکہ ہندستان کے ہر فرد کا مسئلہ ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو وجودی کرائسس اور المیاتی افکار کو جنم دیتے ہیں۔شناخت کے بحران کی جڑیں بھی اسی سیاسی مفاد پرستی میں پیوست ہیں جو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے افراد کو مذہب کے خانوں میں تقسیم کرتا ہے۔بیگ احساس نے ان موضوعات کا احاطہ تو کیا ہے لیکن وہ کہیں نہ جذباتی ہوئے ہیں اور نہ رومانی بلکہ کہانی کے فارم کو ایسے برتا ہے کہ موضوع کی عمومیت فن کاری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔وارث علوی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے انحطاط ، زوال اورکسمپری کی کہانی سناتے ہوئے بیگ احساس بھلے کلبیت اور قنوطیت کے شکار نہ ہوں لیکن ایک گہرا غم جو ہڈیوں کو تک پگھلاتا ہے ان کے قلم کی روشنائی سے ٹپکنے لگتا ہے۔
یہ جو گہرا غم ہے یہ بیگ احساس کی کہانیوں میں کہیں بہت زیریں سطح پر بہتا رہتا ہے۔ اس زخم کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں مثلاً معاشرتی اور معاشی سطح پر مسلمانوں کا انحطاط، تہذیبی زندگی کی پرشکوہ روایت کے خلاف سازشیں، فسطائی قوتوں کے جبر کے سائے میں انسانی رشتوں کے درمیان پیدا کی گئی خلیج لیکن دوسری طرف بیگ احساس نے بلاتکلف مسلم معاشرے کی دقیانوسیت، مذہبی سخت گیری، سطحیت، حرصِ دولت، دولت کی پیداکردہ مصنوعیت ، عا لمی اور ملکی سطح پر جاری شدت پسندی کے مدمقابل مسلم معاشرے میں پنپنے والی فرسودگی کا نوحہ بھی اپنی کہانیوں میں پیش کیا ہے۔ یہ ایک مکمل فضا ہے جس کا احساس ’دَخمہ‘، ’رنگ کا سایہ‘ ، ’نمی دانم کہ‘،’ شکستہ پر‘،’ دھار ‘ ،’کھائی‘، ’چکر ویو‘، ’سانسوں کے درمیان‘ اور نجات جیسے افسانوں میں ہوتا ہے۔ یہ افسانے اسلوبیاتی سطح پرکسی معجزاتی یا چونکانے والی فضا میں قاری کوگرفتار کرنے کی کوشش نہیں ہیں بلکہ اپنے فارم کی وجہ سے سامنے کی حقیقتوں میں پنہاں رمز کو فن کاری میں پیش کرتی ہیں۔ گوپی چند نارنگ نے بیگ احساس کی فن کاری کی اس خوبی کو محسوس کیا ہے اور لکھا ہے کہ بیگ کی کہانیوں میں موضوع کے ساتھ ان کے فنکارانہ برتاؤ سے قاری کا ذہن متاثر ہوتا ہے۔بلاشبہ ’دخمہ‘ مجموعے میں شامل تمام افسانوں کو ایک ساتھ پڑھنے کے بعد قاری جس بات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے وہ ہے افسانہ نگارکی فن کارانہ صلاحیت جس کے دم پر وہ تکنیک سے ماورا، کرتب بازی کا منکر ہو کر، سادہ بیانیہ اسلوب میں ہماری زندگی کی سنگلاخیوں، تبدیلیوں، تبدیلیوں کے محرکات، ہماری ثقافتی زندگی کی شکست اور تمدتی کسمپری کا نقشہ بھی کھینچ دیتا ہے اور ہمیں ان باتوں سے بھی آشنا کرتا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہونے کے باوجود ہماری نظروں سے اوجھل ہوا کرتی ہیں۔
بیگ احساس کا سماجی، ثقافتی اور معاشرتی شعور بہت گہرا ہے جو ان کی کہانیوں کو گہرائی عطا کرتا ہے۔یہ گہرائی اسی لیے قائم ہوئی کہ بیگ احساس غیر جذباتی اور غیر جانبدار ہو کر سماجی، ثقافتی اور معاشرتی مسائل نیز ان مسائل سے پیدا ہونے والی صورت حال کو بیان کرتے ہیں۔ گجرات مسلم مخالف قتل عام ہندستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے اور بہت فطری ہے کہ اگر کوئی سادہ لوح قلم کار اس موضوع پر لکھنا چاہے تو جذباتیت اور جانبداری کا شکار ہو جائے لیکن کس ہنر مندی سے بیگ احساس نے خود کو کہانی سے الگ کر کے تاریخ اور رزمیہ کا استعمال کرکے گجرات کے فسادات کی ہولناکی اوراس ہولناکی سے پیدا ہونے والی المیاتی صورت حال کو کہانی ’چکرویو‘ میں بیان کیا ہے، محسوس کرنے والی بات ہے۔اسی شاندار غیر جانبدارانہ اور غیرجذباتی انداز کی عمدہ مثال ان کی مشہور کہانی ’ دخمہ‘ ہے۔اس کہانی کا تعلق حیدر آباد کی سیاست ، تاریخ، سیاسی جبر، مسلمانوں کی نسل کشی، پولیس ایکشن کی ہیبت ناکی اور لسانی سیاست کے اُس تماشے سے ہے جس نے جدید ہندستان کی نیو تو رکھی لیکن جنوب میں مسلم تشخص کو پامال کرنے کی ابتدا بھی کی ۔کہانی میں دخمہ، میکدہ اور مسجد اہم علامتیں ہیں جو عقائد، وابستگی اور بدلتی اقدار کی پروردہ اور پیداکردہ دردناکی کو پیش کرتی ہیں۔ یہ محض علامتیں نہیں بلکہ ہما ری مشترکہ زندگیوں کی کلیدیں ہیں۔ یہ تہذیب کے تھیٹر بھی ہیں اور مستقبل سے منسلک ماضی کی نشانیاں بھی ہی۔دَخمہ ،شہر کی موت کے ساتھ تہذیب کی موت کی بازگشت بھی ہے اور یادوں کا ایک د فینہ بھی ہے۔ کہانی اپنے فارم اور کرافٹ میں موضوع کی طرح تاثیر پذیری کو جذب کیے ہوئے ہے اور اسی لیے جس گہرے حزنیہ کو کہانی بیان کرتی ہے اس کا اثر قاری پر براہِ راست مرتب ہوتا ہے ۔اس کہانی میں جزئیات اور موضوع کی پیش کش، ترتیب متعدد تعبیروں کے لیے گنجایش پیدا کرتی ہے۔ معاصرعالمی سیاست ، ملکی حالات ، مذہبی رسوم اور ماضی سے وابستگی جیسے اہم نکات پر اس کہانی کے پس منظر میں مکالمہ ممکن ہے۔
’رنگ کا سایہ‘ اور’ سنگ گراں‘ بیگ احساس کے دو قدرے مختلف افسانے ہیں۔دونوں افسانے مرد اور عورت کے رشتے کی نوعیت اور رشتے میں موجود امکانات کو گرفت میں لانے کی کوششیں ہیں ۔لیکن’ رنگ کا سایہ ‘ اردو میں محبت کی کہانیوں کی فہرست میں ایک اضافہ ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اردو میں محبت کے موضوع پر ایسے افسانے کم ہیں جو فن کاری کی تقاضے بھی پورے کرتے ہوں اور محبت کی پراسراریت، ایمائیت، بے ساختگی، جنون، جسم کی کشش اور اظہار سے لبریز بھی ہوں۔حیدرآباد میں مسلم معاشرت کے زوال کے پس منظر میں تعمیر اس کہانی میں جہاں تفاخر اور مقامی افراد اور مسلمانوں کے درمیان موجود تفاوت کو پیش کرتی ہے وہیں اُس سیاست کو بھی پیش کرتی ہے جو اب ہندستان میں عام ہوگئی ہے۔ یہ سیاست افراد اور مذاہب کے درمیان نفرت پھیلانے سے بھی عبارت ہے اور ایک مخصوص مذہبی شناخت کو نشانہ بنانے کا جواز بھی ہے۔سیاست اور سماجی حقیقت کی کوکھ سے کس طرح ایک معصوم محبت جنم لیتی ہے اور کس طرح سیاست اور لوگوں میں تفریق پیدا کرنے والے عناصر اس محبت کو کچلتے ہیں، بہت معمولی بات ہوتی لیکن افسانے کی بنت، کرافٹ اور ایک مستقل احساسِ گم شدگی اس کہانی کو معمولی عشق کی کہانی بننے سے بچاتا ہے ۔ دوسری طرف عشق کی جلوہ گری ، عشق کی چاہ اور عشق کی پیدا کردہ فسوں کاری کہانی میں ایک مخصوص احساس شامل کرتی ہے جو پڑھنے والے کے دل میں تحلیل ہوتا چلا جاتا ہے ۔اس کے برعکس’ سنگ گراں ‘ میں عورت کی باطنی کیفیات اور نسائی الجھنوں کو پیش کیا گیا ہے۔ عورت جنس اور بچے کی خواہش کے مدار میں کس طرح اپنے وجود کی صلیب اٹھائے چلتی ہے ، ہم محسوس کرتے ہیں۔بیگ احساس نے اس کہانی میں کئی conflicts ایک ساتھ پیش کیے ہیں۔ مثلاً کس طرح مذہب فرد پر اپنی اخلاقیات مرتب کرتا ہے ؟ کس طرح معاشی صورت حال جذبات کو کچلتی ہے؟ کس طرح فطرت اپنے تحفظ کی کوشش اورعورت بچے کی تمنا کرتی ہے؟ کس طرح ایک شکستہ عورت زندگی کا استعارہ بننے کی طاقت رکھتی ہے۔
ان دو افسانوں کی نہج پر ایک تکون بناتی ہوئی کہانی ہے ،’شکستہ پر‘۔ اس کہانی میں محبت کی ایک الگ تصویر پیش کی گئی ہے۔ اس تصویر میں عورت کی insecurities اہم ہیں ۔یہ انسکیورٹیز جوان ہوتی ہوئی بیٹی کے سبب ہیں جو اپنے سوتیلے باپ کی طرف التفات سے پیش آتی ہے۔ اس آدمی کے ساتھ اس کی ماں شادی سے پہلے ایک خاص تعلق رکھتی تھی اور طلاق کے بعد دونوں شادی کر لیتے ہیں۔ ’شکستہ پر‘ ایک اچھی نفسیاتی کہانی ہے اور بیگ احساس نے بڑی نفاست سے عورت کی نفسیاتی الجھنوں کو پیش کیا ہے۔ اس کہانی میں عائلی زندگی کی الجھنیں، والدین اور ڈھلتی عمر کے عورت پر ہونے والے اثرات کو بھی خوب صورتی سے برتا گیا ہے۔ مرزا حامد بیگ نے اس کہانی کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نفسی الجھاوؤں کو ضبطِ تحریر میں لاتے ، بیگ احساس ، تہہ در تہہ اظہاریے سے کام لیتے اور سوالات کے لامتناہی سلسلوں کو سہ رستوں اور چورستوں تک لے آتے ہیں۔یہ خوبی مجموعے کے بیشتر افسانوں میں موجود ہے کہ ایک مخصوص طرز فکر اور طرز احساس ہے جس کا اظہار بیگ احساس کی کہانیوں میں رواں دواں ہے۔
وارث علوی کی بات سے اتفاق ہے کہ بیگ احساس کا امتیاز ان کی کہانیوں کا انوکھاپن اور ا چھوتا پن ہے۔ یہ انوکھا پن اور اچھوتا پن بیگ احساس کے لہجے کی نفاست اور نرمی کے سبب بھی ہے۔ماضی، حال اور مستقبل کی قید میں آدمی کی ناگفتہ حالت اور سیاسی جبر کے سبب پیدا ہونے والی مایوسی کے اظہار کے سبب بھی ہے۔ اپنے فنی رچاؤ اور اظہار میں بیگ احساس محتاط ہیں۔ مدھم لہجے میں سلگتے ہوئے انسانی جذبات اور تجربات کو بیان کرتے ہیں۔’دخمہ‘ ، مدھم سلگتے ہوئے جذبات کی آنچ میں ملفو ف افسانوں کا مجموعہ ہے اسی لیے یہ کتاب زندگی کی کتاب ہے۔
*

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: