آہ قاضی عبدالستار:زین شمسی

آہ قاضی عبدالستار
آسمان پر سرخ ستارہ تازہ زخم کی طرف پھوٹ نکلا ۔
یادوں کے گھوڑے لگامیں توڑ کر بھاگ نکلے ۔
اور متعدد دَمدار مکالمے کےخلاق قاضی عبدالستار اب ہمارے درمیان نہیں رہے ۔
ناولوں کی ایک قطار شکست کی آواز ،شب گزیدہ ، دارا شکوہ ،صلاح الدین ایوبی ، غالب ، حضرت جان اور متعدد افسانوں میں نمایاں ’پیتل کا گھنٹہ ہمیں قاضی عبد الستار کی عظمت کی یاد دلاتا رہے گا۔کسی نے خوب کہا ہے کہ ان کے قلم میں گزشتہ عظمتوں اور کھوئے ہوئے ماحول کو دوبارہ زندہ کرنے کی حیرت انگیز قوت ہے‘‘۔
قرۃ العین حیدر کے الفاظ ہیں کہ ’’شب گزیدہ سے بہتر ناول خود قاضی عبدالستار ہی لکھ سکتے ہیں‘‘۔ ممتاز مصنفہ ممتاز شیریں کا خیال ہے کہ ’’داراشکوہ اردو کا پہلا ناول ہے، جسے ہم دنیا کے بڑے ناولوں کے ساتھ رکھ سکتے ہیں‘‘۔ کسی کی تعریف میں کنجوسی برتنے والے شمس الرحمٰن فاروقی کی دریا دلی دیکھئے ، کہتے ہیں کہ ’’ان کا فن ایڈ گرائلن پو کی یاد دلاتا ہے۔ پروفیسر احسن فاروقی کا خیال ہے کہ، قاضی عبدالستار کے ناولوں سے عالمی معیاروں کی خوشبو آتی ہے‘‘۔ ہندی کے مشہور ناول نگار بابا گرجن نے قاضی عبدالستار کو دوسرا پریم چند کہا ہے۔
بقول علامہ اعجاز فرخ’ میں تو صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ’’اردو کو نثر نوردی کا شوق ہوا تو محمد حسین آزاد سے صحرا میں گل کھلائے اور قاضی عبدالستار کے قلم میں روشنائی سے آبیاری کی تو مغلیہ سلطنت کی حقیقی شان و شوکت کو قاضی عبدالستار جیسے بوریا نشین کے قدموں میں ڈھیر کردیا‘‘
اعجاز فرخ نے ان کے بارے میں ان کے ہی انداز میں ان کی سوانح پر ایک نظر ڈالی ہے ، لکھتے ہیں ’ “1933کی شب اپنی ردادرست کر رہی تھی کہ آفتاب رات کو بے حجاب دیکھنے کے لئے صدیوں سے تعاقب میں ہے اور شب تھی کہ اب تک اپنے گیسوئے برہم سنبھال کر چاندنی کی ردا اوڑھ کر نکلتی اور آفتاب کی آہٹ سے پھر چھپ جاتی۔ اودھ کے ایک دیہات سیتا پور میں اسی شب اوردن کی آنکھ مچولی کے درمیانی لمحہ میں ایک نومولود کی پہلی آواز نے جہاں ممتا کے سینے کو ٹھنڈک بخشی۔ باپ کے چہرے کونوید سحر نے مسرت سے پرنور کردیا۔ باپ نے نومولود کے کان میں اذاں دے کرنام عبدالستار رکھا۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات گھر کا ماحول توتھا ہی، اساتذہ نے بھی کوئی کمی نہ رکھی۔ 1948ء میں میٹرک اونچے نشانات سے کامیاب کیا، پھر 1950ء میں آرٹی ٹی کالج سے انٹرمیڈیٹ میں اول آئے، 1956ء میں اردو مسلم یونیورسٹی میں بحیثیت لکچرر مقررہوئے، 1957ء میں پروفیسر رشید احمدصدیقی کی نگرانی میں ’’اردو شاعری میں قنوطیت‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھا اور ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔قاضی عبدالستار ایک مکمل تہذیب، بے باک، خوش لباس، خوش ذوق، خوش بیان، خوش باش، خوش خوراک، صاحب طرز افسانہ نگار، منفرد اسلوب کے ناول نگار اور الفاظ کے بے شمار قبیلوں کے سردار ہیں۔ ان کا طرز بیان کبھی الفاظ کا محتاج نہیں رہا، بلکہ ہر لفظ کو اس پر ناز رہا کہ قاضی اپنے محل استعمال سے الفاظ کو معنی کی نئی خلعتیں اور لفظوں کے قبیلوں کی کنواریوں کو رنگین قباؤں اور پیرہنوں سے ملبوس کر کے چوڑیوں کی کھنک سے طرز سکوت اور خاموشی سے تکلم کا ہنر عطا کرتے ہیں۔ قاضی عبدالستار کو جب مسلم یونیورسٹی میں پروفیسری کے لئے کہا گیا تو انھوں نے یہ شرط رکھی کہ وہ بھی انٹر ویو لینے والوں سے تین سوال کریں گے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے، تو قاضی صاحب نے جواب دے دیا کہ مجھے پروفیسری کا خبط نہیں ہے۔ ہندوستان میں اس بے باکی اور وضعداری کی صرف دو ہی مثالیں ملتی ہیں، ایک قاضی عبدالستار اور دوسری زینت ساجدہ ،زینت آپا نے تو مڑ کر بھی نہیں دیکھا کئی مہینے پروفیسری انتظار میں رہی، لیکن قاضی صاحب کا بحیثیت پروفیسر انتخاب ہوا، بلکہ قاضی صاحب کا تقرر ہوا تو وہ علی گڑھ میں موجود بھی نہیں تھے۔
وہ قاضی کی حب الوطنی کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ قاضی کے پاکستان کے ادبی سفر کے دوران اس وقت کے صدر جناب ضیاء الحق نے قاضی عبدالستار کو پاکستان کی شہریت کے ساتھ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدہ کی پیشکش کی توقاضی نے اس عذر کے ساتھ مسترد کردیا کہ جس ملک نے مجھے پدم شری کے اعزاز سے نوازا ہے، میں اس مٹی کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔
اعجاز فرخ صاحب ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قاضی کے ہندو دوستوں نے کہا کہ ’’آپ صرف یہ تسلیم کرلیں کہ ہندی زبان سے واقف ہیں تو ناول دارا شکوہ پر دو لاکھ کا انعام حاضر ہے‘‘۔ انھوں نے جواب دیا ’’ میں واقعی ہندی نہیں جانتا تو تسلیم کیسے کرلوں، میں اس رقم کے عوض اپنی دیانت تو نہیں بیچ سکتا‘‘، جناب فخرالدین علی احمد نے جو اس وقت صدر ہندوستان تھے قاضی صاحب کو ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیو کے باوقار عہدے اور دیگر مراعات سے نوازنا چاہا تو قاضی عبد الستار نے صاف کہہ دیا کہ وہاں بھی سارے کام ہندی میں ہوں گے اور مجھے ہندی نہیں آتی۔
قاضی عبدالستار کے لئے علی گڑھ بیک وقت خطہ امن اور محاذ جنگ رہا ہے، قاضی نے اپنے مخالفین سے برسہا برس خاموش جنگ کی ہے، وہ کبھی کبھی اپنے آپ سے بھی لڑتے ہیں۔ انھیں خاموش رہ کر مخالف کو جھنجھلاہٹ میں مبتلا کرنے کا ہنر خوب آتا ہے۔ ان کی خاموشی بعض وقت اتنی طویل ہوجاتی ہے کہ مخالف پریشان ہوجاتا ہے۔ انھیں انجمن سے زیادہ تنہائی میں لطف آتا ہے، ان کے خیال میں تخلیق خلوت کی کوکھ میں پرورش پاتی ہے، ان کے تین درجن سے زائد افسانے ان کے ناولوں کی طرح ہندوستان کے دیہات، شہر، محلاتی زندگی اور تاریخ کے پوشیدہ گوشوں کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن ہر تخلیق انسانی نفسیات کی نہ صرف مکمل عکاس ہے، بلکہ تحت الشعور کے نہاں خانے میں پوشیدہ احساس کو شعور کی سطح پر باریاب کرتی ہے۔ ان کے بیشتر افسانوں کا ترجمہ ہندوستان کی مختلف زبانوں میں ہوچکا ہے۔
چونکہ قاضی عبدالستار کا تعلق زمیندار گھرانے سے ہے، اسی لئے ان کے ناولوں میں زمینداروں کی طرز زندگی اور معاشرتی نظام کا بہت گہرا مشاہدہ اور تجزیہ ملتا ہے، جس میں زمیندار اور تعلقداروں کا کردار ہی بنیادی ہوتا ہے۔ اسی لئے کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ قاضی اشرافیہ طبقہ کے طرفدار ہیں ، لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ جس اشرافیہ طبقہ کی بدحالی کا ذکر قاضی کر رہے ہیں وہ دراصل پورا مسلم طبقہ ہے ، جو آہستہ آہستہ اپنے شاندار ماضی سے بے حال مستقبل کی طرف گامزن ہے۔ان کا قلم اس جاہ حشمت کی آواز ضرورہے جو مسلمانوں کے شاندار ماضی کو ببانگ دہل کاغذ پر اکیرتا ہے ، لیکن ساتھ ہی ساتھ ان کاقلم اس کسک سے بھی دوچار ہے جو مسلمانوں کے شاندار ماضی کو بھیانک اندھیروں دھکیل رہا ہے۔
ناول صلاح الدین کا ایک اقتباس ’ ’اپنے مرشد اور الموت کے ساحر سے پوچھنا کہ اس کی جھولی میں کوئی ایسا بھی خنجر ہے جو کرک کے رہزن ، طرابلس کے ڈاکو اور بیت المقدس کے غاصب پر بھی چمک سکے یا اس کی ملعون آستین میں وہی پلید چھرے ہیں جو افرنجیوں سے نبع آزما لشکروں پر چلا کرتے ہیں۔ اس مارِ آستین کو شاید علم بھی نہ ہو کہ فلسطین کے فاتح عیسائی لشکر نہیں ، اس کے کمبخت خنجر ہیں۔ ہم تیری زندگی کی حفاظت کریں گے تاکہ تو اس پہاڑی چوہے کو ہمارا پیغام پہنچا سکے کہ ہم شیروں کی طرح للکار کر شکاری پر جھپٹتے ہیں ۔ اس کو خبردار کر دو کہ اپنے لشکروں کو استوار کر لے ، اپنے قلعوں کو آراستہ کر لے۔ ہماری یلغار ان تاجداروں کا محاصرہ نہیں جو موت کے خوف سے اپنے لشکر اٹھا لائے ۔ ہم جب رکاب میں پائوں رکھتے ہیں تو اس یقین کے ساتھ کہ شہادت ہماری رکاب پکڑے گی اور رضوان ہمیں اتارے گا۔ ہماری موت لڑائی کا خاتمہ نہ ہوگی۔ ہمارا ہر سردار صلاح الدین ہوگا جسے اس کے زمانے نے تلوار پکڑ ا کر اٹھایا ہے ، ہمارے جلو میں زربفت کے لباسوں اور جواہرات میں لپٹے ہوئے امیر و رئیس نہیں ہیں جو عزت کی موت اور ذلت کی زندگی کا فرق نہیں جانتے۔ ہماری رکاب میں وہ مجاہد ہیں جو موت کی جستجو میں دشمن کی صفیں چھانتے گھومتے ہیں….. جائو اور خدا نے چاہا تو اسی مہینے الموت کے دروازے پر تمہارے شیخ الجبال کی لاش لٹک رہی ہوگی۔‘
اور حضرت جان کا ایک اقتباس پڑھئے
’ بجو وہ عورت تھی جس کے لئے کوئی ہابیل کسی قابیل کو قتل کر سکتا تھا ۔ چلتی تو بدن کا ایک ایک عضو ناچنے لگتا ۔ رکتی تو گلابی پتھریلے گوشت کے گنبد لرزنے لگتے۔ کھڑی ہوتی تو ادا سے بیٹھتی تو انداز سے ۔ کلائیوں سے ٹکنوں تک کپڑوں میں چھپی ہوتی تو بھی آنکھوں کو محسوس ہوتا کہ ننگی کھڑی ہے ۔ تہذیب نے ایسی ہی عورتوں کے فساد سے بچنے کے لیے لباس کا استعمال کیا ہوگا۔ وہ اس عمر میں بھی غضب کی کاٹ اور قیامت کی دھار رکھتی تھی۔….جب تک کنواری رہی بوڑھے بوڑھے عزیز دار رشتوں کی سوغات لے کر آتےاور آنکھیں سینکتے رہتے ، جب تک اٹھائے نہ جاتے ڈٹے رہتے تھے۔‘
اور آخر میں قاضی عبدالستار پر لگے وہ الزام کہ وہ شریف زادوں اور زمینداروں کے طرفدار ہیں تو میں اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا کہ شریف زادوں اور زمینداروں کے اس اوقات اور اخلاق و اخلاص کو انہوں نے’ پیتل کے گھنٹے‘ کے حوالے سے دنیا کے سامنے لا دیا ہے آپ بھی غور کیجئے اور سوچئے کہ انسان جس ماحول میں رہتا ہے وہ اس کی تصویر کشی کو بھی بخوبی جانتا ہے۔
’ شاہ جی ریشمی کرتا اور مہین دھوتی پہنے آئے اور میرے برابر بیٹھ گئے اور یکے والے نے میرے اور ان کے سامنے ’ پیتل کا گھنٹہ‘ دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر رکھ دیا۔ گھنٹے کے پیٹ میں مونگری ، مونگری کی چوٹ کا داغ بنا تھا۔ دو انگل کے حاشیہ پر سوراخ میں سوت کی رسی پڑی تھی۔ اس کے سامنے قاضی انعام حسن آف بھسول اسٹیٹ اودھ کا چاند اور ستارے کا مونوگرام بنا ہوا تھا۔ میں اسے دیکھ رہا تھا اور شاہ جی مجھے دیکھ رہے تھے۔ اور یکہ والا ہم دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ یکے والے سے رہا نہیں گیا ، اس نے پوچھ ہی لیا۔
کا شاہ جی گھنٹہ بھی خرید لایو؟
ہاں ! کل شام کا معلوم نائی ، کا وقت پڑا ہے میاں پر کہ گھنٹہ دے دیہن بلائے کے۔ ایی…
ہاں وقت وقت کی بات ہے…شاہ جی نا ہیں تو ای گھنٹہ….
اے گھوڑے کی دُم راستا دیکھ کر چل….یہ کہہ کر اس نے چابک جھاڑا۔
میں ….میاں کا برا وقت….چوروں کی طرح بیٹھا ہوا تھا، مجھے معلوم ہوا کہ یہ چابک گھوڑے کے نہیں میری پیٹھ پر پڑا ہے۔
تاہم میں جب کسی ادیب کے بارے میں لکھتا ہوں تو اس کے تصانیف کے اقتباسات کو سامنے نہیں لاتا کہ جو اردو طبقے ہیں وہ اس سے آگاہ ہوتے ہیں اور جو نہیں ہوتے ان کے لیے اقتباسات بھی کوئی معنی نہیں رکھتے۔ قاضی صاحب کے درج بالا تین اقتباسات کا ذکر کر کے میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ قاضی عبدالستار صاحب اشرافیہ طبقہ کی دفاع میں کبھی نہیں اترے بلکہ انہوں نے اس وقت اور اوقات کو نگاہ میں رکھا جو دنیا بھر کے مسلمانوں کی آپ بیتی ہے۔ ہمارے پاس اگر صلاح الدین ایوبی جیسا جانباز رہا ہے تو ہمارے پاس حضرت جان کی بے جان ہوتی ہوئی قدریں بھی ہیں اور ہمارے پاس ایسے پاسدار لوگ بھی ہیں جو اپنے گھر کی عزت اور ناموس کے لیے خاموشی کے ساتھ خاندانی پیتل کا گھنٹہ بھی بیچ دیتے ہیں تاکہ شرافت و نجابت کو ٹھیس نہ لگے اور فقیری میں بھی شاہی جلال کا احساس ہو۔
قاضی صاحب نہیں رہے ، کبھی پروفیسر محمد حسن نے کہا تھا کہ ’’ہم قاضی عبدالستار کی بڑائی اس لئے نہیں سمجھ پارہے ہیں کہ وہ ہمارے زمانے میں ہیں‘‘۔ مگر اب وہ ہمارے زمانہ میں نہیں ہیں تو ہم کھل کر ان کی بڑائی کر سکتے تھے۔ میں تو اس وجہ سے خود پر فخر محسوس کروں گا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں وہ مرے استاذ رہے اور ان کے مکالمہ کی گونج آج بھی یادوں میں محفوظ ہے ، مگر خود کو بے حد بے بس محسوس پاتا ہوں کہ ان کے انداز بیاںکی شمہ برابربھی نقل نہیں کر پایا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: